بلدیاتی اداروں کو گھرکی لونڈی بنانے کی سازش کی جارہی ہے، سردار حسین بابک

بلدیاتی اداروں کو گھرکی لونڈی بنانے کی سازش کی جارہی ہے، سردار حسین بابک

  

شیرگڑھ(نگار) عوامی نیشنل پا رٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور سابق صوبائی وزیر تعلم سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے جس طرح بے دردی سے دوسرے ادارے تباہ وبرباد کئے اسی طرح سے بلدیا تی ادارے بھی تباہ کر رہی ہے پی ٹی آئی کی حکومت بلدیا تی ادارے اپنے گھر کی لو نڈی بنا نے کی سازش کر رہی ہے اپوزیشن اور پوری قوم کے موجودہ بلدیا تی نظام پر تحفظات ہیں حکومت پوری فوری پر نئے بلدیاتی نظام کا خیال ترک کر کے اپوزیشن کے ساتھ مل صلاح ومشورے سے موزوں ترین اور قابل قبول بلد یا تی ننظر نظام متعارف کرائیں اپوزیشن کے رہبر کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق اے این پی اسلام آباد دھر نے میں شرکت کر ے گی مگر فیصلہ رہبر کمیٹی کر ے گی ابھی فیصلہ نہیں ہو ا ہے وہ عوامی نیشنل پا رٹی سابق سنیئر صوبائی صدر مر حوم انجینئر عباس خان کی رسم قل کے موقع پر میاں عیسٰی کے مقام پر مقامی میڈیا کے نما ئندوں کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے انہوں اس موقع پر مر حوم انجینئر عباس کی سیا سی خدمات اور باچا خان با با کے تعلیمات اور فلسفہ پر سختی سے عمل پیرا ہو نے پر ان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی حکوت نے تمام قومی اداروں کو تبا ہی کے دھا نے کھڑا کیا اور بلد یا تی ادارے بھی تباہی کے دھا نے لے جا نے پر تلی ہو ئی ہے انہوں نے کہا کہ چار سال تک بلدیا تی رائج نظام کو تبدیلی کر کے حکومت نے اپنی ناکام کا خود اقرار کیا صوبہ خیبر پختون خوا میں گزشتہ چار سال چلنے والا بلد یا تی نظام پی ٹی آئی کی سابق حکومت کا بنا یا گیا نظام تھا یہ حکومت اپنی پا لسی پر بھی اعتماد نہیں کر تی ہے اور پالیسیاں بار بار تبدیل کر کے نا چ نہ جانے آنگن ٹیڑھاہے کے صداق فیصلے کر تی ہے انہوں نے کہ نئے بلد یا تی نظام کے زریعے پی ٹی آئی یہ نظام اپنا غلام اور اپنے گھر لونڈی بنا چا ہتی ہے جس کے خلاف اپوزیشن سمیت عدالت بھی حرکت میں آگئی سابق بلد یا تی نما ئندوں سمیت پو ری قوم کو اس نظام پر شدید قسم کے تحفظات ہیں یہ تحفظات دور کئے بغیر مجھے بلدیا تی انتخابات ہو تے نظر نہیں آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ ابھی اسلام آباد دھرنے کا کو ئی فیصلہ نہیں ہو اہے فیصلہ رہبر کمٹیی کر ے گی جو فیصلہ آئے گا وہی فیصلہ اے این پی کا فیصلہ ہو گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -