کامیابی کے پا نچ اُصول۔سورۃالعصر  (2) 

کامیابی کے پا نچ اُصول۔سورۃالعصر  (2) 
کامیابی کے پا نچ اُصول۔سورۃالعصر  (2) 

  

  ایک لاکھ چوالیس ہزار یا ایک لاکھ چوبیس ہزار کا مجمع احکامِ الہی کو پورا کرنے کے لیے موجود تھا۔جس میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ شریک تھے۔10ھ؁ میں اللہ کے نبی ﷺ نے حج  کا ارادہ کیا تو جیسے جیسے لو گو ں کو خبر ملی لو گ قافلے کے ساتھ اکٹھاہو نا شروع ہو گئے۔نبی کریمﷺنے دسویں تا ریخ کو منیٰ میں خطبہ دیا اور شروع کچھ اس طرح کیا،" آپﷺ  نے پوچھا لوگو!معلوم ہے آج یہ کو ن سادن ہے؟ صحابہ اکرام ؓکی بہت بڑی تعداد ہونے کے باوجود کسی نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ کہنے لگے کہ اللہ اور اُس کا رسول ﷺ جانتے ہیں۔آپﷺ اس پر خاموش ہو گئے اور صحابہ اکرامؓنے سمجھا کہ آپﷺ اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: کیایہ قربانی کا دن نہیں؟ تمام صحابہ اکرامؓبولے ہاں!ضرور ہے۔پھر آپﷺ نے پوچھا یہ مہینہ کو ن ساہے؟ اُسی طرح تمام صحابہ اکرامؓ نے عرض کیا کہ اللہ اور اُس کے رسولﷺ زیادہ جانتے ہیں۔آپﷺ اس مرتبہ بھی خاموش ہو گئے اور صحابہ اکرامؓ کو خیال ہوا کہ آپﷺ اس مہینہ کانام کوئی اور رکھیں گے،لیکن آپﷺ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ سب صحابہ اکرامؓ نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، پھر آپﷺ نے پوچھا یہ شہر کون سا ہے؟ پھرصحابہ اکرامؓ نے جواب دیا کہ اللہ اور اُس کے رسولﷺ بہتر جانتے ہیں،اس مرتبہ بھی آپﷺ اُسی طرح خاموش ہو گئے تو صحابہ اکرامؓ نے سمجھا کہ آپﷺ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے،لیکن آپﷺ نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟ سب صحابہ اکرامؓ نے عرض کی کیوں نہیں ضرور ہے۔

اس کے بعد آپﷺ نے ارشاد فرمایا بس تمہارا خون، تمہارے ما ل تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت،اس مہینہ اوراس شہرمیں ہے....."۔یہ عظیم خطبہ جو کہ ایمان، یقین اور ادب سے لبریز صحیح بخاری کی حدیث نمبر1741 میں بیان کیاگیاہے۔  جب یہ حدیث صحابہ اکرامؓسے چلتی چلتی تابعین تک پہنچی تو کسی ایک شاگرد تابعیؒ نے اپنے اُستاد صحابیؓسے سوال کیا کہ منیٰ کے میدان میں آپ سب کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی مگر جب اللہ کے محبوب رسول ﷺنے آپ ؓ سب سے پوچھا کہ یہ کو ن سا دن، مہینہ اور شہر ہے توآپؓ میں سے کسی نے بھی اس کا جواب نہیں دیا، اس کی کیا وجہ تھی؟صحابی ؓ کہنے لگے جب حضورﷺ نے دن کا پوچھا تو ہم سب کو پتہ تھا کہ آج دس ھجری ہے مگر ہم میں سے کو ئی کہہ دیتا کہ حضورﷺ آج 10 ہجری ہے اور حضورﷺ فرما دیتے کہ نہیں نہیں، آج تو پندرہ ہجری ہے تو خدا کی قسم!قیامت تک کے لیے 9 ہجری کے بعد پندرہ ہجری ہی گنی جاتی۔اسی طر ح جب آپﷺ نے پو چھاکہ یہ کون سا مہینہ ہے تو ہم سب کو پتہ تھا کہ یہ ذی الحجہ کا مہینہ ہے مگر ہم میں سے کو ئی کہہ دیتا کہ حضورﷺ یہ ذی الحجہ کا مہینہ ہے اور اس کے جواب میں حضورﷺ فر مادیتے کہ نہیں نہیں، یہ تو ربیع الاول یا محرم کا مہینہ ہے تو خداکی قسم!ذی الحج کا مہینہ بھی قیامت تک کے لیے ربیع الاول یا محرم کا مہینہ بن جاتا۔اسی طرح جب آپﷺ نے پوچھا کہ یہ شہر کون سا ہے تو ہم سب کو پتہ تھا کہ یہ شہر مکہ ہے مگر ہم میں سے کوئی کہہ دیتا کہ حضورﷺ یہ تو مکہ ہے اور حضورﷺ فرمادیتے کہ نہیں نہیں، یہ تو مدینہ ہے تو خداکی قسم!مکہ بھی قیامت تک کے لیے مدینہ بن جاتا ہے۔ یہ ایمان اور یقین کی بہت سی خوبصورت اور دلنشیں مثال ہے، صحابہ اکرامؓ کا اللہ اور اُس کے بنی ﷺ پر بہت ہی پختہ ایمان اور کامل یقین تھا، تبھی تو صحابہ اکرامؓ پو ری دنیا کے لیے عظیم رہنما اور لیڈر بن کر اُبھرے۔

پچھلے کالم میں ہم نے سو رۃ العصر میں کامیابی کے لیے جو پہلا قدم جس کووقت(العصر)نام دیا گیا اُس کو تفصیل سے بیان کیا تھا۔اس کے بعد کامیابی کے لیے دوسرا نقطہ امنوا یعنی " ایمان لانا"ہے، ایمان کے معنی دل سے یقین اور زبا ن سے اقرار کرنا یا اعتقاد اور عقیدہ کے ہیں۔سا دہ الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ دل جمعی سے کسی چیز پر یقین کر لینا یا اطمینان کرلینا ہے۔کسی بھی چیز کی کامیابی کے لیے ایمان یا یقین ایسے ہی ہے جیسے پورے جسم میں سر کی اہمیت یا پھر جیسے درخت بننے کے لیے بیج کی ضرورت یا جیسے پرندوں کے لیے پَر کی اہمیت ہے، اسی طرح ہر انسان کی کامیابی کے لیے ایمان اُس کے لیے بیج اور پَر ہے۔واصف علی واصفؒ نے بڑی خوب صورت بات کہی کہ "گمانو ں کے لشکر میں یقین کا ثبات ایسے ہے، جیسے یزیدی فوج کے سامنے امام حسین ؑ کاایمان"۔دنیا میں آج تک جن لوگوں کا نام بھی تاریخ میں زندہ ہے،وہ سب کے سب یقین کی اعلی منزل پر فائز تھے۔بے یقینی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھنا ایسے ہی ہے جیسے کسی کاغذی پھول کو حاصل کر کے اُس میں سے خوشبو سونگھنے کا گمان کرنا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایمان یا یقین بنتا کیسے ہے؟تحقیق کے بعد نفسیات والے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایمان یایقین مستقل مزاجی یا یقین دہانی (Feeling of Permanence or Assurance)کا نام ہے۔

یہ انسان کی Logical Understanding  ہوتی ہے، ہر انسان جب زندگی کے مختلف تجربات(Experiences)، تشریحات (Interpretation) اور حوالہ جات (References)سے گزرتاہے تو اُس کی سمجھ بُوجھ کے مطابق کسی بھی بات یا کسی کے بارے میں اُس کا یقین پختہ ہوتا چلاجاتا ہے۔جیسے کالی بلی آگے سے گزر جائے تو یہ محسوس کرنا کہ کچھ بُرا ہونے والا ہے یاپھر اپنے بارے میں دوسروں کی کوئی کہی ہو ئی بات کو مان لینا یا اپنے آپ کو کسی پچھلے تجربے کی بنا پر یہ کہنا کہ میں "یہ کام نہیں کر سکتا"وغیرہ۔تجربات اور حوالے ہر انسان کے لیے Pillars کاکام دیتے ہیں جس کی بدولت وہ اپنے یقین اور ایمان کی چھت بناتاہے۔جیسی مثالیں اور تجربات انسان کے ساتھ وابستہ ہوتی جاتی ہیں ویسی ہی چھت اُس کے ایمان کی بنتی جاتی ہے۔اگر اُس کے ساتھ یا اِردگرد زیادہ مثبت ماحول رہتا ہے تو ایمان کی چھت اتنی ہی مضبوط اور پائیدار بنتی ہے۔ہینری فورڈ کابڑا خو ب صورت قول ہے کہ"اگر تمہارا خیال ہے کہ تم کو ئی کام کرسکتے ہو، اور اگر تمہارا خیال ہے تم کوئی کام نہیں کر سکتے تو تمہارے دونوں خیال درست ہیں "۔یاد رکھیے ہم چیزوں کو ویسے نہیں دیکھتے جیسی وہ ہوتی ہیں، بلکہ ویسے دیکھتے ہیں جیسا ہمارا ایمان اور یقین ہو تا ہے۔

تاریخ میں ہمیں بے شمار ایسی مثالیں ملتی ہیں جن سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ فتح کایقین ہو تو طارق بن زیادپوری فوج کی کشتیاں جلانے کا حکم دے دیتا ہے۔حضرت ابراھیم ؑکا یقین دیکھیے تو آپؑ آگ میں چھلانگ لگا دیتے ہیں کہ میرا رب مجھے کبھی بھی ذلیل ورسواء نہیں کرے گا۔یہ یقین کی ہی دولت ہے کہ ما ضی میں دنیا کو چند بہترین دُھنیں دینے والا بیتھوون (Beethoven) خود بہرا تھا۔اسی طرح فطرت کے متعلق بہترین شاعری کرنے والا شاعر ملٹن (Milton)خود نابینا تھا۔دنیا کا ایک عظیم لیڈر امریکہ کا صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ خود وہیل چیئرکا محتاج تھا۔اس طر ح کی بے شمار مثالوں سے تا ریخ بھر ی پڑی ہے۔آج ہم اپنے وطن عزیز کے لوگوں کی با ت کریں تو آپ کو بے شمار لوگ بے یقینی کی کشمکش میں نظر آئیں گے۔جب تک انسان اپنے شک اور بے یقینی کو یقین میں نہیں بدلتا وہ کبھی بھی کامیابی کی منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔(جاری ہے...)

مزید :

رائے -کالم -