امریکہ نے ٹی ٹی پی کے مفتی نورولی محسود سمیت کالعدم تنظیموں کے 13افراد کو عالمی دہشتگرد قراردیدیا

امریکہ نے ٹی ٹی پی کے مفتی نورولی محسود سمیت کالعدم تنظیموں کے 13افراد کو ...

  

واشنگٹن،کابل(بیوروچیف،آئی این پی) امریکہ نے نائن الیون کی18ویں برسی پر ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود سمیت دیگر کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دیدیا۔امریکی محکمہ خارجہ نے داعش، حزب اللہ، حماس، فلسطین اسلامی جہاد اور تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)سے تعلق رکھنے والے 13افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے بھی داعش، القاعدہ، حماس اور پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے 15افراد کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے پابندیاں عائد کردی ہیں۔امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کا مقصد انہیں دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور حملوں سے روکنا ہے، ان تمام افراد کے اثاثوں اور جائیدادوں پر پابندی لگادی گئی اور لوگوں کو ان افراد کے ساتھ ہر طرح کے لین دین سے روک دیا گیا۔ٹی ٹی پی نے پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور جون 2018 میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد مفتی نور ولی محسود نے ٹی ٹی پی سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔مفتی نور ولی پاکستان کے مختلف مقامات پر پرتشدد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ اس کا شمار ٹی ٹی پی کے سابق مارے جانے والے سربراہوں بیت اللہ محسود اور مفتی ولی الرحمن کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے گئے دیگر افراد میں فلسطینی تنظیم حماس کی عزالدین قسام بریگیڈ کے نائب کمانڈر مروان عیسی، فلسطین اسلامک جہاد کے نائب سیکرٹری جنرل محمد الہندی، فلسطین تنظیم القدس بریگیڈ کے کمانڈر بہا عبدالعطا، حزب اللہ کے 4 سینئر رہنما علی کاراکی، محمد حیدر، فواد شاکر اور ابراہیم عاقل، داعش کے 3 سینئر رہنما حاجی تیسر، ابو عبداللہ ابن عمر البرناوی اور حاطب حاجان سواد جان جبکہ القاعدہ کے حراس الدین اور فاروق السوری شامل ہیں۔دوسری جانب ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے بیان دیا ہے کہ امریکہ نے مذاکرات معطل کرکے غلطی کی اور وہ اپنے فیصلے پر پچھتائے گا۔خبر رساں ادارے الجزیرہ کو دیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے ان کے پاس جہاد اور مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔انہوں نے افغانستان میں جہاد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ مذاکرات کے لیے راضی نہیں تو وہ غیر ملکی فوجوں کے خلاف مسلح جنگ جاری رکھیں گے۔دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے ایک بار پھر طالبان سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

عالمی دہشت گرد قرار

واشنگٹن (آئی این پی) امریکہ افغان مذاکرات کی دوبارہ شروعات کیلئے آئندہ ہفتے اعلیٰ سطحی وفد پاکستان پہنچے گا، امریکی افواج پر طالبان کے حملوں سے متعلق پاکستان کی مدد طلب کی جائے گی، افغان امن عمل میں طالبان اور امریکہ مابین مذاکرات کیلئے پاکستانی کردار اہم ہے، ہم پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے کردار کو سراہتے ہیں کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ذرائع کے مطابق افغان امن مذاکرات کی دوبارہ شروعات کیلئے آئندہ ہفتے ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا، وفد قیام امن کیلئے افغانستان میں امریکی افواج پر طالبان حملوں سے متعلق پاکستان کی مدد طلب کرے گا۔ امریکی سیکرٹری دفاع رینڈل شرائیور نے پاکستانی سفارتخانے میں ایک تقریب میں شرکت کے موقع پر کہا ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا جو پاکستان کی ملٹری و سیاسی قیادت سے گفتگو کرے گا کہ افغان امن عمل کیلئے امریکی افواج پر حملہ نہ کیا جائے تا کہ مذاکرات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل میں طالبان اور امریکہ مابین مذاکرات کیلئے پاکستانی کردار اہم ہے، ہم پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے کردار کو سراہتے ہیں کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے اقدامات قابل تعریف ہیں، امریکہ کی خواہش ہے کہ یہ مذاکرات جلد از جلد بحال کئے جائیں۔

امریکی وزیر دفاع

مزید :

صفحہ اول -