بزرگ قتل، ٹرین کی زد میں آکر ایک جاں بحق، 4خودکشیاں، ایک لاش بر آمد 

بزرگ قتل، ٹرین کی زد میں آکر ایک جاں بحق، 4خودکشیاں، ایک لاش بر آمد 

  

ملتان‘ چوک مکول (وقائع نگار‘ نمائندہ خصوصی‘ نامہ نگار) ملتان سے وقائع نگارکے مطابق تھانہ چہلیک کے علاقے میں 23 سالہ شخص نشتر کے گراؤنڈ میں مردہ حالت میں ملا ہے.مقامی پولیس نے لاش قبضے میں لیکر قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔ پولیس کے مطابق مرنے والے شخص کے جسم پر تشدد کا کوئی  نشان نہیں ہے  تاہم اصل حقائق پوسٹ  مارٹم کے بعد سامنے آ سکیں گے۔پولیس کے مطابق  23 سالہ نامعلوم شخص  نشے کا عادی معلوم ہو تا  ہے۔پولیس نے لاش قبضے میں لے کر نشتر کے سرد خانے  میں منتقل کر دی ہے۔اور ضروری کارروائی شروع کردی ہے۔حالات سے تنگ لڑکی نے کالا پتھر پی کر زندگی سے منہ موڑ لیا کروڑ لعل عیسن کی رہائشی 30سالہ ریحانہ گھریلو حالات سے تنگ تھی گزشتہ روز اس نے کالا پتھر پی لیا(بقیہ نمبر12صفحہ12پر)

 جیسے تشویشناک حالت میں نشتر ہسپتال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی نشتر چوکی پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی ہے.بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس کے طالبعلم  نے گھریلو حالات سے دلبرداشتہ ہو کر گندم کی گولی کھا لر خود کشی کرلی ہے بتایا جارہا ہے کہ بی زیڈ یو کے طالب علم  خضر حیات یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب میں داخلے کا خواہشمند تھا مگر گھریلو حالات کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکا۔جس پر شعبہ اکنامکس کے طالبعلم گھر والوں سے لڑکر لیہ سے واپس بی زیڈ یونیورسٹی آیا۔جہاں اس نے طیش میں آکر گندم کی گولیاں کھالیں۔حالت غیر ہونے پر اسکو نشتر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے اسکا معدہ کی صفائی کی۔ مگر وہ جانبرد نہ ہوسکا۔اور دم توڑ دیا۔ملتان کے گردونواح میں حالات سے دلبرداشتہ خواتین کی خودکشیوں کا سلسلہ جاری ہے دس روز کے دوران سات خواتین نے خودکشی کر لی۔ گزشتہ روز مزید دو خواتین نے زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ خانیوال کی رہا ئشی  20 سالہ سونیا  زوجہ رمضان نے  گھریلو ناچاقی پر گندم والی گولیاں کھالیں جس کو نازک حالت میں نشتر منتقل کر دیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکی اور دم توڑ گئی۔بورے والہ کی 40 سالہ خاتون  معافیہ بی بی نے  حالات سے دل برداشتہ ہو کر  کالا پتھر  پی لیا۔ان خواتین کو نشتر ہسپتال لایا  گیا جہاں  دم توڑ گئیں۔لاش  ضروری کا روائی کے بعد لواحقین  کے حوالے کر دی گئیں ہیں۔ریلوے لائن میں موبائل فون استعمال کرنے والاشخص ٹرین کی زدمیں آکرجاں بحق ہوگیا۔واقعہ گزشتہ روزشام6بجے کے قریب پیش آیامیاں چنوں اسٹیشن سے چندکلومیٹرپہلے پیش آیاجہاں ایک شخص موبائل فون پرمحوگفتگوریلوے لائن میں گھوم رہاتھاکہ راولپنڈی سے کراچی جانے والی تیزگام کی زدمیں آکرموقع پرجاں بحق ہوگیا۔واقعہ کے فوراٌبعدٹرین ڈرائیوراورانچارج گارڈ نے ٹرین کورکوادیااورلاش کوٹرین گشت پرمامورریلوے پولیس کانسٹیبل کے حوالے کرکے 15منٹ کی تاخیرسے روانہ کردیا۔چوک مکول سے نامہ نگار کے مطابق آموں کے باغ سے آم توڑنے سے منع کرنے اور خواتین کو روکنے کی رنجش ملزمان نے ساٹھ سالا بزرگ رکھوالے کو مبینہ طور پر جان سے مار دیا,باغ مالک بااثر ملزمان کو بچانے کے لیے خود مدعی بن گیا,پولیس اور مقامی زمیندار ملزمان کو بچانے کے لیے میدان میں آگے 25 لاکھ کی ڈیل. میڈیکل رپورٹ میں بھی تبدیلی کا انکشاف پورے جسم میں تشدد اور تیز آلہ دھار سے زخموں کے نشانات واضح, مگر میڈیکل رپورٹ نارمل کاٹی گی,ڈاکٹر اور پولیس کی ملی بھگت کا شبہ ظاہر کے کے خود مدعی بنانے اور نئی ایف آئی ار کے اندراج کا مطالبہ کر دیا گیا,گذشتہ روز موضع جڑھ کے رہائشی امتیاز احمد کنیرا نے صحافیوں کو بتایا کہ اسکا 60 سالا بوڑھا والد بشیر احمد گذشتہ دس سال سے بطور مالی موضع مہر پور کے زمیندار مہر تنویر احمد جانگلہ کے آموں کے باغ میں رکھوالی کرتا ہے ایک ماہ قبل مقامی بااثر زمینسار سلیم عاربی, فاروق احمد, طارق عرف تارا, محمد نواز وغیرہ کی خواتین اور انکے بچوں نے باغ سے آم توڑے, نذر عاربی باغ میں ایا اور خواتین بچوں کو چھڑا کر لے گیا, سلیم عاربی وغیرہ کے دلوں میں رنجش گھر کر گی, اور انہوں نے موقع پا کر تشدد اور تیز آلا دھار کے زریعے اس کے والد کو جان سے مار دیا مقامی زمیندار اور باغ مالک مہر تنویر احمد جانگلہ نے خود مدعی بن کر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ کا اندراج کرادیا,اصولا اور قانونا اسے بشیر احمد کا بیٹا ھونے کی وجہ سے خود مدعی بنایا جاتا,کیونکہ وہ قانونی طور پر والد کا وارث ہے اصل ملزمان کو بچانے کے لیے دانستہ اسے مقدمہ کی مدعیت سے دور رکھا گیا ہے, انہوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ سابق چیئرمین مہر علو, ڈاکٹر اور مقامی پولیس نے ملی بھگت اختیار کر لی ہے اب سننے میں آرہا ہے کہ اس کے والد کے قتل میں ایک فاتر العقل شخص زاہد سومرو کو نامزد کیا جارہا ہے,اور اس حوالے سے پولیس, ڈاکٹر,اور سابق چیئرمین مہر علو نے ملزمان سے 25 لاکھ روپیے کی ڈیل ھوئی ہے, انہوں نے ڈی پی او ضلع مظفرگڑ ھ اور آر پی او ڈیرہ غازیخان سے مطالبہ کیا ہے کہ میرے والد کو جان سے مارنے والے بااثر ملزمان کو مقدمہ میں نامزد کیا جائے اور اسکی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے اصل ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔

قتل‘ حادثات

مزید :

ملتان صفحہ آخر -