”تھنکنگ پاکستان“

”تھنکنگ پاکستان“

یو ایم ٹی میں ملک کو درپیش چیلنجز پر دو روزہ تقریبات

”پاکستان کی 72سالہ جمہوریت“ کے عنوان پر یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں دو روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا، یو ایم ٹی کے صدر ابراہیم حسن مراد کے Initiative”تھنکگ پاکستان“ کے حوالے سے ہونے والی تقریبات میں یہ پہلا سیمینار ہے، ان تقریبات کا مقصد صاحب رائے، پالیسی ساز اور اہل علم میں نئی سوچ اور حکمت عملی کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تاکہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے، اس سیمپوزیم کا انعقاد یو ایم ٹی کے شعبہ سیاسیات و انٹر نیشنل ریلیشنز اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید حسن نے کیا، دو روز میں متعلقہ اداروں کے نمائندوں کی جانب سے طویل اور سیر حاصل علمی گفتگو کے ذریعے پاکستان میں جمہوریت کی بہتری کے لئے قابل عمل حل اور حکمت عملی پیش کی گئی، ایم ٹی مختلف شعبوں سے جڑے اسٹیک ہولڈرز کے لئے اس سیمپوزیم کی سفارشات پر مبنی رپورٹ بھی جلد شائع کرے گا۔

سیمپوزیم کا آغاز یو ایم ٹی کے شعبہ سیاسیات اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرپرسن ڈاکٹر محمد شعیب پرویز کے Keynote addressسے ہوا، انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا بقا اسی وقت ممکن ہے جب جمہوریت میں جمہوری اصولوں کا اطلاق جاری رہے، جو حق رائے دہی اور حق انتخاب سے ممکن ہے، لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن نے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بجائے اس کے کہ ہم اپنے کٹھن مسائل سے اجتناب کریں ہمیں ان پر بات چیت کرنی چاہئے اور ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں باتیں اچھالنے کی بجائے ایک دوسرے سے بات چیت کرنی چاہئے تاکہ ڈائیلاگ اور مفاہمت کی روایت رواج پا سکے۔

اس موقع پر یو ایم ٹی کے صدر ابراہیم حسن مراد کا کہنا تھا کہ ہمیں علامہ اقبال کا روحانی جمہوریت کا تصور ایک سوچا سمجھا فلسفہ تھا جو جمہوریت کے بہت سے مسائل حل کر سکتا ہے، اس فلسفے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت کے ایک سے زیادہ ماڈل ہو سکتے ہیں، جس کے بارے میں کئی مغربی ماہر سیاسیات بھی اپنی رائے دے چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ”تھکنگ پاکستان“ کا مقصد اسٹیک ہولڈرز کی حوصلہ افزائی کرنا اور عام لوگوں کو بتانا ہے کہ پاکستان کو مزید محفوظ اور خوشحال کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے سابق گورنر اویس غنی نے کہا کہ جمہوریت میں کوئی حتمی نکتہ نہیں ہوتا، اصل مقصد قابل عمل اور شائستہ سیاسی نظام بنانا ہے اور جمہوری نظام سے اس مقصد کا حصول آسان ہے، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمود احمد نے جمہوری نظام کے اصولوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول اسلام میں قانون کی بالا دستی کے تصور سے مطاقت رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ طاقت منتخب اور غیر منتخب سیاسی نمائندوں کو ایک جتنا ہی کرپٹ کر سکتی ہے اور ان کو راہ راست پر رکھنے کے لئے معاشرے کی تمام اکائیوں کو اپنے اندر اخوت، ہدایت اور حکمت پیدا کرنی ہو گی، جسٹس (ر) خالد رانجھا کا کہنا تھا کہ آئین میں عوام کے جمہوری حقوق کے حوالے سے متعدد حقوق درج ہیں لیکن ان حقوق کے حصول کے حوالے سے قوانین کی کمی ہے، سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ اگرچہ اٹھارویں ترمیم درست سمت میں قدم تھا الیکشن کمیشن میں سیاسی مداخلت کی روک تھام ابھی تک ایک چیلنج ہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) تنویر نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارا موجودہ حکومت نظام کا زیادہ تر حصہ آبادیاتی نظام سے لیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح کا نظام حکومت انتہائی اہم ہے لیکن اس نظام کو مضبوط نہیں بنایا گیا، سابق سیکرٹری کابینہ اعجاز رحیم نے زور دیا کہ منتخب حکومت، سول انتظامیہ اور فوج کے درمیان مضبوط اور مستحکم رشتہ انتہائی ضروری ہے جو کہ حکومتی نظام احسن انداز میں چلنے کی ضمانت ہو سکتا ہے۔

سینئر صحافی مبشر زیدی کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے استحکام کے لئے طلبا تنظیمیں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے اس لئے ان کو کام کرنے اور پنپنے کی اجازت ہونی چاہئے، سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ پرامید تھے کہ بطور قوم ہم اپنی مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں، لیکن ان مسائل سے نکلنے کے لئے ہمیں معاشرتی و معاشرتی و معاشی بنیادوں پر اپنی اندرونی تفریق اور مذہبی و علاقائی اختلافات سے مبرا ہونا پڑے گا، علامہ زاہد الراشدی کا کہنا تھا کہ ہمارا آئینی سفر بالکل درست سمت میں ہے کیونکہ اس میں جمہوریت کے مغربی اصول شامل نہیں، ہم لوگوں کو ان کے نمائندوں کے چناؤ کا اختیار دیتے ہیں لیکن طاقت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو مانتے ہیں اور ہر طرح کی قانون سازی قرآن و سنت کی روشنی میں کرنے کے پابند ہیں۔ سینئر سیاستدان ڈاکٹر عبدالحی بلوچ نے اس بات پر زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں کام کرے، لیفٹیننٹ جنرل مسعود عالم کا کہنا تھا کہ عادلانہ نظام کے قیام کے لئے سود اور سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا ضروری ہے۔

سیمپوزیم کے دوسرے دن سینئر ماہر تعلیم ڈاکٹر محمد امین نے اسلامی اصولوں پر مبنی Indigenous سیاسی نظام کا تصور پیش کیا، نامور اسکالر ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ جمہوریت ایک خود کار مارکیٹ کی طرح ہے جہاں مسلسل مقابلے کی فضا رہتی ہے اور جس سے ترقی کا راستہ کھلتا ہے، سینئر صحافی زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ہمارے حکمرانوں نے مفادات پر مبنی اصتحصالی نظام بنایا ہوا ہے اور پاور اسٹکچر ایسا ہے کہ وہی چہرے حکومتیں بدل جانے کے باوجود اقتدار میں رہتے ہیں۔ اسی طرح ماہر تعلیم اور انسانی حقوق کے علمبردار ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکمران چہرے وہی ہوتے ہیں خواہ کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں آئے۔ اسی نکتے پہ روشنی ڈالتے ہوئے ماہر تعلیم اور ریسرچر ڈاکٹر ریحانہ سعید کا کہنا تھا کہ اشرافیہ اور عوام میں دوری ہے جس سے متعدد بحران جنم لیتے ہیں۔

نامور قانون دان احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ اداروں کو مضبوط کیا جائے اور منتخب نمائندے اصل ایشوز پر توجہ دیں تو جمہوریت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے، میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سیاسی مسائل کی اصل وجہ قائد اعظم کے جمہوری ویژن سے روگردانی ہے، بلاتفریق احتساب پر زور دیتے ہوئے تجزیہ کار آصف لقمان قاضی کا کہنا تھا کہ جو بھی حالات ہوں آئین اور قانون ہمیشہ مقدم رہنا چاہئے۔ معروف قانون دان حامد خان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ عوامی فلاح کے لئے فیصلے کرنے کی خواہشمند نہیں جبکہ انتخابی نظام چھیڑ چھاڑ سے پاک نہیں ہوا، آخر میں جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ عوام پر حکمرانی کی بجائے ان کو governکرنا چاہئے، انہوں نے نئی نسل کو غیر جانبدارانہ تاریخ پڑھانے پر زور دیا کہ وہ ماضی کی کوتاہیوں سے سبق سیکھیں۔ سیمپوزیم کے اختتام پر ریکٹر یو ایم ٹی نے مقررین کو سیوینیرز پیش کئے جبکہ مقررین نے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کی اس بروقت کاوش کی تعریف کی۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 2


loading...