پولیس حراست میں اموات تشویشناک، قانون کی حکمرانی میں کرپشن سب سے بڑی رکاوٹ،اٹارنی جنرل 

  پولیس حراست میں اموات تشویشناک، قانون کی حکمرانی میں کرپشن سب سے بڑی ...

اسلام آباد( آن لائن) نئے عدالتی سال کے حوالے سے تقریب سپریم کورٹ کی عدالت نمبر 1 میں منعقد ہوئی،تقریب کو ویڈیو لنک کے ذریعے جاری رجسٹریز میں بھی لائیو نشر کیا گیا۔ اس موقع پر احاطہ عدالت میں ججز، لاء افسران  اور وکلاء کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور نے کہا کہ اس وقت  وطن عزیز کو دہشتگردی سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد موجودہ چیف جسٹس نے بھی فوری انصاف پر توجہ مذکور کی تھی مقدمات اور فوری نمٹانے کیلئے ماڈل کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا عالمی عدالت انصاف نے بھی پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اس کی بنیادی وجہ سپریم کورٹ کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کے مقدمات کے فیصلے ہیں،انصاف کے شعبے میں دیگر اہم اصلاحات بھی کی گئی  ہیں قانون کی حکمرانی میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے، ماتحت عدلیہ، پولیس، وکلاء اور پراسکیوٹرز کی سطح پر جدید نظام کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل امجد شاہ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ماتحت عدلیہ میں انصاف کی فراہمی کبھی تسلی بخش نہیں رہی لوگوں کو مقدمات کے فیصلوں کیلئے لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے واٹس ایپ اور ججزکے تبادلے کے احکامات سے اجتناب  ضروری ہے،آئین کی بالادستی کیلئے ہر ادارہ اپنے  حدو میں رہ کر کام کرے تو معاملات بہت  بہتر ہوسکتے ہیں حساس ادارے ارباب اختیار کی نجی زندگیوں کی جاسوسی کرکے انہیں بلک میل کررہے ہیں،سابق وزراء  اعظم کے مقدمات تو جلدی نمٹا دیئے گئے جوڈیشل کونسل کیخلاف درخواستوں کو فل کورٹ کے سامنے لگایا جائے،سپریم کورٹ سے سزا یافتہ پولیس افسران آج بھی اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں،پولیس کی حراست میں لوگوں کی اموات تشویشناک ہیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ تما م اختلافات کمزوریوں کے باوجود وطن کے دفاع کیلئے ہم سب ایک ہیں،سپریم جوڈیشل کونسل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے جب تک کسی کیس کا فیصلہ نہیں آجاتا میڈیا کو کسی کی پگڑی اچھالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

انور مسعود

مزید : صفحہ آخر


loading...