ہائیکورٹ کا ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنیوالی فیکٹریوں کیخلاف کارروائی کا حکم

ہائیکورٹ کا ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنیوالی فیکٹریوں کیخلاف کارروائی کا حکم

  

لاہور(نامہ نگار)لاہور ہائی کورٹ نے ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف بھر پورکارروائی کا حکم دے دیا  عدالت نے پولیس کو محکمہ ماحولیات کو معاونت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،عدالت نے ڈی ایچ اے میں پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی کے خلاف ورزی پر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے وکیل کو آئندہ تاریخ سماعت پر طلب کر لیا جبکہ شہر میں اینٹی سموگ ٹاورز نصب کرنے کے لئے سرکاری او ر درخواست گزار وکلاء کو بھی معاونت کے لئے طلب کر لیاہے مسٹر جسٹس شاہد کریم نے درخواست گزارشہری ہارون فاروق کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے ابوزر سلمان خان نیازی ایڈووکیٹ،جوڈیشل واٹر کمیشن کی طرف سے سید کمال حیدر ایڈووکیٹ اورپنجاب حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب انیس علی ہاشمی عدالت میں پیش ہوئے،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو فاضل جج نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے پر دفعہ 144 کے نفاذ کا کیا بنا؟جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ سر حکومت فصلوں کی باقیات کو جلانے پر پابندی کے حوالے سے اقدامات کر ہی ہے،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ محکمہ ماحولیات آلودگی پھیلانے والے صنعتی یونٹس کیخلا کارروائی کرتا ہے مگر پولیس تعاون نہیں کرتی، محکمہ تحفظ ماحول کی درخواست پر متعلقہ پولیس مقدمہ بھی درج نہیں کرتی، سی سی پی او کو محکمہ ماحولیات سے تعاون کرنے کا حکم دیا جائے، جس پر فاضل جج نے کہا کہ سی سی پی او لاہورکو کیوں کہنا ہے وہ تو اپنے آئی جی کی بھی نہیں سنتا؟جوڈیشل واٹر کمیشن کی طرف سے سید کمال حیدر نے موقف اختیار کیا کہ اینٹی سموگ ٹاور بنانے والی آئی جی سی نامی این جی نے پائلٹ پلان شروع کیا ہے جس پر فاضل جج نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ واٹر کمیشن نے تجویز دی ہے یہ بہت اہم ہے اس کو دیکھیں، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے پلاسٹک بیگز پر پابندی کا حکم دیا تھالیکن ڈی ایچ اے حکم کی تعمیل نہیں کر رہا، ڈی ایچ اے حکام محکمہ ماحولیات کی جانب سے سربمہر کی گئی دکانیں دوبارہ کھول دیتے ہیں، ڈی ایچ اے حکام کہتے ہیں کہ وہ محکمہ تحفظ ماحول کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے،اس کیس کی مزید سماعت 18ستمبر کو ہوگی۔

کارروائی کا حکم 

مزید :

صفحہ آخر -