سانحہ بلدیہ کو 7سال بیت گئے،کیس آج بھی عدالت میں زیر التوا 

  سانحہ بلدیہ کو 7سال بیت گئے،کیس آج بھی عدالت میں زیر التوا 

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)بلدیہ فیکٹری کے اندوہناک سانحے کو ہوئے سات برس بیت گئے لیکن کیس آج بھی عدالت میں زیر التوا ہے اور متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں ہونے والے سانحہ بلدیہ فیکٹری کو سات برس گزر گئے مگر دو سو ساٹھ افراد کو زندہ جلانے والے سفاک قاتل انجام تک نہ پہنچ سکے،جبکہ کیس تاحال انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر التوا ہے،اس واقعے پر ٹربیونلز بھی بنائے گئی جی آئی ٹی بھی بنائی گئی لیکن ملزمان کو سزا نہ مل سکی۔کیس میں کل ساتھ سو اڑسٹھ گواہان تھے جس میں تین سو چونسٹھ کو غیر ضروری قرار دے دیا گیا جبکہ باقی گواہان کے بیانات قلمبند ہوگئے ہیں اور پانچ گواہوں کے بیانات ابھی قلمبند ہونا باقی ہیں۔سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ایم کیو ایم کے کارکن عبدالرحمن بھولا اور زبیر چریا گرفتار ہیں،کیس میں کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما روف صدیقی، کارکن زبیر عرف چریا اور عبدالرحمن بھولا پر فرد جرم عائد کی تھی اور علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا تھا۔سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ایم کیو ایم کے سابق سیکٹر انچارج عبدالرحمن عرف بھولا نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے ایک اعترافی بیان میں کہا تھا کہ فیکٹری کے مالکان نے بھتے کی رقم اور فیکٹری میں شراکت داری دینے سے انکار کیا جس کی وجہ سے اس نے زبیر عرف چریا اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر حماد صدیقی کے کہنے پر بلدیہ میں قائم گارمنٹس فیکٹری کو آگ لگائی۔جبکہ اس ہی کیس میں رینجرز نے سندھ ہائیکورٹ میں ایک رپورٹ بھی جمع کرائی تھی جس میں ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ایک گروہ کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا گیا تھا۔پراسیکیورٹر ساجد محمود شیخ نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد دیگر پانچ گواہوں کے بھی بیان قلمبند کرکے ملزمان کو سزا دلائی جائے گی۔

 ش

مزید :

صفحہ اول -