پنجاب کابینہ، ”احساس پروگرام“ پنجاب اور وفاق میں اشتراک کار بڑھانے کا فیصلہ 

پنجاب کابینہ، ”احساس پروگرام“ پنجاب اور وفاق میں اشتراک کار بڑھانے کا ...

  

لاہور(این این آئی)پنجاب کابینہ نے ”احساس پروگرام“کے تحت پنجاب اور وفاق کے درمیان اشتراک کار بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔صوبائی کابینہ کے 17 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ احساس پروگرام معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کو اوپر اٹھانے کیلئے تحریک انصاف کا فلیگ شپ پروگرام ہے اورپنجاب حکومت احساس پروگرام کے حوالے سے ہرممکن تعاون کرے گی۔اجلاس میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ”احساس“ پروگرام پر بریفنگ دی۔اجلاس میں کابینہ سب کمیٹی برائے فلڈ کا نام بدل کر کابینہ سب کمیٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ رکھنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ سب کمیٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے کنوینر صوبائی وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ میاں خالد محمود ہوں گے۔اجلاس میں غیر فعال پبلک سیکٹر کمپنی لاہور واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔کابینہ نے کمپنی بند کرنے کی منظوری دی۔وزیراعلیٰ نے پنجاب میں پبلک سیکٹر کی دیگر کمپنیوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری کمپنیوں کے بارے میں رپورٹ آنے پر فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے مشیر ڈاکٹر سلمان شاہ کو کمپنیوں کے بارے میں جلد حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں رواں مالی سال برائے 2019-20 کیلئے شیخ زید میڈیکل کمپلیکس لاہور کیلئے گرانٹ ان ایڈ مختص کرنے اور اجراء کی مشروط منظوری دی گئی۔پبلک سیکٹر انٹرپرائزز حکومت پنجاب کے مالی سال 2018-19 کے آڈٹ اور پبلک سیکٹر کمپنیز حکومت پنجاب والیم 3 مالی سال 2017-18  کے حوالے سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں چولستان یونیورسٹی آف وٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور کے وائس چانسلر کے تقرر کی منظوری دی گئی جبکہ یہی کمیٹی یونیورسٹی آف وٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے وائس چانسلر کی تقرری کیلئے بھی سفارشات پیش کرے گی۔اجلاس میں پنجاب میونسپل سروسز پروگرام پر عملدر آمد کیلئے پہلے مرحلے کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں پنجاب میں 194 شہری اور 3316 دیہی لوکل گورنمنٹ اداروں کے فنڈز کے استعمال کیلئے حکمت عملی کی بھی منظوری دی گئی۔ سٹریٹ لائٹس، نکاسی و فراہمی آب سکیموں کی بحالی، سالڈ ویسٹ مشینری کی فراہمی اور دیگر سہولتیں عوام کو ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں گی۔پروگرام پر عملدرآمد کیلئے ضلع کی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔پہلا مرحلہ رواں مالی سال جون 2020 تک مکمل کیا جائے گااوراس پروگرام پر تقریباً27ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وصول شدہ ٹال ٹیکس اسی علاقے کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر ہی خرچ کرنے کے فیصلے پر عملدرآمدیقینی بنایا جائے گا اوراس سے سڑکوں کی تعمیرو مرمت کیلئے درکار فنڈزدستیاب ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے حالیہ سیلاب اور دریاؤں کے کٹاؤ کے باعث پنجاب کے بعض علاقوں کے دیہات میں پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈسکسیشن سرٹیفکیٹس ایکٹ 2019 کی منظوری دی گئی۔اس ایکٹ کی منظوری سے وراثتی سرٹیفکیٹس نادرا سے جاری ہوں گے اورنادرا میں سپیشل سکسیشن فسیلیٹیشن یونٹ بھی قائم ہوں گے۔کابینہ نے صوبائی سطح پر لا ء ریفارمز متعارف کرانے کی بھی منظوری دے دی۔اجلاس میں پنجاب سوشل پروٹیکیشن اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی منظوری دی گئی۔پنجاب کے مختلف علاقوں میں منہ کھر کنٹرول پروگرام اور مویشیوں کی بیماریوں کے علاج کیلئے یونی لیٹر ٹرسٹ فنڈ پروگرام کے تحت معاہدے کی اجازت دی گئی۔پنجاب کابینہ کے اجلاس میں قائداعظمؒ کے یوم وفات کے حوالے سے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 70 سال گزرنے کے بعد بھی ہندوؤں کے انتہاپسند رویوں نے علیحدہ وطن کیلئے قائداعظمؒ کے نظریات کو درست ثابت کیا۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سرکار کی طرف سے مسلسل آٹھ ہفتے سے جاری کرفیو اور لاک ڈاؤن کی مذمت کی گئی۔پنجاب کابینہ نے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں بدل دیا ہے۔ بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔ پنجاب اور پاکستان کے عوام کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔کابینہ کے اجلاس میں عاشورہ محرم الحرام کے دوران عزاداروں کی سکیورٹی اورامن عامہ کیلئے انتظامات پرکابینہ کمیٹی برائے امن و امان کی کارکردگی کی تعریف کی اور چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل پولیس اور ان کی پوری ٹیم اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا گیا۔علاوہ ازیں یوم عاشور پر وزیراعلیٰ نے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے لاہور شہر کا فضائی جائزہ لیااور سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔بعدازاں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا،کیمروں کی مدد سے جلوسوں کی نگرانی اورسکیورٹی انتظامات کی مانیٹرنگ کا نظام دیکھا گیا۔

پنجاب کابینہ/وزیراعلیٰ

مزید :

صفحہ اول -