”ہمارے گھر کے دروازے کے باہر ڈیوٹی کرنے والے فوجی اونچی آواز میں۔۔۔“ پرویز مشرف نے حکومت کا تختہ الٹا تو جاتی امراءپہنچنے والے فوجی کیا کچھ کرتے تھے؟ بیگم کلثوم نواز کی کتاب میں لکھا واقعہ جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں

”ہمارے گھر کے دروازے کے باہر ڈیوٹی کرنے والے فوجی اونچی آواز میں۔۔۔“ پرویز ...
”ہمارے گھر کے دروازے کے باہر ڈیوٹی کرنے والے فوجی اونچی آواز میں۔۔۔“ پرویز مشرف نے حکومت کا تختہ الٹا تو جاتی امراءپہنچنے والے فوجی کیا کچھ کرتے تھے؟ بیگم کلثوم نواز کی کتاب میں لکھا واقعہ جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی میت پاکستان لانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ ان کی تجہیز و تکفین کے انتظامات بھی مکمل کر لئے گئے ہیں اور اب میت پاکستان آنے کا انتظار ہے۔

بیگم کلثوم نواز ایک بہادر خاتون تھیں جنہوں نے پرویز مشرف کے دور میں جمہوریت کا علم بلند کیا اور اپنے شوہر کی رہائی کیلئے ایسی مہم چلائی کہ ہر کوئی ان کی صلاحیتوں اور بہادری کا معترف ہو گیا۔ بیگم کلثوم نواز نے ’جبر اور جمہوریت‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی جس میں اس وقت پیش آنے والے واقعات کا تفصیلی ذکر کیا۔ ان کی کتاب سے لیا گیا ایک ایسا ہی واقعہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے جسے جان کر آپ کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ بیگم کلثوم نواز لکھتی ہیں:

” جو فوجی ہمارے گھر کے دروازے کے باہر ڈیوٹی دیا کرتے تھے، ان کا یہ معمول تھا کہ دن رات اونچی آواز میں پنجابی گانے لگائے رکھتے تھے جو ہمیں پریشان کرنے کیلئے بھی تھا اور شاید اس پروپیگنڈہ کا حصہ بھی کہ یہاں ہیریں گائی جاتی ہیں اور بڑے ڈھول ڈھمکے ہوتے ہیں جبکہ اس گھرانے میں ان چیزوں سے پرہیز کیا جاتا رہا ہے بلکہ یہاں تو شادیوں پر بھی اس قسم کی روایتی بے ہودگیاں نہیں ہوتیں۔ اور جب کبھی ان فوجیوں سے گانوں کی ریکارڈنگ بند کرنے کیلئے کہا جاتا تو وہ ہمیں پریشان کرنے کیلئے اس کی آواز اور زیادہ تیز کر دیتے۔ شاید وہ ہمارے صبر کا امتحان لے رہے تھے یا شاید وہ ہمیں اعصابی تناﺅں کا شکار کرنا چاہتے تھے۔

ذہنی کرب اور اذیت کے یہ وہ لمحات تھے جب بے بسی اور بیچارگی کا احساس سوہان روح بن کر رہ گیا تھا۔ اس انتہائی پریشانی کے عالم میں ایک ہی سہارا تھا اور وہ آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیﷺ کے صدقہ سے اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کی رحمت ہے اور یہ اسی کا احسان اور فضل ہے کہ جس نے مشکل سے مشکل حالات میں کبھی مایوس نہیں ہونے دیا۔ گھر کا ہر فرد اپنا وقت ذکر اور استغفار میں گزرتا اور میرے سسر اور ساس کا تو یہ عالم تھا کہ ہر لمحہ جائے نماز پر ہی گزرتا تھا۔ “

مزید : قومی /ڈیلی بائیٹس