کشمیریوں کو اعتماد میں لیا جائے

کشمیریوں کو اعتماد میں لیا جائے

  



اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر میڈم میشل باشلے نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات سے انسانی حقوق متاثر ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے،انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ کرفیو، لاک ڈاؤن میں نرمی، لوگوں کو بنیادی سہولتوں تک رسائی اور زیر حراست افراد کو اپنے دفاع کا حق دے،مجھے کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کی صورتِ حال کے بارے میں رپورٹس ملتی رہتی ہیں، کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے کسی بھی فیصلے پر کشمیریوں کو شامل کیا جائے، مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں اور مواصلاتی پابندیوں پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے،انہوں نے یہ باتیں ہیومن رائٹس کونسل کے42ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک اہم ادارے کی سربراہ کا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تذکرہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے اِس سے پہلے دُنیا کے بہت سے ادارے بھی اس جانب متوجہ کر چکے ہیں، لیکن بھارت نے اِن مطالبات پر کان نہیں دھرا اور پانچ ہفتے گزرنے کے باوجود کشمیر میں انسانی حقوق بُری طرح پامال ہو رہے ہیں،مواصلاتی رابطوں کا فقدان تو اپنی جگہ ہے، کھانے پینے کی اشیا تک دستیاب نہیں،کرفیو کے باقاعدہ نفاذ سے پہلے ایسی صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی کہ فوج نے مورچے سنبھالے ہوئے تھے اور ہر جانب کرفیو کا سماں تھا،ایسے میں لوگوں کو کھانے پینے کی بنیادی اشیا تک دستیاب نہ تھیں۔اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اشیا خورد نی کی قلت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، انسانی حقوق کی کمشنر نے جن حالات کی جانب توجہ دلائی ہے محض ان کے تذکرے سے حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آتے،اِس لئے اقوام متحدہ اور اس کے دوسرے اداروں کو عملاً بھی بعض اقدمات کرنے کی ضرورت ہے،ویسے تو سلامتی کونسل کا ایک اجلاس بھی منعقد ہو چکا ہے،جس میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا،لیکن اس متنازعہ مسئلے کو کس طرح حل کرنا ہے،اس جانب بھی تو کوئی پیش رفت ہونی چاہئے۔

امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیش کش کا اعادہ کر دیا ہے،لیکن کیا اس مقصد کے لئے کوئی اقدامات اٹھائے بھی جا رہے ہیں یا پہلے کی طرح صرف زبانی جمع خرچ ہو گا،کیونکہ اگر مودی نے پہلے یہ پیشکش مسترد کر دی تھی تو اب وہ اسے کہاں تسلیم کرنے والے ہیں،ایک بیان آئے گا کہ ہمیں ثالثی قبول نہیں اور اس پیشکش کا بھی پہلے جیسا حشر ہو گا، ایسے میں ضرورت تو عمل کی ہے، اور صدر ٹرمپ عالمی سپر پاور کے سربراہ کی حیثیت سے اس سلسلے میں موثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں،لیکن لگتا ہے اُن کی دلچسپی بھی کشمیر کے معاملے میں صرف زبانی کلامی ہے یا پھر انہوں نے محسوس کر لیا ہے کہ اس طرح کے بیانات جاری کر کے وقت گزارا جا سکتا ہے،اِس لئے انہوں نے بھی ایسا مشغلہ اختیار کر رکھا ہے، جس کا عملاً کوئی فائدہ نہیں، اگر وہ اسی طرح کی پیشکشیں دھراتے رہیں اور مودی پہلے کی طرح اُنہیں مسترد کرتے رہیں تو تصور فرمایئے اس سے صورتِ حال میں کیا جوہری تبدیلی آئے گی اور معروضی حالات کس طرح تبدیل ہوں گے۔

صدر ٹرمپ اگر ثالثی کی پیشکش میں سنجیدہ ہیں اور دِل سے سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ حق و انصاف اور راستی کی بنیاد پر حل ہونا چاہئے تو اس کے لئے بہترین راستہ اور روشنی اقوام متحدہ کی قراردادیں مہیا کرتی ہیں اوران قراردادوں کو خود بھارت کی قیادت نے نہ صرف تسلیم کیا تھا، بلکہ طویل عرصے تک وہ یہ مانتے بھی رہے کہ بھارت کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے کا پابند ہے۔اب بھی اگر دنیا کے منصف مزاج حکمران ان قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کریں اور کشمیریوں کو اُن کا حق دیں تو مسئلے کے حل کی راہ نکل سکتی ہے،انسانی حقوق کی کمشنر نے بھی اپنے خطاب میں اِس بات پر زور دیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کو اعتماد میں لے کر حل کیا جائے وہی اس مسئلے کے بنیادی فریق ہیں اور اس کے حل کے لئے جانیں تک قربان کر رہے ہیں،اب وہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے بھارتی فوج کے ظالمانہ محاصرے میں جی رہے ہیں اور ان کی زندگیاں اجیرن ہو کر رہ گئی ہیں۔دُنیا انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر بیانات جاری کر رہی ہے،لیکن یہ خلاف ورزیاں تصویر کا محض ایک مختصر حصہ ہیں،اصل مسئلہ کشمیریوں کے حق ِ خود ارادیت کا ہے۔اگر یہ مسئلہ منصفانہ بنیاد پر حل ہو جاتا ہے تو نہ صرف ایک قوم کو اس کا حق ملے گا،بلکہ اس کی وجہ سے خطے میں جو امن و استحکام آئے اس کی وجہ سے اربوں انسانوں کی زندگیوں میں امن و سکون کے لمحات میں اضافہ ہو گا اور جو لوگ جنگ کے خوف میں زندہ ہیں اُن کے اعصاب پُرسکون ہوں گے اور خطے میں خوشحالی کا ایک ایسا دور آئے گا،جس کی وجہ سے اربوں انسانوں کی زندگیاں بدل جائیں گی۔

مسئلہ کشمیر کے حل سے جنگ کے پھیلتے سائے سمٹ جائیں گے اور لوگ سکون کا سانس لیں گے،بھارت اِس وقت جو اربوں ڈالر اسلحہ کی خریداری پر خرچ کر رہا ہے وہ اپنی بھوکی جنتا کی زندگیاں بہتر بنانے پر خرچ کر سکے گا،جنہیں بنیادی سہولتیں تک دستیاب نہیں،حال ہی میں بھارت کا خلائی ایڈونچر دوسری مرتبہ ناکام ہوا ہے،لیکن اس نے اپنے اربوں انسانوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین کر خلائی سفر کا جو جنون پال رکھا ہے اس کا کوئی فوری فائدہ بھی سامنے نہیں آیا،اصل ضرورت تو اس بات کی ہے کہ جن کروڑوں لوگوں کو روٹی دستیاب نہیں اُنہیں روٹی مہیا کی جائے اور جو لاکھوں لوگ ممبئی کے فٹ پاتھوں پر زندگی گزار رہے ہیں اُنہیں چھت مہیا کی جائے،لیکن یہ تبھی ممکن ہو گا جب بھارتی حکومت اسلحہ کی بھٹیوں میں اربوں روپے جھونکنا بند کرے گی اور ترجیحات کے لحاظ سے خلائی مشن جیسے فضول شوق پالنا ترک کرے گی، امریکہ اور روس جیسی خوشحال ریاستوں کی ریس کرتے ہوئے اگر چاند پر کسی بھارتی کو اتارنا ہے تو پہلے اپنے بھوکوں کو خوراک اور ننگوں کو لباس تو مہیا کر دیا جائے اور وہ تنازعات تو طے کر لئے جائیں جس کی وجہ سے خطہ ہر وقت جنگ کے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...