ملزمالکان نے منافع بڑھانے کیلئے چینی مہنگی کی، یوریا بوری 200روپے مہنگی ہو گی 

ملزمالکان نے منافع بڑھانے کیلئے چینی مہنگی کی، یوریا بوری 200روپے مہنگی ہو ...

  

کراچی (آئی این پی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ عوام کا استحصال اور ناقابل قبول ہے۔چینی جوکچھ عرصہ قبل پینتالیس روپے کلو دستیاب تھی اب اسی روپے فی کلو بک رہی ہے اور اسکی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چینی کی قیمت میں بلاجواز اضافہ سے شوگر مل مالکان کے منافع اور عوام کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے مگر کوئی اس کا نوٹس لینے کو تیار نہیں ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ چینی کی قیمت بڑھانے سے سرمایہ داروں کا منافع بڑھ رہا ہے مگر گنے کے کاشتکاروں کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ انکا استحصال جاری ہے۔ ان کی پیداوارکی کوڑیوں کے مول خریدنے، انکی ادائیگیاں روکنے اور دیگر منفی ہتھکنڈوں کا سلسلہ پورے زور و شور سے جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ یوریا کی قیمت میں بھی دو سو روپے فی بوری کا اضافہ جلد ہی متوقع ہے جس سے زرعی پیداوار کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا جس سے عوام کی پریشانی بڑھے گی۔انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے لئے سالانہ افراط زر 6 فیصد مقرر کی گئی تھی لیکن مہنگائی کی یہ شرح فروری میں 11.63 فیصد تک پہنچ گئی جو گزشتہ پانچ سال کی بلند ترین شرح ہے۔مارکیٹ میں کئی اشیاء کی قیمت تیس سے چالیس فیصد تک بڑھی ہیں مگر محکمہ شماریات کو وہ نظر نہیں آتا۔آٹا، چاول، ادویات، گوشت، مرغی، مونگ، ماش، مسور اور چنے کی دال کی قیمت بھی بڑھی ہے۔ اس کے علاوہ تازہ سبزیوں، پھلوں، دودھ، پکانے کے تیل، کپڑے، تیل،  چائے کرائے اور دیگر روز مرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جس نے عوام کی کمر توڑ دی ہے مگر حکومت قیمتوں کی فہرست جاری کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی۔

اکانومی واچ

مزید :

صفحہ آخر -