پاک افغان سرحد پر چھیڑ چھاڑ، امن عمل سبوتاژ کرنے کی سازش!

پاک افغان سرحد پر چھیڑ چھاڑ، امن عمل سبوتاژ کرنے کی سازش!

  

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر تشدد آمیز کارروائیوں میں اضافہ تشویشناک ہے اور یہ سب امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان انتہائی مخلصانہ طور پر افغان امن عمل میں معاونت کر رہا ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے یہ نشان وہی شرپسند عناصر کی طرف سے وزیرستان کے علاقہ میں تخریبی کارروائیوں کے پس منظر میں کی گئی،جو مبنی بر حقیقت ہے۔ آر پار کی آمد و رفت ہی کو روکنے کے لئے سرحد پر طویل باڑ بھی مکمل کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں افسوسناک بات یہ ہے کہ امریکی ذمہ دار، وائٹ ہاؤس، پنٹاگون اور سیکیورٹی کونسل جیسے ادارے کئی سال سے نشان دہی کرتے چلے آ رہے کہ پاک افغان طویل سرحد کی وجہ سے آمد و رفت جاری رہتی ہے، تاہم امریکی حکام کی تشویش طالبان اور القاعدہ کے حوالے سے تھی اور اب بھی یہی کہا جاتا ہے، تاہم امریکی ابھی تک افغان حکومت کے ساتھ مل کر تخریب کاروں کی آمد و رفت روکنے کے انتظامات نہیں کر سکے،جبکہ پاکستان کی مسلح افواج مسلسل دہشت گردوں سے نبردآزما اور ان کا خاتمہ کر رہی ہیں جو افغان سرحد کی طرف سے داخل ہوتے ہیں، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے بجا کہا کہ یہ افغان عمل سبوتاژ کرنے کی سازش ہے اور یہ سب بھارتی ایجنسی ”را“ کر رہی ہے۔بھارت کو افغان عمل اِس لئے نہیں بھاتا کہ اس کا امن مذاکرات میں کوئی حصہ نہیں اور پاکستان نے بھرپور معاونت کی ہے۔ امریکی انتظامیہ کو بھی یہ بات سمجھنا چاہئے۔ میجر جنرل  بابر افتخار کا ٹویٹ درست ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -