ایک امیدوارکے بی وقت 2سے زائد نشستوں پر الیکشن لڑنے پر پابندی کا بل منظور

ایک امیدوارکے بی وقت 2سے زائد نشستوں پر الیکشن لڑنے پر پابندی کا بل منظور

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ایک امیدوار کے بیک وقت دو سے زیادہ نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرنے کا بل کثرت رائے سے منظورکر لیا، پیپلز پارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی (ف) کے ارکان نے بل کی مخالفت کی،کمیٹی نے موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے واقعہ کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور کو اپنے بیانات کی وضاحت کیلئے بھی طلب کرلیا جبکہ سیکرٹری مواصلات اور موٹروے پولیس حکام کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا، کمیٹی نے حیات بلوچ کے قتل اور کراچی میں بچی سے زیادتی اور قتل کے واقعہ کی بھی شدید مذمت کی، نفیسہ شاہ کے لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل(ترمیمی)بل پر پاکستان بار کونسل اور سندھ بار کونسل سے رائے طلب کر لی جبکہ رکن کمیٹی عالیہ کامران نے ایک سال قبل کمیٹی سے منظور شدہ لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ترمیمی بل اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کرنے کا مطالبہ کر دیا۔جمعہ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ کی صدارت میں ہوا، رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے کہا موٹروے پر خاتون سے بداخلاقی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، سی سی پی او نے جس طریقہ سے بیان دیاوہ متاثرہ خاتون کی تذلیل ہے،سی سی پی او کو عہدے سے ہٹایا جائے،رکن کمیٹی عالیہ کامران نے حیات بلوچ کے قتل کیخلاف بھی مذمتی قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا، اجلاس میں آئینی ترمیمی بل 2019ء آرٹیکل 51میں ترمیم کا جائزہ لیا گیا، بل کے محرک جنید اکبر نے کہاانتخابات میں مخصوص نشستوں پر خواتین براہ راست الیکشن جیت کر اسمبلی میں آئیں، رکن کمیٹی نوید قمر نے کہا اس معاملے پر پارٹی لیڈرشپ سے بات چیت کرکے پھر رائے دینی چاہیے، عالیہ کامران نے کہا بہتر ہے تمام پارٹیاں متفق ہو کر اس معاملے پرفیصلہ کریں، نفیسہ شاہ نے کہا سیاسی جماعتوں کو اس معاملے کا حل ڈھونڈنا پڑے گا،کمیٹی نے معاملہ موخر کرتے ہوئے ہدایت کی ممبران اگلی میٹنگ تک اپنی پارٹی کو اعتماد میں لے لیں، اجلاس میں آئینی ترمیمی بل2019آرٹیکل 223 میں ترمیم کا بھی جائزہ لیا گیا، بل کے محرک جنید اکبر نے کہا امیدوار دو سے زیادہ حلقوں پر الیکشن نہ لڑیں، بل پر رائے شماری کے دوران ارکان کمیٹی عالیہ کامران،نفیسہ شاہ، سید حسین طارق، نوید قمر اور محمود بشیر ورک نے بل کی مخالفت کی جبکہ پانچ ارکان نے بل کی حمایت کی، بل کی حمایت اور مخالفت میں پانچ پانچ ووٹ آئے، چیئرمین کمیٹی نے بل کے حق میں ووٹ دیا، جس کے باعث بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، بل کے تحت دو نشستوں پر الیکشن جیتنے والا امیدوار جو نشست چھوڑے گا وہ اس نشست کے انتخابات پر آنیوالے تمام اخراجات الیکشن کمیشن کو ادا کرے گا،اجلاس میں رکن کمیٹی نفیسہ شاہ کے لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ترمیمی بل 2020 کا بھی جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے بل پرپاکستان بار کونسل اور سندھ بار کونسل سے رائے مانگ لی۔

بل منظور

مزید :

صفحہ آخر -