شاہراہوں پرخواتین کی عزت محفوظ نہ رہنا سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان،زیادتی کےمجرموں کو سرِ عام پھانسی دی جائے،جماعت اسلامی شعبہ خواتین

شاہراہوں پرخواتین کی عزت محفوظ نہ رہنا سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر ...
شاہراہوں پرخواتین کی عزت محفوظ نہ رہنا سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان،زیادتی کےمجرموں کو سرِ عام پھانسی دی جائے،جماعت اسلامی شعبہ خواتین
کیپشن:    سورس:   JIP

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی حلقہ کے زیر اہتمام خواتین جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت ڈپٹی سیکریٹری جنرل ثمینہ سعید،،ربیعہ  طارق صدر وسطی پنجاب، ڈاکٹر زبیدہ جبیں صدرلاہور۔ رہنما جماعت اسلامی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی،   ڈائریکٹر فلاح خاندان عافیہ سرور و دیگر قائدین نے کی۔

احتجاجی مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنسی درندگی کرنے والے کو قرآن و سنت کے مطابق سزائیں دی جائے۔  بچوں اور بچیوں کو زیادتی کے بعدقتل کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، جنسی درندگی کرنے والوں کو بروقت نشان عبرت بنایا جائے تو زیادتی کے واقعات کا خاتمہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تیزی سے بڑھتا جنسی تشدد، جرائم، لاقانونیت قانون فافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں، گزشتہ چند سالوں کے دوران بہت بڑی تعداد میں قوم کی بیٹیاں اور معصوم بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے جو تشویشناک امر ہے۔

ذکر اللہ مجاہد نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موٹر وے پر بچوں کے سامنے گن پوائنٹ پر عورت کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو سر عام پھانسی دی جائے،آئین ِپاکستان کے آرٹیکل 35 کے تقاضے کے مطابق شادی، خاندان،ماں اور بچے کی حفاظت کے حوالہ سے مملکت اپنی ذمہ داری پوری کرے،دو ماہ میں ہی 73 زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے،موٹر وے پر خاتون سے ساتھ زیادتی  انسانیت کے نام پر سیاہ دھبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ  حکمران عوام کے جان و مال کا تحفظ اور چادر و عصمت کاتحفظ میں ناکام ہوچکے ہیں جبکہ بڑی شاہراہوں پر بھی خواتین کی عزت محفوظ نہ رہنا سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

اس موقع پر ڈپٹی سیکریٹری جنرل ثمینہ سعید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  آئین کے آرٹیکل 37(g) کے مطابق حکومت عصمت فروشی، قمار بازی، ضرررساں ادویات کے استعمال، فحش لٹریچر اور اشتہارات کی طباعت، نشر و اشاعت اور نمائش کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے اور ملک میں حیا کا کلچر عام کیا جائے۔ جنسی زیادتی کے گھناونے اوراندوہناک واقعات کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کے ساتھ روابط کے ذریعے پورے ملک میں ایسے اداروں، افراد کا سراغ لگایا جائے جو فحاشی اور برائی پھیلارہے ہیں۔  ربیعہ طارق نے کہا کہ میڈیا پر ہیجان پھیلانے کے بجائے اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے۔ ناظمہ جماعت اسلامی لاہور ڈاکٹر زبیدہ جبیں نے کہا کہ بچوں، بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں رہا شدہ مجرموں کا نام ای سی ایل میں ڈالاجائے اور پورے ملک میں بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں سمیت موٹر وے کے مجرموں کوگرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ رہنما جماعت اسلامی حلقہ خواتین ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ بچوں اور بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی،ریپ اور قتل کے مجرموں کوقانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بِلاتاخیر سرِ عام پھانسی دی جائے۔ڈائریکٹر فلاح خاندان عافیہ سرور نے کہا کہ موٹر وے واقعے کے مجرموں کو جلد کیفر کردار  تک نہ پہنچایا گیا تو خواتین اپنے تحفظات اور انصاف کے لئے بھر پور آواز بلند کریں گی۔ 

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -