کیا آخری سپاہی ، آخری گولی والا آپشن ہی بروئے کار لانا ہوگا؟

کیا آخری سپاہی ، آخری گولی والا آپشن ہی بروئے کار لانا ہوگا؟
کیا آخری سپاہی ، آخری گولی والا آپشن ہی بروئے کار لانا ہوگا؟

  


مقبوضہ کشمیر کو بھارت کی آئینی اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہوئے ڈیڑھ ماہ ہونے کے قریب آرہاہے ،اس دوران ظلم وستم اور بربریت کا کون سا حربہ ہے جو آر ایس ایس کی نازی اور فاشسٹ سوچ کی حامل بھارتی حکومت اور قابض دہشت گرد فوج نے مظلوم کشمیریوں پر نہیں آزمایا ۔

ہزاروں کشمیریوں کو جن میں نوجوان اور بچے بھی شامل ہیں فاشسٹ فورسز نے گرفتار کرکے مقبوضہ کشمیر سے باہر جیلوں میں منتقل کیاہے اور مسلسل کیا جارہاہے ۔ درجنوں عفت ماآب بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی ہے اور آر ایس ایس کی فلسفے کی پیروکار غنڈہ نما بھارتی فوج کی جانب سے خواتین اور جوان بچیوں گھروں سے اٹھانے کاوحشیانہ اور شرمناک سلسلہ جاری ہے ۔

وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل نوحہ کناں ہیں ۔ بھارتی بربریت کا یہ عالم ہے کہ محرم الحرام کے جلوسوں کوبھی فائرنگ ، آنسو گیس اور پیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا گیاہے ۔کرفیوکے نفاذ سے لیکر اب تک درجنوں کشمیریوں کو شہید اورزخمی کیا جاچکا ہے جبکہ آباد ی کا ایک کثیر حصہ فاقوں اور بیماریوں کے ہاتھ دم توڑ نے پر مجبور ہوچکا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے باربار بڑے انسانی المیے کے جنم لینے کا خدشہ ظاہر کیا جارہاہے ۔ عالمی ذرائع ابلاغ کشمیریوں کی حالت زار پر مسلسل چیخ وپکار کررہے ہیں۔ وائس آف امریکہ جیسا ادارہ بھی عالمی برادری کے سامنے کشمیریوں کو درپیش مشکلات کی عکاسی کررہاہے جہاں تک پاکستانی میڈیا کا تعلق ہے تو سرکاری و نجی چینلز پر کشمیریوں کے حق میں پھرپور مہم چلاکر دنیاکے سامنے بھارتی ظلم وجبر کو بے نقاب کیا جارہاہے ۔

بھارت کی جانب سے کی جانیوالی غیر آئینی ترمیم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی الگ حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے بعد سے لیکر اب تک حکومتی سطح پر کشمیریوں کے لئے ہر قسم کی اخلاقی ، معاشرتی اور سیاسی مددکا اعادہ کیا جارہا ہے ۔ کشمیرکی ِخصوصی حیثیت کے خاتمہ کے بعد حکومت فوری طور پر اسے مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کرگئی جہاں اس پر بحث کی گئی اور اس بات کو تسلیم کرلیاگیا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے دورمیان دوطرفہ مسئلہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اس مسئلے کی ایک حیثیت ہے ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پاکستان کے پارلیمانی وفود کی جانب سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارت کے ظلم وزیادتی کواجاگر کرنے کیلئے مختلف ممالک کے دورے کئے گئے ہیں۔ او آئی سی کی جانب سے کشمیریوں کے حمایت کااعادہ کیاگیاہے ۔ وزیر اعظم عمران خان اب تک 13ملکوں کے سربراہان سے بات کرکے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کو اعتماد میں لے چکے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اسے حوالے سے سرگرم عمل ہیں ،مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطوں اور ملاقاتوں کے علاوہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں 58ممالک سے کشمیریوں کے حق میں بیان دلوانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

پاکستا ن بھر میں تواتر کے ساتھ حکومتی ونجی سطح پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں جلسے جلسوں اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل چوتھی بار مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی جا چکی ہے لیکن اس سب کے باوجود اگر حقائق دیکھے جائیں تو فاشسٹ بھارتی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ وہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام پر جبر استبداد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے بلکہ عالمی برداری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تمام تر مذمتوں اور احتجاج کے باوجودکشمیریوں پر ظلم کا ہر وہ حربہ آزما رہی ہے جس کو دیکھ کر شیطانیت بھی شرما جاتی ہے ۔

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر پاکستان ، او آئی سی اور عالمی برادری کی ان تمام ترکوششوں اور اقدامات کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتا اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کومسلسل مشق ستم کا نشانہ بنائے رکھتاہے تو کیا پھر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا” آخری سپاہی اور آخر ی گولی “والا آپشن ہی بروئے کار لانا ہوگا ؟

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...