نوآبادیاتی دور میں تعلیم وتدریس کا آغاز

نوآبادیاتی دور میں تعلیم وتدریس کا آغاز

  

سرسید احمد خان اور برصغیر میں جدید وسائنسی تعلیم کی روایت ایک درخشندہ باب ہے

سرسید احمد خان 1857ء کے بعد ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرے جنھوں نے برصغیر کی عوام اور خاص کر مسلمانوں کے حقوق، علم اور تعلیمی حقوق اور ضروریات کے حوالے سے گرانقدر فریضہ سرانجام دیا۔علمی وتدریسی اصلاحات اور کوششوں کے علاوہ ان کی اس مساعی سے اردو ادب کو بھی فروغ اور ترویج ملی۔ اٹھارویں صدی کے بعد کا زمانہ صنعتی اور سائنسی ترقی کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے،، فرانس، برطانیہ، ہالینڈ، وینس، جنیوا تجارت کے بڑے مراکز کی حیثیت سے سامنے آئے انھیں اپنی صنعتوں کے لیے تجارتی منڈیوں کی ضروت تھی۔ اس تجارتی انقلاب کی وجہ سے فرانس نے الجیریا تیونس،مراکش، برطانیہ نے مصر سوڈان، ولندیزیوں نے انڈونیشیا،اٹلی نے لبیا،روس نے وسطی ایشیا کی ریاستوں پر قبضہ جما لیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے توسط سے برطانیہ،ہندوستان کو اپنی کالونی بنانے میں کامیاب ہوگیااور ہندوستان ایک طویل عرصے لیے برطانیہ کے نوآبادیاتی شکنجے میں آگیا۔

ان حالات میں برصغیر میں کئی رویے سامنے آئے جن میں سے ایک رویہ تعلیم کے حصول کا بھی تھا جسے سرسید احمد نے اختیار کیا۔اُس دور کے فکری منظر نامے کا تجزیہ اورتعلیمی وتدریسی تاریخ سرسید احمد خان کے کارناموں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ ان حالات میں سرسید احمد خان نے جو کردار ادا کیااس حوالے سے مباحث کے جتنے بھی دروازے کھولے جائیں وہ اپنی جگہ مگر اُس وقت اور اُن حالات کے تناظر میں مسلمانوں کی تعلیم وترقی کے لیے سرسید نے جو کچھ بھی کیااگر ایسا نہ کرتے تو اور کیا کرتے؟ سرسید احمد خاں کی تصانیف کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی تحریروں میں نوآبادیاتی عناصر کا ساتھ دینے کے ساتھ قوم میں تعلیمی شعور اجاگر کرنے کی وجہ سے نوآبادیاتی اثرات کے خلاف سوچ بھی ملتی ہے۔ سرسید احمد خاں نے جہاں انگریزی نظام تعلیم کو اچھا کہا اور انگریزی نظام اور حکومت کا ساتھ دیا، وہاں انھوں نے اسباب بغاوت ہند لکھ کر انگریزوں کی یہ غلط فہمی بھی دور کرنے کی کوشش کی کہ جنگ آزادی 1857ء میں تمام قصورمسلمانوں کا ہے بلکہ انھوں نے اس حوالے سے انگریزوں کی غلطیوں اور بدگمانیوں کی بھی نشاندہی کی۔یہ رسالہ ہوسکتا ہے کہ سرسید احمد خاں نے انگریزوں کی خوشنودی کے لیے لکھا ہو مگر یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس سے ایک بات انگریزوں پر واضھ ہوگئی کہ مسلمانوں میں قومی وتعلیمی شعور پیدا کرنے والا اور ان کے حقوق کے لیے بات کرنے والا ایک شخص ابھی موجود ہے۔ اس بات سے سرسید احمد خان نے یہ بات ثابت کردی کہ مسلمان حق بات کر سکتے ہے۔ اصل میں سرسید احمد خاں نے انگریز حکام سے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی۔اس مقصدکے لیے انھوں نے جس سماجی رویے اور تہذیبی وعلمی فکر کو اختیار کیا،وہ اس سے پہلے کسی نے اختیار نہیں کیا تھا۔سرسید احمد خان نے اپنی بصیرت اور سمجھ بوجھ سے اس وقت جس تحریک کا آغاز کیا وہ صرف ایک تعلیمی اور علمی سطح تک محدود نہ رہی بلکہ ان کی تحریر کئی زاویوں سے لوگوں کی سوچوں میں تبدیلی پیدا کرنے کا باعث بنی، کئی اہل ادب اور اہل علم نے ان کی سوچ کو اپنایا اور اُس وقت جب کہ ہرطرف سے مسلمان اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے، روشنی کے فروغ کا ذریعہ بنے۔اس تحریک کے زیر اثر لکھے جانے والے ادب میں ماضی کے ادب کی طرح افسانوی قصے کہانیوں کی جگہ عصر حاضر کے مسائل، قوم کی بیدار ی اور فرد کی اصلاح اور تعلیم وتربیت کو اولیت دی گئی۔ سرسید احمد خاں نے قوم کو ایک نئے فکری اور علمی زاویے سے ہمکنار کیا۔آزادیئ اظہار،آزادیئ موضوع اور آزادیئ اسلوب کے سلسلے میں ایک نئی روایت قائم کرکے قوم کو سوچ کے نئے دھارے عطا کیے۔انھوں نے جو تحریک شروع کی وہ تہذیبی وثقافتی، علمی وتدریسی اور تعلیمی حوالے سے اہمیت کی حامل تھی۔ سرسید احمد خاں نے اس وقت اپنی مساعی شروع کی جو کہ برصغیر میں اہل برصغیر کے لیے سب سے نازک دور تھا۔ برطانیہ سامراج اپنے اقتدار،طاقت اور حکمرانی کے نشے میں اہل ہند کا استحصال کررہے تھے۔اور بڑی خطرناک بات یہ تھی کہ وہ اہل ہند کومختلف حوالوں سے کئی چھوٹے چھوٹے گروہوں اوراقلیتوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔برصغیر میں مسلمان قوم ابتری اور تفریق کا شکار تھی۔ایسے میں سرسید احمد خان نے اپنی تعلیمی وعلمی اور فکری اصلاح کا رخ مسلمان قوم کی طرف موڑا۔بقول بابائے اردو مولوی عبدالحق: ”سرسید نے قوم کا مفہوم ہی بدل دیا۔اس سے پہلے قوم سے مراد سید، شیخ، مغل اور پٹھان تھی۔ سرسید نے اسے ”نیشن“ کا ہم معنی بنادیا اور مسلمانوں میں قومیت کا تصور پیدا کیا۔“

سرسید احمد خان قوم کو ماضی کے دھندلکوں سے نکال کر حال میں لے آئے اور اس کو مستقبل کے تقاضوں سے آگاہ کیا۔وہ حالات اور حالات کے تقاضوں سے واقف تھے،انھوں نے سب سے پہلے ذہنی آزادی کو ضروری سمجھا اور پھر مشرقی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے مغرب کے ان اصولوں کو اپنانے کی بات کی جو موجودہ دور میں بحیثیت قوم ترقی اور علم وسائنس کے فہم کے لیے ضروری تھے۔اگر ہم سرسید کی تحریروں اور ان کی تحریک کا بغور مطالعہ کریں تو وہ آج سے پونے دوسوسال پہلے یہ بات سمجھ چکے تھے کہ آنے والا دور تہذیبی ٹکراؤ کا ہے۔ایسے میں اپنی تہذیب کو اُن برائیوں سے پاک کرنا ضروری تھا جو کہ اسے عرصہ دراز سے دیمک کی طرح کھا رہی تھیں۔وہ چاہتے تھے کہ ہندوستانی معاشرہ صحیح معنوں میں ترقی کرے۔انھوں نے اپنے دور کے تقاضوں کو سمجھا اور انھیں تقاضوں کے تحت تعلیمی پالیسی بنانے کی کوشش کی۔جس کے ہمہ گیر اور دوررس اثرات سامنے آئے۔ یہ بات درست ہے کہ سرسید احمد خان نوآبادیاتی دور میں سانس لے رہے تھے اور اس نوآبادیاتی نظام کا حصہ بھی تھے، مگر ان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اسی نظام میں رہتے ہوئے اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کی برائیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنی قوم میں اچھائیاں تلاش اور پیدا کرنے کی کوششیں کیں۔

سرسید احمد خان 1857ء کے بعد ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرے جنھوں نے برصغیر کی عوام اور خاص کر مسلمانوں کے حقوق، علم اور تعلیمی حقوق اور ضروریات کے حوالے سے گرانقدر فریضہ سرانجام دیا۔علمی وتدریسی اصلاحات اور کوششوں کے علاوہ ان کی اس مساعی سے اردو ادب کو بھی فروغ اور ترویج ملی۔سرسید احمد خاں کی تصانیف کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی تحریروں میں نوآبادیاتی عناصر کا ساتھ دینے کے ساتھ نوآبادیاتی اثرات کے خلاف سوچ بھی ملتی ہے۔ سرسید احمد خاں نے جہاں انگریزی نظام تعلیم کو اچھا کہا اور انگریزی نظام اور حکومت کا ساتھ دیا،1858ء میں مراد آباد گئے تو وہاں ایک مسلم اسکول بنایا جس کو اُردو میڈیم تھا۔مراد آباد میں ہی 1859ء میں ”رسالہ اسباب بغاوت ہند“لکھ کر انگریزوں کی یہ غلط فہمی بھی دور کرنے کی کوشش کی کہ جنگ آزادی 1857ء میں تمام قصورمسلمانوں کا ہے بلکہ انھوں نے اس حوالے سے انگریزوں کی غلطیوں اور بدگمانیوں کی بھی نشاندہی کی۔سرسید نے یہ رسالہ ملک وقوم اور حکومت کی خیر خواہی کے جذبے سے تحریر کیا تھا۔ جنگ 1857ء کے حوالے سے یہ رسالہ ایک اہم شہادت اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔اس میں انھوں نے ہندوستانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔یہ انگریزوں کے نوآبادیاتی نظام کے خلاف پہلی آواز تھی۔سرسید احمد خاں نے اخبار سائنٹیفک سوسائٹی جاری کیا جس کا مقصد اہل ہند میں تعلیم کو عام کرنے اورقوم میں تعلیمی شعور پیدا کرنا تھا۔ انھوں نے اس اخبار کے ذریعے مسلمانوں میں سیاسی اور اخلاقی شعور پیدا کیا۔

سرسید احمد خاں لندن تشریف لے گئے تو وہاں انگریزوں کے تعلیمی نظام کا بغور مشاہدہ اور مطالعہ کیا۔یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ انھوں نے علی گڑھ میں کالج بنانے کے لیے اس کا نقشہ وہیں سے بنوالیا تھا۔اور یہ عہد کر لیا تھا کہ ہر صورت میں ایک بڑا اور جامع قسم کا تعلیمی ادارہ قائم کرنا ہے۔ ان کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ قوم مین یورپین لٹریچر اور سائنسز کی تعلیم کے حصول کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ سرسید احمد خاں کا ایک اہم کارنامہ علمی وادبی مجلہ ”تہذیب الاخلاق“کا اجرا تھا یہ جن مضامین پر مشتمل ہوتا تھا ان میں موضوع اور اسلوب کے تنوع کے ساتھ ساتھ نفس مضمون کو بھی اہمیت دی جاتی تھی۔شگفتگی اور شوخی کی جگہ مقصد کو پیش نظر رکھا جاتا تھا۔تہذیب الاخلاق میں شائع ہونے والے مضامین کا بنیادی مقصد قوم کی اصلاح کے ساتھ ساتھ تہذیبی ومعاشرتی خامیوں کو ختم کرنا تھا۔ اس رسالے میں لوگوں نے امت مسلمہ میں تعلیمی انحطاط کے المیے کو محسوس کیا۔ اس کا پہلا شمارہ 24دسمبر 1870ء کو شائع ہوا جس کا انگریزی نام The Muhammeden Social تھا۔اس رسالے کے ذریعے محمڈن کالج کے قیام کی راہ کو ہموار کرنے کا کام لیا گیا۔ ایک ایسے دور میں جب کہ ہر طرف ہٹ دھرم اور ضدی لوگوں سے معاشرہ بھرا ہوا ہو، تعلیم کا رواج نہ ہو، وہاں کوئی تحریک پیدا کرنا بذات خود ایک انقلاب کا درجہ رکھتی تھی۔یہ تغیر اور انقلاب سرسید احمد خاں نے ”تہذیب الاخلاق“ کے ذریعے پیدا کیا۔ معاشرے پر اِس کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے سرسید احمد خاں لکھتے ہیں:”اگرچہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس پرچے نے لوگوں کے دلوں پر بہت اثر کیا مگر اتنا تو ضرور کہہ کہتے ہیں کہ کچھ تو اثر کیا ہے۔ ہماری قوم کے دل جو مردہ ہوگئے تھے ان میں ایک تحریک تو ضرور آگئی ہے۔ہر ایک دل میں کسی نہ کسی بات کا جوش ہے۔“ سرسید کا ایک اہم مقصد مسلمانوں کو سیاسی ومعاشرتی تنزلی سے نکالنا تھا۔اسی مقصد کو پورا کرنے کی خاطر وہ تمام تر مخالفت کے باوجود 8 جنوری 1877ء کو ایم اے او کالج(محمڈن اورینٹل کالج) کاسنگ بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوگئے جو بعد میں 1922ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا درجہ اختیار کرگیا۔

انگریز حکومت ایم اے او کالج کے حق میں نہیں تھی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ صورت حال اس کے نوآبادیاتی ڈھانچے کے لیے مفید نہیں ہے کہ مسلمان اس انداز میں علم وادب میں ترقی کرجائیں کہ وہ ان کے نوآبادیاتی عزائم کے آگے سینہ سپر ہوجائیں مگر سرسید احمد خان دھن کے پکے تھے۔انھوں نے مغربی استعماریت کو بغیر نشان زد کیے مسلسل مسلمانان ہند کی علمی،ادبی،اخلاقی، تہذیبی، معاشرتی اور سیاسی ترقی کے لیے راستہ ہموار کیا۔ سرسید احمد خاں کا ایک اہم کام آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانگریس(1886ء) کا قیام ہے،جو بعد میں آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے نام سے موسوم ہوئی جس کا مقصد مسلمانوں میں تعلیمی شعور پیدا کرنا اور انھیں یکجا کرنا تھا۔وہ تعلیم کو سیاسی،معاشی، معاشرتی اور تہذیبی وثقافتی میدان میں کامیابی کے لیے بنیادی کلید سمجھتے تھے۔

سرسید کی اصلاحی تحریک دراصل برصغیر میں غلامی کے اندھیروں میں ڈوبی قوم کے لیے ایک روشن چراغ کی مانند تھی۔جس نے اہل ہند میں ذہنی بیدار ی کا کام کیا۔فرسودہ تصورات اور روایات کی جگہ انداز نو کی کوشخبری دی گئی۔اس دور میں مولانا الطاف حسین حالی، ڈپٹی نذیر احمد، مولانا محمد حسین آزاد،مولانا شبلی نعمانی، مولوی چراغ علی، مولوی محمد ذکاء اللہ محسن الملک نے اردو ادب کو وہ بیان واظہار کا وہ دھارا عطا کیا جس نے آنے والے وقتوں میں اردو ادب کو ایک نیا راستہ دکھایا۔تعلیمی شعور اورادب کو قوم کے تعمیری کردار میں اہم سمجھا گیا اور اس کو قوم کی اصلاح اور ارتقا کے لیے آزمایا گیا۔سرسید احمد خاں کی یہ تمام کوششیں جہالت، پسماندگی،غلامی اور اُس نوآبادیاتی دور میں ایک امید کی کرن ثابت ہوئیں۔ سرسید نے قوم کو کیا دیا؟اس سوال کاجواب بڑا واضح ہے کہ سرسید نے قوم کو سوچ دی، تعلیم دی، زبان دی، وقار دیا، پہچان دی، تہذیب دی، اور سب سے بڑی بات یہ کہ سوئی ہوئی قوم کو جگایا اور ان کے مایوس ذہنوں میں امید کی لو جلائی۔ خود بھی لکھا اور اوروں کو بھی لکھنے کی ترغیب دی۔ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں حکمرانوں سے ٹکراؤ کے بغیر اپنے مفادات کے حصول کے مواقع میسر ہوئے۔ انھوں نے جہالت کے اندھیروں کو علم وادب کی شمعوں کی روشنی سے دور کیا۔مسلمان قوم کو ایک ایسے نئے اورسائنسی نظام تعلیم کی طرف راغب کیا جس کو مسلمان قوم پہلے اپنے کیے کفر سمجھتی تھی اور جو حکمرانوں کی طرف سے بھی اُن کے شجر ممنوعہ تھا۔سرسید نے اردو ادب کو مافوق الفطرت عناصر کی جکڑ بندیوں سے نکال کر اسے حقیقت اور عصر ی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 2 -