اگر سمندری کا علاقہ نہ ہوتا ہم صرف فوجداری مقدمات سن رہے ہوتے، چیف جسٹس کا قتل کیس کے مجرم کے وکیل سے دلچسپ مکالمہ

اگر سمندری کا علاقہ نہ ہوتا ہم صرف فوجداری مقدمات سن رہے ہوتے، چیف جسٹس کا ...
اگر سمندری کا علاقہ نہ ہوتا ہم صرف فوجداری مقدمات سن رہے ہوتے، چیف جسٹس کا قتل کیس کے مجرم کے وکیل سے دلچسپ مکالمہ

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے چار قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی،عدالت نے مجرم سلیم کی سزائے موت ختم کرنے کی اپیل مسترد کردی، چیف جسٹس نے دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل سے دلچسپ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سمندری کا علاقہ نہ ہوتا توہم صرف فوجداری مقدمات سن رہے ہوتے ،سمندری میں سکول کھولیں اور لوگوں کو تعلیم دیں،یہ سمندری والے کیا کام کرتے رہتے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چار قتل کے مجرم کی سزائے موت کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر ملزم قتل کرنے کی غرض سے آئے تھے تو آتے ہی فائرنگ کر دیتے،ایف آئی آر سے لگتا ہے واقعے سے پہلے تلخ کلامی ہوئی ،ایسا لگتا ہے ملزموں کو فائرنگ پر اکسایا گیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار نے ایف آئی آر میں لکھامیرے لڑکوں نے بھی برا بھلا کہا ،برابھلا کہنے کی نوعیت کیاتھی کچھ معلوم نہیں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جب اصل وجہ پتانہ چلے تو پھر احتیاط کے تقاضے شروع ہو جاتے ہیں،یہاں زندگی اور موت کا سوال ہے ،پراسیکیوشن مقدمے کا مقصد ثابت نہیں کر سکی ،ایف آئی آر میں بھی لکھے گئے شواہد ثابت نہیں ،درخواست گزار نے خود کہا قتل کی پہلے ہی منصوبہ بندی نہیں تھی ۔چیف جسٹس نے دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سمندی کا علاقہ نہ ہوتا توہم صرف فوجداری مقدمات سن رہے ہوتے ،سمندری میں سکول کھولیں اور لوگوں کو تعلیم دیں ،یہ سمندری والے کیا کام کرتے رہتے ہیں ۔عدالت نے چار قتل کے مجرم سلیم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی،عدالت نے مجرم سلیم کی سزائے موت ختم کرنے کی اپیل مستردکردی۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...