وازرت پٹرولیم میں کرپشن، بدیانتی اور نااہلی کے سکینڈل کا انکشاف

وازرت پٹرولیم میں کرپشن، بدیانتی اور نااہلی کے سکینڈل کا انکشاف

اسلام آباد(آن لائن) وزارت پٹرولیم کے ذیلی ادارہ انٹرسٹیٹ گیس سروسز (آئی ایس جی) میں کرپشن، بدیانتی اور نااہلی کے مزید سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق تاپی گیس منصوبے کے دبئی میں قائم مرکزی سیکرٹریٹ میں پاکستان کی نمائندگی انگریزینس(YENS)نامی شخص کررہا ہے کیونکہ پورے پاکستان میں وزارت پٹرولیم کو کوئی ایسا پاکسانی نہیں ملا جو تاپی گیس منصوبے کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرسکے۔تاپی گیس منصوبہ میں پاکستان،ترکمانستان، افغانستان اور بھارت شامل ہیں اس منصوبے کی فزیبیلٹی مکمل ہونے کے بعد دبئی میں مرکزی سیکرٹریٹ بنایا گیا ہے اس منصوبے کی تکمیل کی ذمہ داری انٹرسٹیٹ گیس(آئی ایس جی) کی ذمہ داری ہے جس کا سربراہ مبین صولت ہے جو گزشتہ10 برسوں سے اس اہم قومی ادارہ سے چسپاں ہیں اور اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہے اور سابق مشیر پٹرولیم ڈاکٹر محمد عاصم اور سابق وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کی کرپشن میں وعدہ معاف گواہ بن کر نیب کو اپنا بیان ریکارڈ کراچکے ہیں۔ذرائع کے مطابق آئی ایس جی کے سربراہ مبین صولت نے اپنی کرپشن بچانے کیلئے تاپی مرکزی سیکرٹریٹ میں پاکستانی کو تعینات کر نے کی بجائے ایک گورا شخص کو تعینات کررکھا ہے اس سیکرٹریٹ میں افغانستان نے اپنا افغان نمائندہ تعینات کیا ہوا ہے بھارت نے بھارتی اورترکمانستان نے اپنا ترکمانستانی نمائندہ تعینات کررکھا ہے جبکہ پاکستان کے کرپٹ افسران نے پاکستانی کی بجائے انگریز شخص کو تعینات کیا ہے۔ذرائع کے مطابق مبین صولت نے یہ خاموشی سے اقدام اس لئے کیا ہے تاکہ کوئی پاکستانی ماہر نہیں، تاپی گیس منصوبے میں مبینہ اربوں سے کی کرپشن کا کھوج نہ لگا سکے۔ذرائع کے مطابق مبین صولت نیب میں بیان ریکارڈ کرانے کے بعد اب کینیڈا بھاگنے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس صورتحال کے حوالے سے مبین صولت اور ترجمان وزارت پٹرولیم سے موقف کیلئے رابطہ کیا گیا لیکن وہ جواب دینے سے گریزاں تھے۔

انکشاف

مزید : صفحہ آخر


loading...