”روح کربلا!“

”روح کربلا!“
”روح کربلا!“

  



محرم اور درد و ماتم میں صدیوں سے دامن چولی کا ساتھ ہے۔ غم حسینؓ میں اب تک اتنے آنسو بہائے جا چکے ہیں کہ اس کی مثال نہیں ملتی اور آئندہ بھی نہیں ملے گی۔ مگر افسوس یہ کہ مسلم امہ ابھی تک تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہے اور اسے نظام فکر کے طور پر کبھی پیش نہیں کیا جاسکا۔ اسلامی مکاتب، شیعہ اور سنی، ہنوز اس کی تفہیم سے ناآگاہ چلے آتے ہیں، بایں سبب عملاً اسے ایک مستقل واقعہ کی بجائے حادثہ ہی جانتے اور مانتے ہیں!پہلا سوال ذہن میں یہ ابھرتا ہے کہ یزید کافر، مرتد، مشرک یا منافق تھا؟ اس کی بدقسمتی کا باقاعدہ سفر تو دشت کربلا کی لہورنگ داستان کے بعد شروع ہوا۔ اس سے پہلے بدبخت مردود کو کس زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے یا کیا جانا چاہئے؟ اس سوال کا حقیقی جواب میرے ایک فاضل دوست رائے ارشاد کمال کالم نویس نے تلاشا اور خوب تلاشا ہے۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے ”روح کربلا“ جو جلد ہی اشاعت پذیر ہوا چاہتی ہے، میں اس موضوع کا حق ادا کر دیا ہے جو مسلمان قوم پر صدیوں پرانا فرض بلکہ قرض تھا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں لکھا کہ یزید کی نحوست و ملعونیت کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ قاتل حسینؓ قرار پایا، لیکن باوجود اس کے یزید کو کفر، ارتداد، شرک اور نفاق سے جوڑنا اضافی مقصود ہوگا۔

انہوں نے اپنی منفرد، حقیقی، تحقیقی اور عظیم کتاب میں کچھ ایسے ہی موضوعات کو چھیڑا ہے، جو اب تک زیربحت نہیں لائے گئے تھے۔ کربلا کے پس منظر و پیش منظر میں ہر شخص اور مسلک تضادات سے بھرا پڑا ہے۔ اندرونی و بیرونی متصادم نظریات و واقعات کا مجموعہ ان کے نقطہء ہائے نگاہ سے اتفاق کئے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ عجب ہے کہ یہ عنوان ان کے مقدر میں لکھا تھا۔روح کربلا میں حسینؓ شناسی کا واقعی فرض نبھایا گیا ہے۔جس میں جستہ جستہ اسلامی جہاد پر بھی محاکمہ درج ہے۔ اگر یزید کو کافر، مرتد، مشرک اور منافق نہیں کہا جاسکتا تو اسے کیا کہا جائے یا کہنا رداد بجا ہے؟ اور پھر امام عالی مقام کے قیام کی مقصدیت؟ انہوں نے یزید و ہمنوایان یزید کو ظالم اور ظالم دوست کہا ہے ظلم؟ جو کافرانہ، مرتدانہ، مشرکانہ اور منافقانہ علامتوں سے بھی زیادہ سخت اور قابل نفرت ہے۔ اسلام کا تصور جہاد بلا تمیز مذہب و ملت ظلم ہی کے خلاف ہے۔

میں حیران بلکہ پریشان ہوگیا ہوں کہ قبل ازیں اس موضوع پر کیا کیا لکھا گیا ہے؟ کیا کیا نہیں لکھا گیا؟ مگر مصنوعیت ندارد! کیا صرف واقعات اور شخصیات کے حوالے سے بات آگے بڑھائی جائے تو نفس مقمون کا حق ادا ہو سکتا ہے؟ ہم اگر یہ بھول جاتے ہیں کہ تاجدار کربلا مظلوم نہیں معصوم تھے۔ آپ پوری آرزو اور جستجو کے ساتھ آگے بڑھے اور عظیم مقاصد کی خاطر پورے ٹھہراؤ، صبر بلکہ شکر کے جذبہ بے بہا سے بے مثل و بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ فلسفہء شہادت حسینؓ کو ”روح کربلا“ میں سمویا گیا ہے۔اس موضوع کے ساتھ ایک ظلم یہ بھی ہوتا چلا آیا ہے کہ یزیدیوں نے امام حسینؓ کے نام کی مالا چپنی شروع کر رکھی ہے اور جانے کب سے؟ وارثان فکر حسینؓ کہاں ہیں؟ ایک بات لازم ہے کہ حسنیت کی راہ میں مصلحت اور مصالحت کا کوئی کاروبار نہیں ہوسکتا۔ اے کاش! ہمیں فکر و نظر حسینؓ سے آگاہی ہوتی! ایسا ہو جاتا تو پھر ظلم کیوں باقی رہتا؟ ظلم کا کاروبار اس سے رواں دواں چلا آتا ہے کہ قوم نے دراصل یزیدیت کو سینے سے لگا رکھا ہے۔

مزید : رائے /کالم