مہمند، انضمام بالجبر اور پولیس نظام کیخلاف مہمند اقوام کے مشران کا احتجاج 

مہمند، انضمام بالجبر اور پولیس نظام کیخلاف مہمند اقوام کے مشران کا احتجاج 

  

مہمند (نمائندہ پاکستان) مہمند، انضمام بالجبر اور پولیس نظام کے خلاف مہمند اقوام کے مشران کا احتجاج۔ پشاور ٹو باجوڑ شاہراہ بند۔ سرکاری تقریبات اورخاصہ دار تنخواہوں سے بائیکاٹ جاری رہیگا۔ خاصہ دار و لیویز فورسز رسم و رواج کے خلاف چھاپوں سے گریز کرے۔ ڈی پی او اور عدالت مشران کے کئے گئے جرگوں میں مشران کو طلب نہ کریں۔ مشاورت کے بغیر کسی قسم کا قانون ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار قبائلی ضلع مہمند کے مختلف تحصیلوں کے سرکردہ مشران کی نگرانی میں غلنئی گیٹ سے پریس کلب تک احتجاج کیا۔ اور پشاور پشاور ٹو باجوڑ شاہراہ کو بھی احتجاجاً بند کیا۔ انہوں نے انضمام بالجبر نامنظور، پولیس تھانہ کلچر نا منظور، رسم و رواج میں کسی قسم کی مداخلت کی مداخلت برداشت نہیں کے نعرے لگائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خاصہ دار تنخواہوں، سرکاری تقریبات سے مکمل بائیکاٹ کیا ہے۔ اگر کسی نے بھی خلاف ورزی کی تو ہم اُن سے قومی جرمانہ وصول کرینگے۔ جبکہ سرکاری تقریبات سے بھی مکمل بھائی کاٹ رہیگا۔ انہوں نے پولیس خاصہ دار اور لیویز فورسز کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے رسم و رواج کے خلاف چھاپے مارے اور اس دوران اُنہیں کسی بھی مزاحمت کا سامنا ہوا تو اس کے وہ خود ذمہ دار ہونگے۔ انہوں نے ڈی سی مہمند پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔ ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہم پاکستان کے وفادار شہری ہیں اور اب تک اس ملک کی بقاء اور سلامتی کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے۔ مگر اس کے باؤجود بھی ہم کو نظر انداز کر کے انضمام بالجبر ہم پر مسلط کیا گیا۔ جو کہ ہمیں ہر گز منظور نہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ہماری آوز نہیں سنی گئی تو ہم اہم فیصلے کرینگے۔ احتجاج میں ضلع مہمند کے صافی، حلیمزئی، اتمان خیل، بائیزئی، خویزئی قوم کے سرکردہ مشران کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -