پیکج پیکج کرسوں،کم نہ کرسوں 

پیکج پیکج کرسوں،کم نہ کرسوں 
 پیکج پیکج کرسوں،کم نہ کرسوں 

  

 کراچی میں اربن فلڈنگ کے بعد انفراسٹرکچر کی تباہی کے بعد کی صورت حال سے پاکستان تحریک انصاف کے معزز ووٹروں سپورٹروں کو سمجھ آگئی ہوگی کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کا انفراسٹرکچر کی تعمیر پر کیونکر زور تھا، کراچی جو کبھی کرچی کرچی تھا، اب کچراچی بن چکا ہے اور وفاقی حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ کس طرح وہاں سے اپنی چودہ نشستوں کے ووٹروں سپورٹروں کو مطمئن کریں، اسدعمر نے تو زچ ہو کر کہا ہے کہ اگر کراچی میں ترقیاتی کام نہ ہوئے تو پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی دونوں کو عوام جوتے ماریں گے۔

2001 میں کراچی شہر کا بجٹ 5.7 ارب روپے تھا جو 2002 میں 20 ارب روپے ہوگیا۔ یہ بجٹ 2004تک 27 ارب روپے تک پہنچ گیا۔2005  میں بلدیاتی انتخابات ہوئے،شہر کے ناظم مصطفی کمال کے دور میں کراچی کا بجٹ 42 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا اور اس وقت کے صدر پرویز مشرف کی کوششوں سے اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ تاہم سال 2008 تک صورتحال بدل گئی اور ملک میں سیاسی تبدیلی آگئی۔ ترقیاتی کام اس لئے رک گئے کیوں کہ تعمیر کراچی پیکج کی فنڈنگ ختم ہوگئی۔ اُس سال پاکستان پیپلزپارٹی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ 

سال 2010 میں پرویز مشرف کے 2001 کے مقامی حکومتوں کے نظام کی قانونی حیثیت ختم ہوگئی اور کسی نے اس کو دوبارہ جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں لی۔ اس لئے ناظمغیر مؤثر ہوگئے اور سٹی ایڈمنسٹریٹرز کے پاس شہری حکومت چلانے کے اختیارات نہیں رہے، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی تاریخ کا حصہ بن گئی۔ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے 1979 کا قانون سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈینسس کے تحت بحال کردیا اور شہری حکومت کو  کے ایم سی کا پرانا نام دے دیا گیا۔ وہ تمام 23 بڑے محکمے جو شہری حکومت کا حصہ بنائے گئے تھے،اس سے علیحدہ ہوگئے۔ شہری حکومت کا بجٹ کم ہوتے ہوئے 35 ارب سے 33 ارب پھر 31 ارب اور آخر میں 26 ارب روپے تک ہوگیا۔ 2011 میں کوئی پیکج نہیں آیا البتہ 2010 اور 2011 کے سیلاب زدگان کی وطن کارڈ سے مدد کی گئی تھی۔ 

2013 کے انتخابی سال میں کوئی پیکج نہیں آیا، البتہ عمران خان کی پارٹی کو 8 لاکھ ووٹ ملے۔2014 میں بلدیہ عظمیٰ کے ”تعمیر کراچی پیکج“ کے تحت کم وبیش 22ارب روپے خرچ کیے جبکہ وفاق نے کراچی کی ترقی کے لئے خصوصی ترقیاتی پیکج شروع کرنے کا فیصلہ کیا اوراس کا نام ”کراچی کی ترقی، پاکستان کی ترقی“ رکھااور50 ارب روپے کی گرانٹ دینے پر بھی غورکیا گیا۔ 2015 میں وفاقی حکومت نے کراچی کے لیے گرین بس ٹرانزٹ سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے گئے۔اسی سال سندھ حکومت نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے کراچی کے لیے 150 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا مگر وہ بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا۔ 2016 میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کراچی کو 500ارب روپے کا ترقیاتی پیکج فراہم کرے جبکہ سندھ حکومت نے اسی سال کراچی پیکیج کے نام پر 10 ارب روپے مختص کئے، جس کے تحت فلائی اور اور انڈر پاس کی تعمیر، فائر بریگیڈ کے نظام کی اپ گریڈیشن چڑیا گھر کی اپ گریڈیشن، سڑکوں کی تعمیر اور ان میں وسعت شامل ہے۔ 

2017 میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے کراچی کے لئے 25 ارب اور حیدرآباد کے لئے 5 ارب روپے کے ترقیاتی پیکچ کا اعلان کیا اور کہا کہ اس کی انتظامی نگرانی گورنر سندھ کریں کے۔ 2018 میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت کراچی پیکج کے لئے 25 ارب روپے مختص کئے- 

2019 میں وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کیلئے 162 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا۔ 2020 میں وزیر اعظم عمران خان نے تین سال میں 11 سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ اس کا کام صرف پیکج کا اعلان کرنا تھا، گراؤنڈ پر کام پیپلز پارٹی کے ذمے ہے یا پھر این ڈی ایم اے کے اور پیپلز پارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ اس کا کام صرف وفاقی حکومت سے پیکج حاصل کرنا ہے اور باقی کا ذمہ وفاق کا ہے یا پھر این ڈی ایم اے کا!....یعنی دونوں طرف سے پیکج پہ پیکج، پیکج پہ پیکج دیئے جا رہے ہیں لیکن کام دھیلے کا نہیں ہورہا!

آخر میں وزیر اعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ وہ نون لیگ کے ان ترقیاتی منصوبوں کو اون کریں جو مکمل ہو چکے ہیں کیونکہ ڈس اونر شپ کے سبب لاہور سیالکوٹ موٹروے پر تین بچوں کی ماں کے ساتھ زیادتی کا اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے۔ لاہور میں اورنج لائن میٹروٹرین منصوبہ بھی عدم توجہی کا شکار ہے۔

  

مزید :

رائے -کالم -