چارسدہ،پولیس اہلکاروں کا شہری کو برہنہ کرکے تشدد

  چارسدہ،پولیس اہلکاروں کا شہری کو برہنہ کرکے تشدد

  

چارسدہ (بیو رو رپورٹ) عامر تہکالی کا ٹریلر چارسدہ میں بھی چل پڑا۔ 11پولیس اہلکاروں کا شہری کو برہنہ کرکے غیر انسانی تشدد کا دلخراش واقعہ۔ ڈی پی او نے متاثرہ شہری کی داد رسی کی بجائے مرد و خواتین کو مبینہ طور پر غلیظ گالیاں دیکر دفتر سے نکال دیا۔عدالت نے مجروح قیدی کو جیل سے عدالت طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق عمر زئی سے تعلق رکھنے والے شہری امداد اللہ ولد سبحان اللہ نے اپنی والدہ اور بھاوج کے ہمراہ خلف بر قرآ ن پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ 6ستمبر کو موٹروے چیک پوسٹ پر پڑانگ پولیس نے میرے بھائی کاشف کی گاڑی روک کر تلاشی لی مگر گاڑی میں کوئی غیر قانونی چیز موجود نہ ہونے پر گاڑی سمیت میرے بھائی کو پولیس تھانہ پڑانگ لے گئی جہاں ایس ایچ او اشفاق خان، اے ایس آئی اظہار خان اور موسٰی خان سمیت 11پولیس اہلکاروں نے میرے بھائی کاشف کو برہنہ کرکے غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں تھانہ عمر زئی کے حوالے کر دیا جہاں ایس ایچ اور فضل داؤد نے میرے بھائی کے گاڑی سے تین کلو چرس برآمد گی کا ڈرامہ رچا کر ان کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آر درج کی۔ انہوں نے کہا کہ والدہ اور بھاوج کے ساتھ وہ داد رسی کیلئے ڈی پی او دفتر گئے مگر ڈی پی او چارسدہ محمد شعیب خان نے ننگی اور غلیظ گالیاں دیکر دفتر سے نکال دیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے حوالے سے انہوں نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ امداد اللہ کا مزید کہناتھا کہ بھائی کے ریمانڈ ختم ہونے کے بعد وہ دوسرے بھائیوں کے ہمراہ گرفتار بھائی کاشف سے ملنے گئے تو عدالت میں انہوں نے پولیس کے بہیمانہ تشدد سے آگاہ کیا۔ امداد اللہ نے کہا کہ پولیس نے تشدد چھپانے کیلئے  ان کے بھائی کاشف کو عدالت میں پیش نہیں کیا اور جیل کا پروانہ حاصل کیا جس پر انہوں نے معزز جج کو ویڈیو اور تشدد زدہ تصاویر دکھا دی جس پر جج نے جمعہ کے روز میڈیکل کیلئے ان کے بھائی کاشف کو جیل سے بلانے کا آرڈر جاری کیا۔ انہو ں نے کہا کہ ان کا بھائی جیل میں زخموں سے چور چور پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او داود خان نے دو سال قبل میرے اور میرے بھائی کے خلاف بھی ناکردہ جرم پرایف آئی آر درج کئے تھی مگر عدالت نے ہم دونوں بھائیوں کو باعزت بری کیا تھا اور اس وقت سے لیکر آج تک میرے بھائی اور مجھ پر 107تک کا پرچہ تک نہیں۔امداد اللہ کا کہناتھا کہ ان کے چھو ٹے بھائی کی شادی تھی اور کاشف فرنیچر حریدنے مردان گیا تھا کہ واپسی پر چیک پوسٹ پر پڑانگ پولیس نے ناکردہ جرم کے پاداش میں گرفتا ر کر لیا۔ کاشف کے جیب میں 1لاکھ 45ہزار روپے بھی پولیس نے ہڑپ کر لئے ہیں۔  آج ہمارے گھر میں شادی کے شادیانوں کی بجائے آہ و بکاہ ہے۔ گرفتار شہری کی والدہ اور بیوی نے بھی پولیس تشدد پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور اعلی عدالتوں سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایس ایچ او تھانہ پڑانگ اور ایس ایچ او تھانہ عمر زئی سے مطالبہ کیا کہ خلف بر قرآن کہہ دیں کہ انہوں نے جو ایف آئی آر میرے بھائی کے خلاف درج کی ہے وہ سچ یا غلط ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس ہم پر راضی نامہ کیلئے جر گے کر رہی ہے اور فرنیچر سمیت آدھی تنخواہ بھی دینے کا لالچ دے رہی ہے مگر ہم انصاف کے حصول تک راضی نامہ نہیں کرینگے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -