بچوں اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں حکومت مکمل طورپر ناکام ہو چکی

   بچوں اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں حکومت مکمل طورپر ناکام ہو چکی

  

خیبر (بیورو رپورٹ) بچوں اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں حکومت مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے۔انسانی حقوق کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہو تی ہے۔مروہ،کراچی واقعہ اور موٹر وے پر ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ظلم کی داستانیں ہیں۔ان خیالات کا ظہار خدائی خدمت گار ارگنائزیشن پختون خوا کے ڈپٹی سالار اعلیٰ پلوشہ عباس بی بی نے اپنے ایک بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بچوں، بچیوں اور خواتین کے خلاف ہوشربا اضافہ انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ ائے روز دل دہلانے والے واقعات رونمو ہو رہے ہیں تاہم حکومت کو بچوں اور خواتین کا نہیں بلکہ اپنی فکر لا حق ہے مروہ کے بعد کراچی واقعہ اور موٹر وے پر ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچے اور خواتین محفوظ نہیں ہیں درندوں نے اپنی سفاکانہ درندگی کے باعث لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے حکومت اور متعلقہ ادارے اس جرائم پر کنٹرول کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہیں انسانی حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہو تی ہے مگر یہاں بد قسمتی سے موجودہ حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے واقعات کی بیخ کنی کے لئے موثراقدامات کرنا اور سخت قونین لانا ناگزیر ہو چکا ہے اور یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنی بساط کے مطابق ااپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تب ہمارے بچے محفوظ ہوں گے ورنہ حالات مزید بگڑنے کو ہے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -