کراچی، مرکزی جلوس کی سیکورٹی پر6648پولیس اہلکار مامور تھے

کراچی، مرکزی جلوس کی سیکورٹی پر6648پولیس اہلکار مامور تھے

  

کراچی (کرائم رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی،چیف سیکریٹری سندھ سیدممتازعلی شاہ اور سیکریٹری داخلہ سندھ کبیرقاضی کی سینٹرل پولیس آفس کراچی میں آمد کے موقع پر آئی جی سندھ ڈاکٹرسیدکلیم امام نے خوش آمدیدم استقبال کیا۔بعدازاں کمانڈایندکنٹرول سینٹر سے شہرکے مختلف مقامات کی سیکیورٹی مانیٹرنگ کاجائزہ لیا۔اس موقع پرڈی آئی جی آئی ٹی فداحسین مستوئی نے مرکزی کمانڈ اینڈکنٹرول سینٹر سے سیکیورٹی مانیٹرنگ کی بابت تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ مختلف مقامات پر نصب2200 سی سی ٹی وی کیمروں سے شہر کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے جبکہ یوم عاشور کے مرکزی جلوس کے روٹس پرباالخصوص علیحدہ سے نصب335 سی سی ٹی وی کیمروں سے سیکیورٹی مانیٹرنگ کی جارہی ہے علاوہ ازیں پہلی مرتبہ ڈرون کیمروں سے ناصرف براہِ راست سیکیورٹی مانیٹرنگ بلکہ مانیٹرنگ ڈیٹا کو باقاعدہ محفوظ بھی بنایا جارہا ہے۔ اے آئی جی آپریشنز سندھ فیصل عبداللہ چاچڑنے بتایاکہ سندھ بھر سے یوم عاشور کے موقع پربرآمدہونیوالے جلوسوں کی مجموعی تعداد1555جبکہ منعقدہ مجالس کی تعداد1470تھی جنکی سیکیورٹی کے لیئے 39007پولیس افسران اورجوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ رپورٹ کیمطابق سندھ کے مجموعی اضلاع میں فلیش پوائنٹس کی تعداد 484تھی جہاں پولیس نے پیشہ وارانہ مہارت اور وضع کردہ حکمت عملی کے عین مطابق حالات کو کنٹرول میں رکھنے جیسے اقدامات بطریق احسن انجام دیئے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں یوم عاشور کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی فرائض پر 6648پولیس افسران اور جوان مامور کیئے گئے تھے۔جبکہ سندھ بھر میں یکم محرم تا عاشورہ محرم مجموعی طور پر71485 پولیس افسران اور جوانوں کی ڈپلائمنٹ کی گئی تھی جبکہ پولیس کی3793 گاڑیوں میں ڈپلائمنٹ کے ساتھ ساتھ ٹریفک پولیس کے 1022اہلکار بھی خصوصی فرائض پر تعینات تھے۔رپورٹ کیمطابق 100 افسران وجوان،125منسٹریل اسٹاف،آرآرایف کی04 کمپنیز،ایس ایس یو،آرآر ایف اور168خواتین اہلکاروں سمیت 3900 پولیس اہلکار ریزرو فورس کا حصہ تھے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سندھ بھر کے مختلف اضلاع میں جزوی طور پر موبائل نیٹ ورک کو بھی بند کیا گیا تھا۔علاوہ ازیں یوم عاشور پر فضائی نگرانی کے عمل کو بھی یقینی بنایا گیا تھا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -