پطرس بخاری

پطرس بخاری

  

 شخصیت ایک بے رنگ سالفظ ہے، چنانچہ میں نے سیرت کو اپنا تکیہ کلام بنا لیا، لیکن یہ بھی مفید ثابت نہ ہوا۔ والد کہنے لگے کیا سیرت سے تمہارا مطلب چال چلن ہے یا کچھ اور؟

تو گویا دماغی اور جسمانی صحت کے علاوہ چال چلن اچھا ہونا چاہیے؟

میں نے کہا۔ چال چلن ہی کہہ لیجئے،

اور یہ چال چلن ہاسٹل میں رہنے سے بہت اچھا ہو جاتا ہے۔

میں نے نسبتاً نحیف آواز میں کہاں جی ہاں۔۔۔

یعنی ہاسٹل میں رہنے والے طالب علم نمازوں کے زیادہ پابند ہوتے ہیں ملک کی زیادہ خدمت کرتے ہیں۔ سچ زیادہ بولتے ہیں نیک زیادہ ہوتے ہیں۔

میں نے کہا۔ جی ہاں،،

کہنے لگے۔ وہ کیوں،،

ہر سوال کا جواب ایک دفعہ پرنسپل صاحب نے تقسیم انعامات کے جلسے میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا تھا۔ کاش میں نے اس وقت توجہ سے سنا ہوتا۔

اس کے بعد سال بھر میں ماموں کے گھر میں۔۔۔ زندگی ہے تو خزاں کے دن بھی گزر جائیں گے، گاتا رہا۔

ہر سال میری درخواست کا یہی حشر ہوتا رہا، لیکن میں نے ہمت نہ ہاری، ہر سال ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا، لیکن اگلے سال گرمیوں کی چھٹیوں میں پہلے سے بھی زیادہ شدومد کے ساتھ تبلیغ کا کام جاری رکھتا، ہر دفعہ نئی نئی دلیلیں پیش کرتا، نئی نئی مثالیں کام میں لاتا، جب شخصیت اور سیرت والے مضمون سے کام نہ چلا تو اگلے سال کی زندگی کے انضباط اور باقاعدگی پر تبصرہ کیا، اس سے اگلے سال یہ دلیل پیش کی کہ ہاسٹل میں رہنے سے پروفیسر کے ساتھ ملنے جلنے کے موقعے زیادہ ملتے رہتے ہیں اور ”ان بیرون ازکالج“ ملاقاتوں سے انسان پارس ہوجاتا ہے،

اس سے اگلے سال یہ مطلب یوں ادا کیا کہ ہاسٹل کی آب وہوا بہت اچھی ہوتی ہے۔ صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ مکھیاں اور مچھر مارنے کے لئے کئی افسر مقرر ہیں۔ اس سے اگلے سال یوں سخن پیرا ہوا کہ جب بڑے حکام کالج کا معائنہ کرنے آتے ہیں تو ہاسٹل میں رہنے والے طلباءسے فرداً فرداً ہاتھ ملاتے ہیں اس سے رسوخ بڑھتا ہے، لیکن جوں جوں زمانہ گزرتا گیا، میری تقریروں میں جوش بڑھتا گیا۔ معقولیت کم ہوتی گئی۔ شروع شروع میں ہاسٹل کے مسئلے پر والد مجھ سے باقاعدہ بحث کیا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے ایک لفظی انکار کا رویہ اختیار کیا، پھر ایک آدھ سال مجھے ہنس کے ٹالتے رہے اور آخر میں یہ نوبت آن پہنچی کہ وہ ہاسٹل کا نام سنتے ہی ایک طنز آمیز قہقہے کے ساتھ مجھے تشریف لے جانے کا حکم دے دیتے تھے۔

ان کے اس سلوک سے آپ یہ اندازہ نہ لگایئے کہ ان کی شہرتی کچھ کم ہوگئی۔ ہرگز نہیں، حقیقت صرف اتنی ہی ہے کہ بعض ناگوار حادثات کی وجہ سے گھروں میں میرا اقتدار کچھ کم ہوگیا تھا اتفاق یہ ہوا کہ جب میں نے پہلی مرتبہ بی اے کا امتحان دیا تو فیل ہوگیا، اگلے سال ایک مرتبہ پھر یہی واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد بھی تین چار دفعہ یہی قصہ ہوا تو گھر والوں نے میری امنگوں میں دلچسپی لینی چھوڑ دی۔ بی اے میں پے درپے فیل ہونے کی وجہ سے میری گفتگو میں ایک سوز تو ضرور آگیا تھا ،لیکن کلام میں وہ پہلے جیسی شوکت اور میری رائے کی پہلی جیسی وقعت اب نہیں رہی تھی۔

میں زمانہ طالب علمی کے اس دور کا حال ذراتفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ اس سے آپ میری زندگی کے نشیب وفراز سے اچھی طرح واقف جو جائیں گے، اور اس کے علاوہ یونیورسٹی کی بعض بے قاعدگیوں کا راز بھی آپ پر آشکار ہوجائے گا۔ میں پہلے سال بی اے میں کیوں فیل ہوا، اس کا سمجھنا بہت آسان ہے بات یہ ہوئی کہ جب ہم نے ایف اے کا امتحان دیا تو چونکہ ہم نے کام خو دل لگا کر کیا تھا، اس لئے ہم کچھ پاس ہی ہوگئے، بہر حال فیل نہ ہوئے۔ یونیورسٹی نے یوں تو ہمارا ذکر بڑے اچھے الفاظ میں کیا۔ لیکن ریاضی کے متعلق یہ ارشاد ہوا کہ صرف اس مضمون کا امتحان ایک آدھ دفعہ پھر دے ڈالو ایسے امتحان کو اصطلاحاً کمپارٹمنٹ کا امتحان کہا جاتا ہے، شاید اس لئے کہ بغیر رضا مندی اپنے ہمرا ہی مسافروں کے اگر اس میں کوئی پیپر کر رہے ہوں نقل نویسی کی سخت ممانعت ہے۔

اب ہم جب بی اے میں داخل ہونے لگے تو ہم نے سوچا کہ بی اے میں ریاضی لیں گے۔ اس طرح کمپارٹمنٹ کے امتحان کے لئے فالتو کام نہ کرنا پڑے گا، لیکن ہمیں سب لوگوں نے یہی مشورہ دیا کہ تم ریاضی مت لو، لیکن جب پرنسپل صاحب نے بھی یہی مشورہ دیا تو ہم رضا مند ہوگئے۔ چنانچہ بی اے میں ہمارے مضامین انگریزی اور فارسی قرار پائے۔ ساتھ ساتھ ہم ریاضی کے امتحان کی بھی تیاری کرتے رہے، گویا ہم تین کی بجائے چار مضمون پڑھ رہے تھے۔ اسی طرح جو صورت حالات پیدا ہوئی اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں، جنہیں یونیورسٹی کے امتحانات کا کافی تجربہ ہے، ہماری قوت مطالعہ منتشر ہوگئی۔ اور خیالات میں پراگندگی پیدا ہوئی، اگر مجھے چار کی بجائے صرف تین مضامین پڑھنے ہوتے تو جو وقت فی الحال چوتھے مضمون کو دے رہا تھا۔ وہ بانٹ کر ان تینوں مضامین کو دے دیتا۔

آپ یقین مانیے اس سے بڑا فرق پڑ جاتا ہے اور فرق کیجئے اگر میں وقت، اس وقت تینوں کو بانٹ کر نہ دیتا بلکہ سب کا سب وقت بھی مضمونوں میں سے کسی ایک مضمون کے لئے وقف کر دیتا تو کم از کم اس مضمون میں تو ضرور پاس ہو جاتا لیکن موجودہ حالات میں تو وہی ہونا لازم تھا جو کہ ہوا یعنی یہ کہ میں کسی مضمون پر بھی کماحقہ توجہ نہ کرسکا۔ کمپارٹمنٹ کے امتحان میں تو پاس ہوگیا لیکن بی اے میں ایک تو انگریزی میں توفیل ہوا ہی تھا۔ انگریزی ہماری مادری زبان نہ تھی، اس کے علاوہ تاریخ اور فارسی میں بھی فیل ہوگیا۔ اب آپ ہی سوچیے گا کہ جو وقت مجھے کمپارٹمنٹ کے امتحان میں صرف کرنا پڑا، وہ اگر میں وہاں صرف نہ کرتا بلکہ اس کی بجائے، مگر خیر یہ بات پہلے ہی عرض کرچکا ہوں۔

فارسی میں کسی ایسے شخص کا فیل ہونا جو ایک علم دوست خاندان سے تعلق رکھتا ہو لوگوں کے لئے ازحد حیرت کا موجب ہوا، اور سچ پوچھئے تو ہمیں بھی اس پر سخت ندامت ہوئی، لیکن خیر اگلے سال یہ ندامت دھل گئی اور ہم فارسی پاس ہوگئے۔ اس سے اگلے سال تاریخ پاس ہوگئے اور اس سے اگلے سال انگریزی میں۔

اب قاعدے کی رو سے ہمیں بی اے کا سرٹیفکیٹ مل جانا چاہیے تھا، لیکن یونیورسٹی کی اس طفلانہ ضد کا کیا علاج کہ تینوں مضمونوں میں بیک وقت پاس ہونا ضروری ہے۔ بعض طبائع ایسی ہیں کہ جب تک یکسوئی نہ ہو مطالعہ نہیں کرسکتیں، کیا ضروری ہے کہ ان کے دماغ کو زبردستی ایک کھچڑی سابنا دیا جائے۔ ہم نے ہر سال صرف ایک مضمون پر اپنی تمام تر توجہ دی اور اس میں کامیابی حاصل کی، باقی دو مضمون ہم نے نہیں دیکھے، لیکن ہم نے یہ تو ثابت کر دیا کہ جس مضمون میں ہم چاہیں پاس ہوسکتے ہیں۔

اب تک تو دو مضمون میں فیل ہوتے رہے تھے، لیکن اس کے بعد ہم نے تہیہ کر لیا جہاں تک ہوسکے گا اپنے مطالعے کو وسیع کریں گے۔ یونیورسٹی کے بے ہودہ اور بے معنی قواعد کو ہم اپنی مرضی کے مطابق نہیں بنا سکتے تو اپنی طبیعت پر ہی کچھ زور ڈالیں۔ جتنا غور کیا اسی نتیجے پر پہنچے کہ تین مضمونوں میں بیک وقت پاس ہونا مشکل ہے، پہلے دو میں پاس ہونے کی کوشش کرنی چاہیے، چنانچہ ہم پہلے سال انگریزی اور فارسی میں پاس ہوگئے۔ اور دوسرے سال فارسی اور تاریخ میں پاس ہوگئے۔

1۔انگریزی، تاریخ، فارسی 2۔انگریزی، تاریخ3۔ انگریزی،فارسی 4۔تاریخ ،فارسی

گویا جن طریقوں سے ہم دو دو مضامین میں فیل ہوسکتے تھے، وہ ہم نے سب پورے کردیئے۔ اس کے بعد دو مضامین میں فیل ہونا نا ممکن ہوگیا اور ایک ایک مضمون میں فیل ہونے کی باری آئی چنانچہ ہم نے مندرجہ ذیل نقشے کے مطابق فیل ہونا شروع کیا۔

5۔ تاریخ میں فیل6۔ انگریزی میں فیل

اتنی دفعہ امتحان دے چکنے کے بعد جب ہم نے اپنے نتیجوں کو یوں اپنے سامنے رکھ کر غور کیا تو ثابت ہوا کہ غم کی رات ختم ہونے والی ہے، ہم نے دیکھا کہ اب ہمارے فیل ہونے کا صرف ایک ہی طریقہ باقی رہ گیا، وہ یہ کہ فارسی میں فیل ہوجائیں گے، لیکن اس کے بعد تو پاس ہونا لازم ہے۔ ہر چند کہ یہ سانحہ ازحد جانکاہ ہوگا ،لیکن اس میں یہ مصلحت تو ضرور مضمر ہے کہ اس سے ہمیں ایک قسم کا ٹیکہ لگ جائے گا، بس یہی ایک کسر باقی رہ گئی ہے، اس سال فارسی میں فیل ہوں گے اور پھر اگلے سال قطعی پاس ہوجائیں گے۔ چنانچہ ساتویں دفعہ امتحان دینے کے بعد ہم بیتابی سے فیل ہونے کا انتظار کرنے لگے، یہ انتظار دراصل فیل ہونے کا انتظا نہ تھا، بلکہ اس دفعہ پاس ہونے کا انتظار تھا کہ فیل ہونے کے بعد ہم اگلے سال ہمیشہ کے لئے بی اے ہوجائیں گے۔

ہر سال امتحان کے بعد جب گھر آتا تو والدین کو نتیجے کے لئے پہلے ہی سے تیار کر دیتا رفتہ رفتہ نہیں، بلکہ یک لخت اور فوراً۔ رفتہ رفتہ تیار کرنے سے خواہ مخواہ وقت ضائع ہوتا ہے۔ اور پریشانی مفت میں طول کھینچتی ہے، ہمارا قاعدہ یہ تھا کہ جاتے ہی کہہ دیا کرتے تھے کہ اس سال تو کم از کم پاس نہیں ہوسکتے۔ والد کو اکثر یقین نہ آتا۔ ایسے موقع پر طبیعت پر بڑی الجھن ہوتی، مجھے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے میںپرچوں میں کیا لکھ آیا ہوں۔ اچھی طرح جانتا تھا، ممتحن لوگ اگر نشے کی حالت میں پرچے نہ دیکھیں تو میرا پاس ہونا قطعاً ناممکن ہے۔ چاہتا ہوں کہ میرے تمام بہی خواہوں کو بھی اس بات کا یقین ہوجائے تاکہ وقت پر انہیں صدمہ نہ ہو۔ لیکن بہی خواہ ہیں کہ میری تمام تر تشریحات کو محض کسر نفسی سمجھتے ہیں، آخری سالوں میں والد صاحب کو فوراً یقین آجایا کرتا تھا، کیونکہ تجربے سے ان پر ثابت ہوچکا تھاکہ میرا اندازہ غلط نہیں ہوتا،لیکن ادھر ادھر کے لوگ اجی نہیں۔ اجی صاحب کیا کر رہے ہو، اجی یہ بھی کوئی بات ہے۔

ایسے فقروں سے ناک میں دم کردیتے۔۔۔۔ بہر حال اب کے ہم گھر پہنچے۔ ہم نے حسب دستور اپنے فیل ہونے کی پیشین گوئی کر دی۔ دل کو یہ تسلی ہوئی تھی کہ بس یہ آخری دفعہ ہے اگلے سال پیشین گوئی کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔

ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ وہ ہاسٹل کا قصہ پھر شروع کرنا چاہیے، اب تو کالج میں صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے، اب بھی ہوسٹل میں رہنا نصیب نہ ہوا تو عمر بھر گویا آزادی سے محروم رہے۔ گھر سے نکلے تو ماموں کے ڈربے میں اور جب ماموں کے ڈربے سے نکلے تو شاید اپنا ایک ڈربہ بنانا پڑے گا۔ آزادی کو ایک سال اور یہ آخری موقع ہے۔

آخری درخواست کرنے سے پہلے میں نے تمام ضروری مصالحہ بڑی احتیاط سے جمع کیا۔ پروفیسر سے مجھے اب بھی ہم عمری کا فخر حاصل تھا، ان کے سامنے نہایت بے تکلفی سے اپنی آرزﺅوں کا اظہار کیا۔ اور ان سے والد کو خط لکھوائے کہ اگلے سال لڑکے کو آپ ہاسٹل ضرور بھیج دیں، بعض کامیاب طلباءکے والدین سے بھی اس مضمون کی عرض داشت بھجوا دیں۔ خود اعداد وشمار ثابت سے کیا کہ یونیورسٹی سے جتنے طلباءپاس ہوتے ہیں ان میں اکثر ہوسٹل میں رہتے ہیں اور یونیورسٹی کا کوئی وظیفہ یا تمغہ انعام تو کبھی ہاسٹل سے باہر گیا ہی نہیں میں حیران ہوں کہ یہ دلیل مجھے اس سے پیشتر کبھی کبھی کیوں نہ سوجھی تھی، کیونکہ یہ بہت ہی کار گر ثابت ہوئی۔ والد کا انکار نرم ہوتے ہی غورو خوض میں تبدیل ہوگیا، لیکن پھر بھی ان کے دل سے ہی شک رفع نہ ہوا، کہنے لگے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جس لڑکے کو پڑھنے کا شوق ہو، وہ ہاسٹل کی بجائے گھر پر کیوں نہیں پڑھ سکتا۔

میں نے جواب دیا کہ ہاسٹل میں ایک علمی فضا ہوتی ہے جو ارسطو اور فلاطون کے گھر کے سوا اور کسی گھر میں دستیاب نہیں ہوسکتی۔ ہاسٹل میں جسے دیکھو بحر العلوم میں غوطہ زن ہے، باوجود اس کے باہر، ہر ہاسٹل میں دو تین تین سو لڑکے رہتے ہیں پھر بھی وہ خاموشی طاری رہتی ہے کہ قبرستان معلوم ہوتا ہے۔ وجہ یہ کہ ہر ایک اپنے اپنے کام میں لگ جاتا ہے۔ شام کے وقت ہاسٹل کے صحن میں جابجا طلباءعلمی مباحثوں میں نظر آتے ہیں۔ کھانے کے کمرے میں، کامن روم میں، غسل خانوں میں انگریزی کا شوق ہے وہ رات کو آپس میں شیکسپیئر کی طرح گفتگو کرتے ہیں ریاضی کے طلباءاپنے ہر ایک خیال کو الجبرا میں ادا کرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔ فارسی کے طلباءرباعیوں میں تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔

تاریخ کے دلدادہ.....

والد صاحب نے اجازت دے دی۔

اب ہمیں یہ انتظار تھا کہ کب فیل ہوں اور کب اگلے سال کے لئے عرضی بھیجیں۔ اس دوران میں ہم نے ان تمام دوستوں سے خط وکتابت کی جن کے متعلق یقین تھا کہ اگلے سال پھر ان کی رفاقت نصیب ہوگی، اور انہیں یہ مژدہ سنایا کہ آئندہ سال ہمیشہ کے لئے کالج کی تاریخ میں یاد گار رہے گا، کیونکہ ہم تعلیمی زندگی کا ایک وسیع تجربہ اپنے ساتھ لئے ہوسٹل میں آرہے ہیں۔ جس سے ہم نئی پود کو مفت مستفید فرمائیں گے، اپنے ذہن میں ہم نے ہاسٹل میں اپنی حیثیت ایک ماردِ مہربان کی سی سوچ لی، جس کے اردگردنا تجربہ کار طلبا مرغی کے بچوں کی طرح بھاگتے پھریں گے۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب جو کسی زمانے میں ہمارے ہم جماعت رہ چکے تھے، لکھ بھیجا کہ جب ہاسٹل میں آئیں گے تو فلاں مراعات کی توقع آپ سے رکھیں گے، اور فلاں فلاں قواعد سے مستثنیٰ لیں گے، اطلاعاً عرض ہے۔

اور یہ سب کچھ کر چکنے کے بعد ہماری بد نصیبی دیکھئے کہ جب نتیجہ نکلا تو ہم پاس ہوگئے۔

ہم پرجو ظلم ہوا سوہوا۔یونیورسٹی والوں کی حماقت ملاحظہ فرمایئے کہ ہمیں پاس کر کے اپنی آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ ہاتھ سے گنوا بیٹھے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 2 -