ایک ہی مطالبہ ایک ہی نعرہ ایک ہی آواز، مجرموں کو سرعام پھانسی دو، سانحہ موٹر وے کی تحقیقات جاری، زیر حراست 7مشتبہ افرادکا ڈی این اے ٹیسٹ، جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ مکمل، علاقے کے تمام افراد کا ڈی این اے کرانے کا فیصلہ

      ایک ہی مطالبہ ایک ہی نعرہ ایک ہی آواز، مجرموں کو سرعام پھانسی دو، سانحہ ...

  

 لاہو، کراچی، اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، لیڈی رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)لاہور گوجرانوالہ موٹروے پر خاتون کے ساتھ بد اخلاقی کے واقعے کیخلاف  احتجاج کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا، دوسری طرف سول سوسائٹی،سیاسی، دینی جماعتوں کی طرف سے واقعے میں ملوث افراد کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام نیشنل پر یس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل و سابق ایم این اے عائشہ سید، ڈپٹی سیکرٹری جنرل سکینہ شاہد،، نائب ناظمات شمالی پنجاب نذہت بھٹی، کوثر پروین اور رخسانہ غضنفر، ناظمہ ضلع اسلام آباد نصرت ناہید او سابق ایم این اے بلقیس سیف سمیت سیکڑوں خواتین نے شر کت کی اس موقع پر خواتین نے واقعہ کے خلاف زبر دست نعرے بازی بھی کی۔ احتجاجی مظاہرے سے جماعت اسلامی اسلام آباد کے نائب امیر محمد کاشف چوہدری، اور ڈاکٹر طاہر فاروق نے بھی خطاب کیا۔مظاہرین سے خطاب کر تے ہو ئے عائشہ سید نے موٹروے پر خاتون سے اجتماعی بد اخلاقی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صنف نازک کے ساتھ درندگی کا یہ افسوسناک مظاہرہ انسانیت کے نام پر  دھبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محفوظ اور پاکیزہ معاشرے کاقیام حکمرانوں کی اولین ذمہ داری اور ہماری ضرورت ہے۔ امن وامان کا قیام، چادر و عصمت کاتحفظ اور فوری انصاف کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی اور لاپرواہی سے اس طرح کے بھیانک نتائج نکلتے ہیں۔ انھوں نے کہا اب تو بڑی شاہراہوں پر بھی خواتین کی عزت محفوظ نہیں رہی- امن و امان اور سلامتی و تحفظ کے ذمہ دار ادارے کہاں ہیں؟ملک میں جنگل کا قانون اور بھیڑیوں کا راج ہے۔۔ اگر ان جنسی درندوں کو بروقت نشان عبرت بنایا جاتا تو واقعات کو بڑھنے سے روکا جاسکتا تھا۔ایسے گھناؤنے فعل کے مرتکب افراد کو گرفتار کرکے سر عام پھانسی دی جائے دوسری طرفپاکستان مسلم لیگ (ن) کی خواتین اراکین کے وفد نے آئی جی پنجاب انعام غنی سے ملاقات کر کے گجر پورہ کے واقعہ کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی خواتین اراکین مختلف نعروں پر مبنی پلے کارڈز اٹھائے آئی جی آفس کے باہر پہنچیں۔ بعد ازاں آئی جی پنجاب انعام غنی نے خواتین کے وفد کو ملاقات کیلئے اپنے دفتر میں بلا لیا۔ شائستہ پرویز ملک، حناپرویز بٹ اورسائرہ افضل تارڑ سمیت دیگر ممبر ان قومی وصوبائی اسمبلی نے وفد کی صورت میں آئی جی پنجاب سے ملاقات کر کے گجر پورہ واقعہ کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگا ہ کیا۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ گجرپورہ موٹروے  بد اخلاقی کیس میں ملوث جنسی درندوں کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس ٹیمیں شب و روز متحر ک ہیں،کیس کی تحقیقات میں ہونیوالی پیش رفت کی لمحہ بہ لمحہ خود نگرانی کر رہا ہوں۔ زیادتی کے مرتکب ملزمان کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو ہر قسم کے جرائم سے محفوظ رکھنا پنجاب پولیس کی اولین ترجیحات میں ہے۔پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ اور جنرل سیکرٹری چودھری منظور احمد نے کہا ہے کہ موٹر وے پر ہونے والے انسانیت سوز واقعے پر حکومت لفاظی تک محدود ہے،متاثرہ خاتون اور بجے جس صدمے سے دوچار ہیں انہیں نفسیاتی نگہبانی کی اشد ضرورت ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس اور موٹر وے پولیس کا ذمہ داری ایک دوسرے کے کاندھوں پر ڈالنا شرمناک ہے۔اس حادثے پر وزیراعلی اور بدتمیزی میں مصروف وزیر مراد سعید کو مستعفی ہو جاناچاہیے۔ لاہور سے کراچی اور سیالکوٹ موٹر ویز ڈاکوں اور چوروں کیلئے کھلی چھوڑ دی گئی ہیں۔مذکورہ موٹر ویز پر کوئی ریسٹ ایریاز ہیں نہ ہی موٹر وے پولیس دکھائی دیتی ہے۔ لگتا ہے نا اہل حکومت کے آنے کے بعد موٹر وے پولیس نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔   لاہو میں بھی جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام موٹروے پر خاتون سے اجتماعی بداخلاقی کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی  مظاہرے کی قیادت ڈپٹی سیکریٹری جنرل ثمینہ سعید، ربیعہ طارق صدر وسطی پنجاب، ڈاکٹر زبیدہ جبیں صدرلاہور، رہنما جماعت اسلامی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی،  ڈائریکٹر فلاح خاندان عافیہ سرور و دیگر قائدین نے کی۔ احتجاجی مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنسی درندگی کرنے والے کو قرآن و سنت کے مطابق سزائیں دی جائے۔  بچوں اور بچیوں کوبداخلاقی کے بعدقتل کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ایسے درندوں کو بروقت نشان عبرت بنایا جائے تو ایسے واقعات کا خاتمہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تیزی سے بڑھتا جنسی تشدد، جرائم، لاقانونیت قانون فافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دریں اثنا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں موٹروے پر خاتون سے بد اخلاقی کے واقعہ کے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے اور سی سی پی او لاہور کو غیر ذمہ دارانہ بیان پر برطرف کرنے کا مطالبہ کر دیا گیا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا مولانا اسعد محمود کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں موٹروے پر خاتون سے  بد اخلاقی کے واقعہ کی شدید مذمت کی گئی، کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ موٹروے پر بد اخلاقی کا واقعہ معاشرے پر دھبہ ہے، موٹرویکیس کے مجرمان کوسرعام پھانسی دی جائے اور غیرذمہ دارانہ بیان پر سی سی پی او کو برطرف کیا جائے۔ ن لیگی رکن محسن شاہنواز نے کہا کہ پاکستان میں مختلف عہدوں کیلئے حلف نامہ لئے جانے کی عبارت مختلف ہے، تمام حلف نامے ایک ہی عبارت کے تحت ہوجائیں تواچھا ہے۔ حکومت نے محسن شاہنواز رانجھا کی تجویز کی حمایت کردی۔ وفاقی وزیر نورالحق قادری نے کہا کہ مرکزی ہی نہیں صوبائی حکومتوں سمیت تمام حلف ناموں کی عبارت یکساں ہونی چاہئے، حلف کی متفقہ عبارت کیلئے مشاورت کے ساتھ ایک مسودہ نظریاتی کونسل بھیجنا چاہئے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جہاں مسلمان ہونے کی شرط آتی ہے وہاں خاتم النبین? کا لفظ اورمتفقہ عبارت لکھی جائے۔ سپیکر اسد قیصر نے لاہور کے علاقہ گجر پوراہ میں خاتون کے ساتھ اجتماعی  بد اخلاقی کے واقعے کا نوٹس لے لیا اس حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی نے آئی جی پنجاب کو ٹیلیفون کر کے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ ۔ انہوں نے کہاکہ یہ واقعے انتہائی شرمناک ہے ایسے واقعات ہمارے سماجی اقدار کے منافی ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہاکہ  متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں،  اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق قرار واقعی سزاز دی جائے، یوان با لاء کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں۔قائمہ کمیٹی نے ٹی وی چینلز اور اخبارات کو سانحہ موٹروے کے حوالے سے متعلقہ خاتون اور ان کے خاندان کی پرئیویسی کا خیال رکھنے کی ہدایات کر دی۔

 احتجاج

 لاہو( کرائم رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) لاہو گوجرانوالہ موٹروے پر ر خاتون سے  بد اخلاقی کے مجرم   تیسرے روز بھی نہ پکڑے جا سکے۔ پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف ہیں، 15 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا، ڈی این اے کیلئے نمونے فرانزک کیلئے بھجوا دیئے گئے ہیں، علاقے کی جیو فینسنگ مکمل کرلی گئی۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کو تلاش کرنے کی سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں موجود کارخانوں اور فیکٹری ملازمین کے کوائف اکھٹے کرنا شروع کر دیئے ہیں، کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی۔  واقعہ کی تحقیقات میں روایتی اور جدید دونوں طریقہ تفتیش کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5 کلو میٹر کا علاقہ چیک کر کے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے۔ کھوجیوں کی نشاندہی سمیت مختلف شواہد پر 7 مشتبہ افراد محمد کاشف، عابد، سلمان، عبدالرحمن، حیدر سلطان، ابوبکر، اصغر علی کو حراست میں لیا گیا، مشتبہ افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹ کا انتظار ہے۔آئی جی پنجاب کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تفتیش کے معاملات کے ہر پہلو کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل 15 مشتبہ افراد کی پروفائلنگ کی گئی ہے۔ تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ لوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کر کے شناخت کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ادھر پنجاب حکومت نے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی جس کے سربراہ وزیر قانون راجہ بشارت ہوں گے۔ کمیٹی میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن آغا، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب اور ڈی جی فرانزک سائنس ایجنسی شامل ہیں۔ کمیٹی تین روز میں تحقیقات کر کے رپورٹ وزیراعلی پنجاب کو پیش کرے گی۔آئی جی پنجاب کا کہنا ہے درندہ صفت ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گا، متاثرہ خاتون اور اس کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کیلئے پولیس ٹیمیں شب و روز متحرک ہیں۔ حکام نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے علاقے کے تمام افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شک کی بنیاد پر گرفتار ہونے والے تمام 15 افراد کے ڈی این اے میچ نہیں ہو سکے ہیں، اس لئے حکام کی جانب سے کرول گھاٹی کے تمام رہائشیوں کے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام رہائشیوں کے ڈی این اے سیمپلنگ کیلئے کرول گھاٹی کے قریب فیلڈ ہسپتال بنایا جائے گا۔۔ذرائع کیمطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو  جنگل سے خاتون سے لوٹی گئی طلائی انگوٹھی اور گھڑی مل گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون سے ڈکیتی کے بعد ڈاکو اسے کھائی میں لے گئے تھے، ڈاکوؤں نے خاتون سے ایک لاکھ نقدی اور زیورات لوٹے، انگوٹھی اور گھڑی ڈاکوؤں کے فرار کے دوران گرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تفتیشی اہلکاروں کو  لوٹی ہوئی اشیاء  ملیں جنہیں فنگر پرنٹ تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔دوسری طرف  وزیر قانون راجہ بشارت نے وقوعہ کے مقام کا تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ دورہ کیا، وزیر قانون اور تحقیقاتی ٹیم کے ارکان نے واقعہ کے مقام کا جائزہ لیا  اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے راجہ بشارت نے کہا کہ  اس وقوعے کے ملزموں کی گرفتاری   حکومت  اور لاہور پولیس کیلئے ایک چیلنج ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ اس واقعہ سے جتنا عوام کا دل دکھا ہے اتنا ہی وزیر اعلیٰ پنجاب اور حکومت کے ہر فرد کا بھی دل دکھا ہے، اس صوبے میں  رہنے  والی خواتین کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے اور اگر کیس میں کوتاہی پائی گئی تو اس کو بھی دیکھا جائے گا۔ وزیر قانون نے کہا کہ مانیٹرنگ کمیٹی نے اس افسوسناک واقعہ کی تحقیقات کی نگرانی بھی کرنی ہے اور ساتھ ساتھ مستقبل کیلئے لائحہ عمل بھی دینا ہے کہ تحقیق اور تفتیش کے عمل کیلئے کیا کیا اقدامات ضروری ہیں۔ پیٹرولنگ کو بہتر بنانے، شاہراہوں کی تحفظ  اور تھانوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے گاڑیاں خریدی جا رہی ہے۔ شاہراہوں کی تحفظ کیلئے فورس کو دوبارہ سے فعال کیا جا رہا ہے۔

تحقیقات

مزید :

صفحہ اول -