یہ سیاست نہیں 

یہ سیاست نہیں 
یہ سیاست نہیں 

  

برصغیر کے آزاد ہونے کے بعد بھارت کا صوبہ بنگال کمیونسٹوں کے قبضے میں چلا گیا۔ وہی بنگال جس کے قحط نے آزادی سے چند سال قبل ہی لاکھوں انسانوں کی زندگی چھین لی تھی۔اس قحط پر برصغیر کے ادیب اور شاعر اپنی کہانیوں اور لفظوں میں لکھتے رہے، کلکتہ کی سڑکوں پر لاشوں کے ہجوم تھے، گورے سپاہی کلکتہ کی کثیر المنزلہ عمارتوں پر چڑھ کر  چاندی کے روپے پھینکتے اور انسانوں کے غول درندوں کی طرح ایک دوسرے پر پل پڑتے اور یہ گوروں کا تماشہ ہوتا۔ وہی رومن اکھاڑہ جس میں غلاموں کو شیروں اور چیتوں کے ساتھ لڑنے پر مجبور کیا جاتا، انسانوں کے درمیان ایسی کشتی ہوتی کہ ایک کے قتل ہونے کے بعد کشتی ختم کرنے کا اعلان ہوتا۔ یہی مناظر آزادی سے قبل اور دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران کلکتہ کی سڑکوں پر دیکھے گئے۔ بنگال کے ساتھ کیرالہ بھی کمیونسٹوں کے قبضے میں آ گیا، اور صرف سات برس میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت نے کیرالہ اور مغربی بنگال میں سو فیصد شرح خواندگی کر دی۔ علاقے سے جاگیردارانہ باقیات کا خاتمہ کر کے چھوٹے کسانوں میں زمین تقسیم کی اور صدیوں کی غربت سے انہیں نجات دے دی۔ اس پر بھارت کی اشرافیہ کی نمائندہ جماعت جو سوشلزم کے کھوکھلے نعرے بلند کرتی تھی، اِس قدر بوکھلائی کہ اس نے کیرالہ اور مغربی بنگال کے جاگیرداروں اور اشرافیہ کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ کیرالہ کی پہلی کمیونسٹ حکومت کو معزول کر کے وہاں گورنر راج نافذ کر دیا گیا، لیکن1958ء کے بعد ہونے والے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر کمیونسٹ پارٹی برسر اقتدار آ گئی۔ امریکی امداد سے لیس این جی اوز نے کانگرس کے ساتھ مل کر اودھم مچایا، لیکن کیرالہ اور بنگال میں عوام کی ترقی جاری رہی، ہزاروں میل دیہاتی سڑکیں بنائی گئیں، لاکھوں سکول کھولے گئے، ڈسپنسریاں، شفاخانے، نئے ہسپتال بنائے گئے۔ یہ تو ہمارے پڑوس کی بات ہے۔

دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران یورپ کھنڈر بن چکا تھا، برلن محض ٹوٹی ہوئی دیواروں کے ساتھ ایک آسیب زدد شہر تھا۔ کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہاں زندگی دوبارہ نظر آ سکتی ہے،لیکن جرمن قوم اور جرمن قیادت نے محض دس برس کے اندر ایک معجزہ دکھا دیا۔جرمنی ایک بار پھر دُنیا کے خوبصورت ممالک میں شمار  ہونے لگا۔ شہروں کے پارک، آرٹ گیلریاں، میوزک ہال، سینما گھر پھر سے بارونق ہو گئے۔ جرمن چانسلر ایڈنائر نے ٹوٹی اور بکھری ہوئی عمارتوں پر خود کھڑے ہو کر تعمیراتی کام کی نگرانی کی۔ پورا یورپ جرمنی کی قیادت اور جرمن عوام کی طرف حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ادھر فرانس میں جنرل ڈیگال نے ہٹلر کے مقبوضہ شہروں کے کھنڈرات پر نئے شہر آباد کرنے شروع کر دیئے، زندگی پھر سے رواں دواں ہو گئی۔ ایٹم بم کی تباہ کاری سے جاں بلب جاپان صرف دس برس کے اندر دُنیا میں اپنی مصنوعات کے سبب اہمیت اختیار کر گیا۔ ہیرو شیما اور ناگا ساکی کی عمارتیں پھر سے آسمان کو چھونے لگیں۔ یہ سب کیا تھا؟……عوام کی منتخب قیادت کی اپنے ملک اور عوام کے ساتھ کمٹمنٹ۔ احساسِ ذمہ داری اور اپنے ملک سے محبت۔

حیرت ہے کہ بارہ برس سے بلاشرکت ِ غیرے سندھ میں حکومت کرنے والی جماعت نے پورے سندھ کو برباد کر دیا ہے۔ کراچی کی حالت تو ہمارے سامنے ہے،جہاں گندگی کے پہاڑ کھڑے ہیں اور سڑکیں دریا بن چکی ہیں۔ اگر سندھ کے دوسرے شہروں کا حال دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔مجھے سکھر اور حیدر آباد جانے کا  بھی موقع ملا ہے۔ سکھر کا سب سے بڑا بازار کیچڑ سے ہر وقت لت پت رہتا ہے۔ پورے شہر میں کوئی ایک سڑک اور کوئی ایک گلی آپ کو صاف ستھری نہیں ملے گی۔ حیدر آباد میں گندے نالے کے دونوں اطراف سبزی اور پھولوں کی مارکیٹ ہے۔ گندا نالہ بند ہو چکا ہے۔مکھیاں بھنبھناتی ہوئی ریڑھیوں پر غول در غول پھرتی ہیں۔ ایک اوور ہیڈ برج بنایا گیا ہے، جس کے ستون گندگی سے اٹے پڑے ہیں۔ اس شہر پر ایم کیو ایم حکومت کرتی رہی۔ جس طرح جنرل پرویز مشرف کی اتحادی جماعت نے کراچی پر حکومت کی۔ سرکلر ریلوے پر بھائی کے حکم سے گھر بن گئے، نالوں کے اوپر جھگیاں بنائی گئیں، ہر گھر سے ”چندہ“ وصول کیا جاتا تھا۔ دولت مندوں سے ماہانہ وصول کیا جاتا تھا اور شہر کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا، بوری بند لاشوں نے پورے شہر کو آسیب زدہ بنا دیا۔ پیپلزپارٹی یہ الزام عائد کرتی ہے، لیکن سندھ کے دیہی علاقوں کا کیال حال ہے؟سندھ کے سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کے خیرپور کی حالت بھی دیدنی ہے، شہید بھٹو اور بے نظیر کے لاڑکانہ کی حالت کا ذکر ہی کیا۔

پنجاب میں تین دہائیاں حکومت کرنے والوں نے شہر کے پوش علاقوں میں سڑکیں بنا دیں، انڈر پاس بن گئے، پی ایچ اے نے نہر کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ مال روڈ اور جی او آر کے علاقوں پر پورا پورا بجٹ استعمال کر دیا۔

اندرون شہر، دھرم پورہ، قینچی امرسدھو سے کاہنہ تک سڑک  تو بنی، صرف ماڈل ٹاؤن کے راستے کو وسیع کرنا تھا،لیکن ان سڑکوں کے کناروں پر نئی آبادیوں کا کیا حال ہے؟ مسلم لیگ(ن) نے کبھی دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ہسپتالوں کا حال خدا کی پناہ، ڈاکٹر تھانوں میں بیٹھے تھانیداروں سے زیادہ عوام کے لئے خوف بن چکے ہیں۔کوئی ایک سرکاری سکول ایسا نہیں جہاں اساتذہ اپنے فرائض سے واقف ہوں، ٹیوشن مافیا، غریبوں سے علم چھین رہا ہے۔ صرف کراچی میں نہیں، ملک میں صرف حاکموں کے علاقے ہیں،جن کو ہر سال،  ہر ماہ اور ہر روز نئی آب و تاب کے لئے ترجیح دی جاتی ہے اور عوام کے علاقے تباہ ہو رہے ہیں، نہ آٹا ہے، نہ چینی ہے، نہ پٹرول، بجلی کے بلوں نے لوگوں کے سانس بند کر دیئے ہیں۔پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کا نام لے کر سیاست اور حکومت کرنے والوں نے بائیس کروڑ عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔دشمن ملک بھارت کے دارالحکومت میں عام پارٹی کے سربراہ کجری وال نے بجلی کے بل نہ ہونے کے برابر کر دیئے ہیں۔آخر کوئی تو طریقہ کار ہو گا؟ کاش پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف عوام کے لئے سُکھ کا سانس لینے کا بھی کوئی طریقہ اختیار کر سکیں، لیکن یہاں سیاست عوام اور ملک کے لئے بیرون ملک اثاثے بنانے کے کام آ رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -