کس ملک میں اقلیت محفوظ ہے؟

کس ملک میں اقلیت محفوظ ہے؟
کس ملک میں اقلیت محفوظ ہے؟

  

دوسری بار بھارت میں مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے حقوق کو جس طرح سے پامال کیا جا رہا ہے اس کو پوری دنیا میں دیکھا جا رہاہے۔خاص طور پر اسی سال5اگست کو جس طرح بھارتی وزیر اعظم مودی نے با بری مسجد کی جگہ رام مندر کا بنیاد رکھنے کی تقریب میں شر کت کی اس کو بھارتی سیکولرازم کی موت سے تعبیر کیا گیا۔کسی سیکولر ریاست کے حکمران پر اپنے مذہبی فرائض سر انجام دینے پر کوئی روک نہیں ہو تی مگر کوئی حکمران اپنے ملک کی اقلیت کی عبا دت گاہ (با بری مسجد) کو گرا کر اس پر اپنے مذہب کی عبادت گاہ(رام مندر) کو تعمیر کروانے میں پیش پیش ہو تو ایسی ریاست کو کسی بھی طور سیکولر ریاست قرار نہیں دیا جا سکتا۔یہ بات خوش آئند ہے کہ بھارت میں انتہا پسندی کی جس طرح مغر بی میڈیا میں مذمت کی جا رہی ہے، وہاں بھارت میں ”راویش کمار“ اور ”اروند تی رائے“ جیسی آوازیں مو جود ہیں کہ جو مودی کی فا شسٹ پا لیسیوں پر کھل کر تنقید کرتی ہیں۔جب ہم یہاں پا کستان میں بیٹھ میں بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی بات کر رہے ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ ہمارے اپنے ملک میں اس وقت اقلیتوں کے حقوق کی کیا صورت حال ہے۔

پا کستان میں بھی اقلیتوں کے حقوق کو مثالی قرار نہیں دیا جا سکتا مگر گز شتہ کچھ عرصے سے صورت حال میں واضح طور پر تبدیلی آرہی ہے۔ 

جیسے اس سال بلو چستان کے ضلع ”ژوب“ میں واقعہ 200سال پراناہندومندربحال کر کے اسے ہندووں کے حوالے کیا گیا۔ ژوب کا یہ مندر حکومت کی اس پالیسی کے تحت بحال کیا گیا، جس کے تحت حکومت پا کستان 400کے لگ بھگ مندروں کو ہندووں کی عبادت کیلئے بحال کر رہی ہے اور ان مندروں کا انتظام بھی ہندووں کے حوالے کر دیا جا ئے گا۔پاکستان میں ہندووں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم ”آل پا کستان ہندو رائیٹس موومنٹ“ نے چند عرصہ قبل ایک تحقیق کی جس کے مطابق تقسیم ہند کے وقت پاکستان (مغر بی پاکستان) میں ہندووں کے 428 بڑے مندر تھے اور کچھ عرصے کے بعد ان میں سے 408مندروں کو سرکاری عما رتوں، ہو ٹلوں، سکولوں اور دوکانوں میں تبدیل کر دیا گیا۔صرف 20مندر ہی ہندووں کیلئے فعال رہے اور حکومت پا کستان کے اعداد وشمار کے مطابق ان 20 مندروں میں سے 11مندر سندھ، 4پنجاب، 3بلو چستان اور2خیبر پختونخواہ میں مو جود ہیں۔ حکومت پا کستان کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے کہ وہ 400مندروں کو بھی بحال کرنے کافیصلہ کر چکی ہے۔مندروں کی بحالی کے ساتھ ساتھ کرتار پور راہداری کو سکھوں کیلئے کھولنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ماضی میں اقلیتوں کو لیکر ہماری ریاست کی جو پا لیسی رہی اب اس میں نمایاں طور پر مثبت تبدیلی آرہی ہے۔

یہ امر اتنا زیادہ خوش آئند ہے کہ اس سے پا کستان کو پو ری دنیا سے تحسین مل رہی ہے،بلکہ اس بات کا موازنہ کیا جا رہاہے کہ ایسے وقت میں جب ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے ان پر بھارتی سرزمین کو تنگ کیا جا رہاہے ایسے میں پا کستان اپنی اقلیتوں کے حقوق کیلئے رواداری کا مظاہرہ کرتا ہوا نظر آرہاہے۔ ایک طرف بھارتی سپریم کو رٹ با بری مسجد کی جگہ رام مندربنانے کا فیصلہ کر رہی ہے تو دوسری طرف پا کستانی سپریم کو رٹ ضلع چکوال میں ہندووں کے انتہائی مقدس مندر ”کٹاس راج“ کی حفاظت کیلئے فیصلے کرتی نظر آرہی ہے۔”کٹاس راج مندر“ کی کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ جب 2005میں اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ لال کرشن ایڈوانی نے پا کستان کا دورہ کیا تو ”کٹاس راج“ بھی گئے۔ پا کستان کی حکومت نے وعدہ کیا کہ اس مندر کومرمت کے بعد ہندووں کیلئے بحال کر دیا جائے گا۔لال کرشن ایڈوانی نے پا کستان میں کٹاس راج مندر کی بحالی کو بھارت میں نہ صرف سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا بلکہ اپنی کتاب "My Country My Life"میں پا کستانی حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا کہ اس اہم مندر کو بحال کیا گیا ہے۔

”کٹاس مندر“ ہندووں کیلئے ان کی قدیم مذہبی کتابوں ”رامائن“ اور”مہا بھارت“ کے دور سے اہمیت رکھتا ہے۔صرف کٹاس مندر ہی کیا ہندووں کیلئے پا کستان کے کئی علاقے مقدس ہیں۔ بلکہ ہزاروں سال پہلے ہندووں کی پہلی مقدس کتاب”رگ وید“ کی تشکیل جن علاقوں میں ہوئی وہ آج پنجاب اور سندھ میں پائے جاتے ہیں۔اسی طرح سکھوں کیلئے پا کستان خاص طور پر پنجاب کی مذہبی اہمیت سب پر عیاں ہے۔اسی طرح مہا تما بدھ کے پیروکاروں کیلئے ”ٹیکسلا“ اور”سوات“کے علاقوں کی جو مذہبی اہمیت ہے وہ برملا اس کا اعتراف کرتے ہیں۔یوں دنیا کے تین مذاہب یعنی، ہندو مت، سکھ مت اور بدھ مت کے پیروکاروں کو پا کستان میں مذہبی سیاحت کے بھرپور مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں جس سے پا کستان کو بھی بہت زیا دہ فا ئدہ ہو گا۔

”پا کستان ہندو کو نسل“ کی تحقیق کے مطابق پا کستان میں 8ملین یعنی اسی لاکھ ہندو بستے ہے۔ پی ٹی آئی کے لیڈر ”رامیش کمار“ نے 2014ء میں قومی اسمبلی میں الزام لگایا کہ ہر سال 5ہزار ہندو   مذہب کی جبری تبدیلی، ہندو خواتین کے اغوا اور ریپ کے باعث پا کستان چھوڑ کر بھارت جانے پر مجبور ہیں۔یہ بات ایسے پا کستانیوں کو زیادہ دُکھی کرتی ہے جو جانتے ہیں کہ پا کستان بنانے والے رہنماوں خاص طور پر بانی پا کستان قائداعظم اس بات کو کئی بار واضح کر چکے تھے کہ تقسیم ہند کے بعد پا کستان کے ہندووں کو بھی ریاست کے دیگر شہریوں کی طرح پورے حقوق دیے جائیں گے۔جو گندر نا تھ مینڈل کو پاکستان کا پہلا وزیر قانون بنا کر جناح نے واضح کر دیا تھا کہ وہ ایسا پا کستان بنا نا چاہ رہے ہیں کہ جس میں اقلیتیں نہ صرف برابر کی شہری ہوں گی بلکہ پا کستان کی ترقی میں ان کا کردار بھی ہو گا۔ گز شتہ دس، پندرہ سالوں سے ہمیں اس رویے میں واضح طور پر تبدیلی نظر آرہی ہے۔آج پا کستانی اشرافیہ کا بڑا حصہ تین سیاسی جما عتوں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پا رٹی پر مشتمل ہے۔ اور ان تینوں بڑی سیاسی جما عتوں کے مرکزی رہنما اقلیتوں کے حقوق کی پرزور حمایت کرتے ہیں۔ اب ان سیاسی جما عتوں کے راہنماوں کی جانب سے ہندووں اور دوسری اقلیتوں کے تہواروں میں خوشی اور مبارک کے پیغامات ہی نہیں دیے جاتے بلکہ کئی رہنما ان تہواروں میں خودشر یک بھی ہو تے ہیں۔

اب کرشنا کما ری جیسی ایک دلت خاندان کی عورت پاکستان کے سینٹ کی رکن ہیں۔تھر پا رکر سے مہیش کما ر ملانی کی مثا ل بھی اہم ہے جو قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں پر پہلے ایسے منتخب ہندو ہیں جنہوں نے2018ء کے انتخابات میں کا میابی حاصل کی۔اسی طرح سپریم کورٹ کے جسٹس (ر) بھگوان داس کو کون بھو ل سکتا ہے۔ بھگوان داس کو ایک انتہائی قابل، دانشمند، ایما ندار اور محب وطن جج مانا جا تا تھا۔ اسی طرح پا کستانی فوج میں شامل ہندو سپاہی اشوک کمار کی مثال بھی ہما رے سامنے ہے کہ جنہوں نے 2013ء میں وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑائی کے دوران اپنی جان دی اور ان کے لئے 23مارچ2015کو”تمغہ شجاعت“ کا اعلان کیا گیا۔یہ چند مثالیں ہندو برادری کی پا کستان کے ساتھ محبت اور وفا داری کو ثابت کرتی ہیں۔اب گز شتہ کچھ عرصے سے پا کستانی ریاست اور حکومتوں کی طرف سے اقلیتوں کے حقوق کے لئے جس گرم جوشی کا مظاہرہ کیا جا رہاہے اس کو جاری رہنا چاہیے کیونکہ پاکستانی پرچم کا سفید حصہ پاکستانی پرچم میں وقار کا باعث ہے۔

مزید :

رائے -کالم -