ابھی تک سفارشات تیار ہوئیں نہ ہی وزیر اعظم کراچی آکر آرٹیکل 149 لاگو کرنے کا اعلان کریں گے:حلیم عادل شیخ

ابھی تک سفارشات تیار ہوئیں نہ ہی وزیر اعظم کراچی آکر آرٹیکل 149 لاگو کرنے کا ...
ابھی تک سفارشات تیار ہوئیں نہ ہی وزیر اعظم کراچی آکر آرٹیکل 149 لاگو کرنے کا اعلان کریں گے:حلیم عادل شیخ

  


کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر اور رکن صوبائی اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت وفاق سندھ حکومت کو ڈائریکشن دے گا کہ سندھ حکومت ٹھیک سے کام کرے،اس آرٹیکل کے تحت ہم سندھ حکومت کو پابند کریں گے کہ وہ صوبے کی عوام کے مسائل حل کرے لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی سفارشات تیار نہیں ہوئی اور نہ ہی  وزیر اعظم کراچی آکر 149 لاگو کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، ابھی تو کام شروع ہوا ہے، سفارشات بنائیں گے، جسمیں پورے سندھ کے مسائل حل کا بتائیں گے۔

سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں  اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی،خرم شیر زمان، محفوظ عرسانی،دعا بھٹو ،شاہ نواز جدون سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ ہم تحریک چلائیں گے  کہ مراد علی شاہ نے سندھ کو تباہ کیا ہے،وہ استعفیٰ دیں اور  نئی کابینہ ترتیب دی جائے۔ انہوں نےکہا سندھ میں کتوں کے کاٹنے سے ہزاروں لوگ زخمی ہوئے ہیں،ان کتوں سے سندھ کو نجات دلائیں گے،پورے سندھ میں ویکسین نہیں ملتی، ہزاروں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر ہیں،12 سالوں سے سعید غنی کہہ رہے ہیں بجٹ لارہے ہیں،ڈرامہ بنایا گیا تھا کہ وفاق پیسے نہیں دیتا،دس سالوں میں کراچی کی عوام کو پانی نہیں دیا گیا،عوام کو پیاسا مارا گیا ،میرے حلقے میں عوام پانی کی بوند  بوندکو ترستی ہے،زرداری اور فریال تالپور کو عوام کی بد دعائیں ہیں جس کی وہ سزا کاٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ  پیپلزپارٹٰ نے کراچی کو دنیا کا چھوتھا گندا شہر بنا دیا ہے،کراچی سندھ کا دارالخلافہ ہے کوئی سندھ سے الگ نہیں ہے،شہر گندگی کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے،ایسے حالات میں ہم کام نہ کریں تو کیا کریں؟ کراچی سندھ کا شہر ہے،کراچی بدلے گا تو سندھ بدلے گا، نئے پاکستان میں نیا سندھ بھی بنے گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں ترقیاتی کاموں کے نام پر کرپشن کی گئی،کے فور منصوبے پر25 ارب وفاق نے دیئے ،منصوبہ غلط پلاننگ ہونے کی وجہ رک گیا،ان ظالموں کی وجہ سے سندھ میں ایڈز،ہیپاٹائٹس پھیل گئی ،عوام کو صحت کی سہولیات میسر نہیں،گندگی کے ڈھیر ہیں، پانی عوام کو نہیں ملتا، کراچی کے بارے میں کوئی سوچے یا نہ سوچے ہم سوچیں گے، کمیٹٰی بنائی گئی ہے جو سفارشات دے گی ،پورے سندھ کے مسائل حل کریں گے ،ہم سندھ کی تقسیم کے خلاف تھے اور خلاف ہیں، سفارشات دیں گے جو کراچی، حیدرآباد سکھر کے لئے بہتر ہونگی، آرٹیکل149 کوئی مارشل لاء کا  نفاذ نہیں ہے،وہ ایک ڈائریکشن ہوگی جو وفاق سندھ حکومت کو دیگا،پیپلزپارٹی کا سندھ کارڈ ختم ہوچکا ہے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...