نصاب تعلیم کسی بھی ملک کی تہذیب کا آئینہ دار ہوتا ہے،سیمینار

  نصاب تعلیم کسی بھی ملک کی تہذیب کا آئینہ دار ہوتا ہے،سیمینار

  

چارسدہ(بیو رو رپورٹ) نصاب تعلیم کسی بھی ملک کے تہذیب و تمدن اور اقدار کا آئینہ دار ہوتا ہے اسلئے حکومت کا فرض ہے کہ ملک کے نونہالوں کے لئے ایسا نصاب تعلیم وضع کرے جو قرآن وسنت کے تعلیمات اور ہمارے روایات اور اقدار سے مطابقت رکھتا ہوں۔ان خیالات کا اظہار مختلف مقررین نے تنظیم اساتذہ پاکستان کی جانب سے یکساں نصاب تعلیم اور اردو ذریعہ تعلیم کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینارسے خطاب کے دوران کیا۔ تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ ہائی سکول گڑھی حمید گل میاں میں یکساں نصاب تعلیم اور اردوذریعہ تعلیم کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جہانگیر خان، مجلس تنظیم اساتذہ کے جنرل سیکرٹری ناصر خان،جمیل خان،صابر جان،شاہ فیصل،امتیاز علی اورمفتی شبیر سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پرمقررین کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نصاب تعلیم کسی بھی ملک کے تہذیب و تمدن اور اقدار کا آئینہ دار ہوتا ہے اسلئے حکومت کا فرض ہے کہ ملک کے نونہالوں کے لئے ایسا نصاب تعلیم وضع کرے جو قرآن وسنت کے تعلیمات اور ہمارے روایات اور اقدار سے مطابقت رکھتا ہوں۔ مقررین نے قومی زبان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اردوں زبان نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا اور اگر آج ہمارے منتشرقوم کو کوئی چیز یکجا کر سکتی ہے تو وہ اردو زبان ہے۔ مقررین نے کہا کہ ہمیں انگریزی زبان کے غلامی سے نکلنا ہوگا کیونکہ ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے انگریزی زبان کا سیکھنا لازمی نہیں ہمیں اپنے مادری او ر قومی زبانوں کو توجہ دینا ہوگی تب جا کر ہم ترقیافتہ ممالک کے صف میں شامل ہونگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -