عرب اسرائیل تنازع اور پاکستان 

عرب اسرائیل تنازع اور پاکستان 
عرب اسرائیل تنازع اور پاکستان 

  

ہمارے ایک دوست ہیں مرزا جی۔ ہمارے سکول فیلو بھی ہیں گورنمنٹ کالج لاہور کے کلر ہولڈر ہیں پاکستان کی انڈر 18ہاکی ٹیم میں رہے ہیں اچھے،سادہ نیک دل مسلمان ہیں 15/16سال ہوئے سکاٹ لینڈ منتقل ہو چکے ہیں گلاسگو میں سکونت پذیر ہیں ان سے جب بھی بات ہوتی ہے کہتے ہیں اسلامی جمہوریہ گلاسگو میں رہتا ہوں وہ یہاں کے نظام سے بہت متاثر ہیں کہتے ہیں اگر گورے شراب،خنزیر اور مادر پدر آزادی کو اپنی معاشرت سے نکال دیں تو یہ معاشرہ مکمل طور پر اسلامی کہلائے جانے کے مستحق ہو گا۔ قانو ن کی حکمرانی اور انسانیت کی قدر دانی کے باعث یہ معاشرہ قابل تقلید ہے ……ان کی باتیں سن کر مجھے سید مودودی ؒ کی ایک شہرہ آفاق کتاب ……”تجدید و احیاء دین“ کا وہ نظریہ یاد آتا ہے جس میں انہوں نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ دین اسلام کو اللہ رب العزت نے ہمیشہ اپنے اپنے دور کے جدید اور با صلاحیت انسانوں سے تقویت دی ہے اب بھی دور جدید کی قوتوں سے آراستہ و پیراستہ نیک سوچ رکھنے والے انسانوں کے ذریعے  ہی اس دین کا ایک بار پھر احیاء ہو گا کوئی بعید نہیں کہ امریکہ جیسے معاشرے سے کوئی تحریک اُٹھے اور وہ دین اسلام کے غلبے پر منتج ہو“

جب میں مرزا جی کی باتیں سنتا ہوں تو مجھے خیا ل آتا ہے کہ دین اسلام ایک اعلیٰ و ارفع نظریہ ہے جس کی بنیاد پر قائم ہونے والا معاشرہ،دنیا کے لئے رہبر و رہنما کا درجہ رکھتا ہے ایسا معاشرہ،اعلیٰ ذات و صفات کے حامل لوگ ہی قائم کر سکتے ہیں ایسے لوگ جو ایک طرف جدید علوم وفنون سے مسلح ہوں اور دوسری طرف ان میں اعلیٰ انسانی اوصاف پائے جاتے ہوں۔اقوام مغرب میں انفرادی سطح پر ایسے با وصف افراد کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں نظام عدل،فی الاصل عد ل و انصاف پر مبنی ہے انسانیت کی تکریم بدرجہ اتم موجود ہے انفرادی سطح پر بھی اور حکومتی سطح پر بھی شرف ِ انسانیت کا بول بالا ہے۔بحیثیت مجموعی فلاحی معاشرہ ہے۔نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملے کا واقع لے لیں اس واقع کے بعد وہاں کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈین کا ری ایکشن اور عوام کا عمومی رویہ انتہائی قابل ستائش ہے۔ ان کے رویے اور اپنے شہری مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی نے انہیں کروڑوں مسلمانوں کی پسندیدہ خاتون وزیر اعظم بنا دیا۔

مرزا جی مغربی معاشرے کے ایسے ہی پہلوؤں کے باعث اسے قریب قریب اسلامی معاشرہ“ کہتے ہیں۔آج کل وہ میرے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے بحث و مباحثہ کرتے ہیں وہاں ایک کروڑ پتی یہودی انجینئر مسٹر سیمی ان کے دوست ہیں جو ”اسرئیل،فلسطین،گلاسگو فرینڈ شپ سوسائٹی“چلا رہے ہیں انکی خواہش ہے کہ وہ یہاں پاکستان میں بھی اس تنظیم کا ایک باب کھولیں کیونکہ اسرائیل ایک زمینی حقیقت ہے جسے تسلیم نہ کر کے عربوں نے کیا حاصل کر لیا ہے۔ہم کشمیر تو آزاد کر ا نہیں سکے فلسطین کی آزادی کے لئے کچھ کرنے کی ہماری کیا اوقات ہے۔اسرائیل کی دشمنی میں اولین فریق عرب ممالک ہیں کیونکہ انہیں کی زمین چھین کر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی پھر اس کی توسیع کی گئی۔عربوں کے ساتھ ہی اسرائیل کا براہ راست تصادم ہوا ہمارا  یعنی پاکستان کا تو اسرائیل کے ساتھ براہِ راست تصادم نہیں ہے۔“ ویسے دلیل تو یہ بھی دی جاتی ہے کہ بھارت جو ہمارا جانی دشمن ہے اعلان شدہ دشمن۔ ہم نے اس کے ساتھ تو سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں، حالانکہ اس کے ساتھ ہماری جنگیں بھی ہو چکی ہیں اس نے ہمارا ملک توڑ بھی دیا۔ہمارے کشمیر پر قبضہ بھی کر رکھا ہے۔ہمارے ملک میں تخریب کاری کو بھی پروموٹ کرتا ہے اس کے باوجود ہم نے اس کے ساتھ تعلقات قائم کر رکھے ہیں دشمنی بھی جاری ہے اور تعلقات بھی قائم ہیں ایسا ہم اسرائیل کے ساتھ کیوں نہیں کر سکتے ہیں۔؟ 

بات تو معقول لگتی ہے کیونکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے ہمارے کئی معاشی معاملات درست /بہتر ہونے کی امید ہے۔بیت المقدس جانے کی راہیں کھل سکتی ہیں۔اسرائیلی /یہودی سرمایہ کار یہاں آ کر سرمایہ کاری کر سکتے ہیں ہم معاشی و اقتصادی گرداب سے باہر آ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم لڑ کر،عسکری طریقے سے اب نہ تو کشمیر حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔اسرائیل ایک حقیقت بن چکا ہے جسے آہستہ آہستہ مسلمان ممالک بھی تسلیم کرنے لگے ہیں تو کیا ہمیں بھی ایسا ہی نہیں کر لینا چاہئے؟بات اتنی سادہ نہیں ہے جتنی لگ رہی ہے اس معاملے کا سینکڑوں سالہ تاریخی پس منظر ہی نہیں ہے بلکہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے انہیں دنیا کی امامت کے منصب عالیہ سے ان کی حرکات کے باعث معزول کیا گیا تھا پھر ان پر ازلی مسکنت طاری کر دی گئی اور قرب ِ قیامت کی نشانیوں میں جس معرکہ حق و باطل کا ذکر کیا گیا ہے اس میں یہود بنیاد ی حیثیت رکھتے ہیں۔قرآن و حدیث کی پیشن گوئیوں کے مخاطب یہودی ہیں ہمارے عقائد کے مطابق ہی نہیں بلکہ سیرت محمد ی ؐ کے کئی ابواب بھی ایسے ہی موضوع سے بھرے ہوئے ہیں اس لئے ہمارے لاشعور میں، امت محمدیہ کے لاشعور میں یہودیوں کے خلاف ان کی غیر فطری سوچ اور غیر انسانی حرکات کے باعث، شدید نفرت پائی جاتی ہیں فلسطینی مسلمانوں پر یہودیوں کے ظلم و ستم نے بھی اس نفرت میں اضافہ کیا ہے اس لئے یہ بات اتنی بھی سادہ نہیں ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے تا کہ معاشی فوائد حاصل ہوں“ جتنی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حامی بنا کر پیش کرتے ہیں اسرائیل بیت المقدس،مسجد اقصیٰ یہ صرف عرب اسرائیل تنازعہ نہیں ہے ہم عربوں کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف نہیں ہیں ہم اسرائیل کے صرف اس لئے بھی خلاف نہیں ہیں کہ وہ فلسطینیوں کو آزادی نہیں دے رہا ہے۔

ہم اسرائیل کے صرف اس لئے بھی مخالف نہیں ہیں کہ 1971ء کی جنگ میں اسرائیلی جنرل جیکب نے کلکتے میں بیٹھ کر بھارتی جرنیلوں کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی منصوبہ سازی کی تھی ہم اسرائیل کے صرف اس لئے بھی مخالف نہیں ہیں کہ وہ ہمارے ایٹمی  اثاثہ جات کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ہاں ہم اسرائیل کے اسلئے مخالف ہیں کہ یہ ریاست قطعاً نا جائز طور پر تخلیق کی گئی ہے یہ ریاست دین اسلام کی دشمنی پر قائم ہے احکامات ربانی اور فرامین محمدیﷺ کے مطابق یہ باطل کی علمبردار قوم کی ریاست ہے دجال کی نمائندہ ہے اس لئے حتمی اور فیصلہ کن معرکہ حق و باطل میں اسے فنا ہونا ہی ہے اس کی بقاء غیر فطری ہے اس لئے ہم اسے تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -