کلثوم نواز نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں انمٹ کردار ادا کیا،شہباز شریف

کلثوم نواز نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں انمٹ کردار ادا کیا،شہباز شریف

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے بیگم کلثوم نوازشریف کی پہلی برسی پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جنت آشیانی کلثوم نوازشریف نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مختصر لیکن انمٹ سیاسی کردار ادا کیا انہوں نے اس وقت آمر کو للکارا جب بڑے بڑے مرد میدان گھروں اور ڈرائنگ روم تک محدود تھے ان کی جمہوریت کے لئے قربانیوں اور عزم کا ثمر تھا کہ ملک میں جمہوریت واپس لوٹی ایک خالص گھریلو، تعلیم یافتہ، ادب شناس اور خاموش گو خاتون جس عزم وہمت سے آمریت سے ٹکرائی، وہ سیاسی تاریخ کا ناقابل فراموش حصہ ہے وہ آج مادر جمہوریت کے طورپر اپنی ہمیشہ کی یاد بن کر ہم میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ محترمہ فاطمہ جناح، تحریک پاکستان کی معزز ومحترم خواتین، محترمہ بے نظیر بھٹو اور کلثوم نوازشریف پاکستانی سیاسی تاریخ میں باہمت اور پرعزم خواتین کا انمٹ باب ہیں وہ ایک شفیق ماں، وفادار شریک حیات، غمگسار بہن، رحم دل و دین دار، اسلامی ومشرقی اقدار پر کاربند مسلمان اور پاکستانی اور باہمت سیاسی رہنما تھیں وہ ہماری یادوں، دعاوں اور پاکستانی کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی یہ دکھ ہمیشہ رہے گا کہ ایک اچھے انسان کو بستر مرگ پر بھی طنز کا نشانہ بنایا گیا آج ان تمام کو اللہ کے حضور معافی مانگنی چاہئے جنہوں نے ایک اچھے انسان کو دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے بھی دعا کے بجائے طنز کا نشانہ بنایا۔کلثوم نواز شریف کا انتقال ہم سب کے لئے ایک سبق ہے کہ سیاسی اختلاف پر بنیادی انسانی و اخلاقی قدروں کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو ہم سے بچھڑے ایک سال ہو گیا ہے،سابق خاتون اول گزشتہ سال ہارلے سٹریٹ کلینک لندن میں 68 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں تھیں۔ بیگم کلثوم نواز کینسر کے مرض مبتلا تھیں۔تفصیلات کے مطابق بیگم کلثوم نواز نے یکم جولائی 1950ء کو اندورن لاہور کے کشمیری گھرانے میں حفیظ بٹ کے ہاں آنکھ کھولی۔ میٹرک لیڈی گریفن اسکول،ایف ایس سی اور بی ایس سی کی ڈگری اسلامیہ کالج سے حاصل کی۔ ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کے باعث انہوں نے 1972ء میں فارمین کرسچیئن کالج سے اردو لٹریچر میں بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ انہوں نے اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔ کلثوم نواز نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔اپریل 1971ء میں کلثوم بی بی نے نواز شریف کے ساتھ ازواجی زندگی کا آغاز کیا، بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز، جبکہ دو بیٹیاں مریم نواز اور اسماء نواز ہیں۔میاں نوازشریف کے پہلی مرتبہ 6 نومبر 1990ء کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر بیگم کلثوم نواز کو خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا جو 18 جولائی 1993ء تک برقرار رہا۔ وہ 17 فروری 1997ء کو دوسری مرتبہ خاتون اول بنیں۔12اکتوبر 1999ء کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹایا تو امور خانہ داری نمٹانے والی خاتون بیگم کلثوم نواز کو تنہا اپنے شوہر کے حق میں آواز اٹھانا پڑی۔ انہوں نے نہ صرف شوہر کی رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو بھی سہارا دیا اور 1999ء میں مسلم لیگ (ن) کی پارٹی کی قیادت سنبھالی۔جون 2013ء میں انہیں تیسری مرتبہ خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو صرف 28 جولائی 2017ء تک ہی رہ سکا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر نوازشریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ انہیں این اے 120 سے ڈی سیٹ کردیا گیا۔ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری ہوا تو مسلم لیگ (ن) نے نوازشریف کی اہلیہ کو میدان میں اتار دیا۔ بیگم کلثوم نواز علیل ہونے کے باعث 17 اگست کو لندن روانہ ہوئیں جس کے باعث این اے 120 سے انتخابی مہم چلانے کا بیڑہ بیٹی مریم نواز نے اٹھایا۔کینسر کے مرض کے باعث لندن منتقل کیا گیا تھا جہاں لندن کے بہترین ڈاکٹرز کی ایک ٹیم ان کا علاج کر رہی تھی۔ دوران علالت ہی الیکشن میں ان کی کامیابی کا اعلان کیا گیا جس پر مسلم لیگ ن کے حلقوں کی جانب سے بے پناہ خوشی کا اظہار کیا گیا۔ مگر وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف لینے سے قاصر رہیں۔بیگم کلثوم نواز کی ہارلے سٹریٹ کلینک میں اچانک طبیعت زیادہ بگڑ گئی،، پھیپھڑوں کا مسئلہ سنگین ہوا تووہیں خالق حقیقی سے جا ملیں۔ انتقال کے وقت ان کے بیٹے حسین نواز،،حسن نواز،،چھوٹی بیٹی اسما اور اسحاق ڈار بھی ہسپتال میں موجود تھے۔میت کو پاکستان منتقل کر کے رائیونڈ جاتی امرا میں سپرد خاک کیا گیا۔

کلثوم نواز

شہبازشریف

مزید :

صفحہ اول -