بھارت، مسلمان کے قتل میں نامزد ملزمان کیخلاف دفعہ 302خارج

    بھارت، مسلمان کے قتل میں نامزد ملزمان کیخلاف دفعہ 302خارج

نئی دہلی(آئی این پی)بھارتی پولیس نے مسلمان نوجوان سے جبری طور پر 'جے سری رام' کے نعرے لگوانے اور اسے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار 11ملزمان کے خلاف قائم مقدمے سے قتل کی دفعہ خارج کردیں۔بھارتی میڈیا میں شائع رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی جنوبی ریاست جھارکھنڈ کی پولیس نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان کے خلاف 302قتل کی دفعہ اس لیے خارج کی گئیں کیونکہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق تبریز انصاری کی موت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی'۔واضح رہے کہ تبریز انصاری کے قتل، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، کے کیس میں غفلت برتنے پر 2پولیس افسران کو معطل بھی کردیا گیا تھا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 24سالہ تبریز انصاری کو مشتعل ہجوم نے بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے گاں سرائے قلعہ میں تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں ہندو مذہب کا نعرہ 'جے سری رام' لگانے پر مجبور کیا جارہا تھا اور مقتول کو ہجوم سے روتے ہوئے اپنی جان بخشنے کی درخواست کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔تبریز انصاری پر گاں کے لوگوں نے نقب زنی کا الزام عائد کیا تھا اور اسے ایک کھمبے سے باندھ کر 12 گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد اسے پولیس نے حراست میں لے کر ہسپتال منتقل کیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تبریز انصاری کی اہلیہ نے پولیس پر الزام عائد کیا تھا کہ پولیس نے اسے شدید زخمی ہونے کے باوجود بھی جان بوجھ کر حراست میں لینے کے بعد ہسپتال لے جانے کے بجائے پہلے تھانے لے کر گئی تھی۔اس ضمن میں پولیس سپرنٹنڈنٹ کرتھیک ایس نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر سے دفعہ 302 خارج کرنے کی دو وجوہات بتائیں، پہلی یہ کہ تبریز انصاری موقع پر جاں بحق نہیں ہوا اور دوسری یہ کہ گاں والوں کی نیت اسے قتل کرنے کی نہیں تھی۔انہوں نے بتایا کہ علاوہ ازیں میڈیکل رپورٹ کے مطابق تبریز کی موت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی تھی۔پولیس حکام کے مطابق پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ میں کہا گیا کہ تبریز انصاری کی موت سر میں زخم کی وجہ سے نہیں ہوئی۔

 دفعہ خارج

مزید : صفحہ آخر


loading...