نیب آفس ہنگامہ آرائی کیس، محمد صفدر کی ضمانت قبل ازگرفتاری میں توسیع

  نیب آفس ہنگامہ آرائی کیس، محمد صفدر کی ضمانت قبل ازگرفتاری میں توسیع

  

لاہور(نامہ نگار)انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے نیب آفس میں مریم نواز کی پیشی کے موقع پرہنگامہ آرائی کے کیس میں ملوث کیپٹن (ر) محمد صفدر کی ضمانت قبل ازگرفتاری میں 16ستمبر تک توسیع کردی،یادرہے کہ اس سے قبل سیشن عدالت نیب آفس حملہ کیس میں کیپٹن (ر)صفدر سمیت 16 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں 7 اے ٹی اے کی بناء پر منسوخ کر چکی ہے،سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے داما کیپٹن (ر) محمد صفدر گزشتہ روز اپنے وکیل سید فرہاد علی شاہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو تفتیشی افسر نے عدالت کوبتایا کہ کیپٹن ()محمدصفدر پر ہنگامہ آرائی اور اشتعال انگیزی کرانے کا الزام عائد ہے، ملزم نے مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر پولیس پر پتھراؤ کرانے اور کارکنان کی ہنگامہ آرائی میں ملوث ہے۔، تھانہ چوہنگ پولیس نے نیب آفس پر حملے اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں بے بنیاد مقدمہ درج کیا ہے، ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وہ میں اپنی اہلیہ مریم صفدر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے گیا تھا۔

، ان پر بے بنیاد انسداددہشت گردی کا مقدمہ درج کیاگیاہے،عدالت سے استدعاہے کہ ضمانت منظور کی جائے،عدالتی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا کہ مجھے افسوس ہو رہا جس جگہ میں کھڑا تھا وہاں میں  اے سی ماڈل ہو تا تھا،نیب حملہ کیس بنانے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر مرزا ماسٹر مائنڈ ہیں،مجھے سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے پولیس کے ذریعے دہشت گردی میں نامزد کیا گیا،میں سپریم کورٹ سے استدعاکرتاہوں کہ میری درخواست پر مقدمہ درج کیا جائے،انہوں نے سانحہ موٹروے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر شہباز حکومت میں یہ افسوس ناک واقع ہوتا تو 24 گھنٹے میں بھیڑیے سلاخوں کے پیچھے ہوتے،انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میاں نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک گئے ہیں،وہ علاج مکمل کروا کر آئیں گے۔

مزید :

علاقائی -