خواتین اور بچوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے،آئی جی پنجاب

خواتین اور بچوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے،آئی جی پنجاب

  

لاہور(کرائم رپورٹر)خواتین پارلیمنٹرینز کے وفد نے سنٹرل پولیس آفس میں آئی جی پنجاب انعام غنی سے ملاقات کی۔اس موقع پر انہوں کہاکہ معاشرے میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کو بہتر سے بہتر بنایاجائے۔ آئی جی پنجاب نے گجر پورہ موٹر وے واقعہ میں ہونے والی پیش رفت سے خواتین پارلیمنٹرینز کے وفدکو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گجرپورہ موٹروے بداخلاقی کیس میں ملوث درندوں کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس ٹیمیں شب و روز متحر ک ہیں اورکیس کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کی لمحہ بہ لمحہ خود نگرانی کر رہا ہوں۔

 انہوں نے مزیدکہاکہ خواتین اور بچوں کو ہر قسم کے جرائم سے محفوظ رکھنا پنجاب پولیس کی اولین ترجیحات میں ہے اور آزاد ملک کا شہری ہونے کے ناطے کوئی بھی مرد یا خاتون صوبے کے کسی بھی شہر میں بلا خوف و خطر سفر کر سکتا ہے اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ خواتین پارلیمنٹرینز کے وفد نے آئی جی پنجاب کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید کی کہ اس ہولناک واقعہ کے ملزمان کو جلدازجلد کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔ قبل ازیں ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی کیپٹن (ر) ظفر اقبال اعوان اور ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ بلال صدیق کمیانہ نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر تعینات ہونے والی پنجاب پولیس کی سکیورٹی ٹیموں اور پٹرولنگ پلان کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کیا اور سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کو جاری کردہ ایس و پیز کے حوالے سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام افسران و اہلکار ہائی الرٹ ہو کر اپنے فرائض پور ی تندہی کے ساتھ سر انجام دیں اور 24گھنٹوں کے سکیورٹی پلان کے مطابق گشت کو پوری ذمہ داری کے ساتھ سر انجام دیں۔مزید برآں گجرپورہ، موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کی تحقیقات میں پنجاب پولیس روایتی اور جدید دونوں طریقہ تفتیش کے استعمال کو یقینی بنا رہی ہے اوروزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر آئی جی پنجاب کیس میں ہونے والی پیش رفت کی لمحہ بہ لمحہ خود نگرانی کر رہے ہیں۔کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5کلو میٹر کا علاقہ چیک کرکے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے ہیں جبکہ کھوجیوں کی نشاندہی سمیت مختلف شواہد پر سات مشتبہ افراد محمدکاشف، عابد، سلمان، عبدالرحمن، حیدر سلطان، ابوبکر، اصغر علی کو حراست میں لیا گیاہے جن کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں اور انکی رپورٹس کے حصول کیلئے تندہی سے فالو اپ کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ آئی جی پنجاب کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تفتیش کے معاملات کے ہر پہلو کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل15مشتبہ افرادکی پروفائلنگ کی گئی ہے جبکہ تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹاکا تجزیہ کیا جارہا ہے اورلوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کوہدایت کی ہے کہ زیادتی کے مرتکب درندہ صفت ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے اورمتاثرہ خاتون اوراسکے اہل خانہ کوہر ممکن ریلیف اور انصاف مہیا کیا جائے۔

مزید :

علاقائی -