صدارتی و پارلیمانی نظام دیکھ لیا اب ملک میں خلاف کا نظام قائم کرنا ہو گا: سراج الحق 

      صدارتی و پارلیمانی نظام دیکھ لیا اب ملک میں خلاف کا نظام قائم کرنا ہو گا: ...

  

  لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ یہ تبدیلی نہیں تبادلہ سرکار ہے، جرائم کا خاتمہ بیوروکریسی اور پولیس افسروں کے تبادلوں سے نہیں بے حس حکمرانوں کو بدلنے سے ہو گا، حکومت کی اپنی کوئی سوچ ہے نہ وژن،اس نے سوچنے کیلئے بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے بندے رکھے ہوئے ہیں۔عوام نے صدارتی اور پارلیمانی دونوں نظام دیکھ لئے مگر کوئی نظام بھی ان کے مسائل حل نہیں کر سکا۔ عوام کی مشکلات اور پریشانیوں کا حل صرف اسلامی نظام میں ہے۔ہم پاکستان میں خلافت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہماری عدالتوں میں شریعت کے مطابق فیصلے ہوں۔عوام کو عدل و انصاف ملے،عام آدمی کی جان مال اور عزت کا تحفظ حاصل ہو۔پاکستان اسی عظیم مقصد کیلئے حاصل کیا گیا تھااور اس کے قیام کیلئے لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔پاکستان نے تو امت کیلئے ایک مثال بننا تھا یہ اسلام کا قلعہ تھا مگر اس قلعے میں بیٹیاں محفوظ نہیں۔اندھی بہری اور گونگی حکومت ایک مجبور بیٹی کی حفاظت توکر نہیں سکی۔حکمران شرمندہ ہونے کی بجائے کہتے ہیں کہ اسے رات سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا گیا۔ہم مزدور کو کارخانے، کسان اور کاشت کار کو کھیت کی پیداوار میں شریک کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کو میدان میں اتارے گی۔ یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ملک پر غیر ت و حمیت سے عاری ٹولہ مسلط ہے۔ معصوم بچوں اور بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنا نے کے بعد ان کا گلا دبا کر قتل کرنے والے آزاد پھر رہے ہیں۔قوم کی بیٹیوں کو شاہراہوں پرروک کر ان کی عزتوں کو پامال کردیا جاتا ہے۔نوجوانوں کو ظلم و جبر اور استحصال کے اس نظام کے خلاف اٹھنا ہوگا۔تبدیلی نوجوان لاتے ہیں۔لاکھوں نوجوان جماعت اسلامی میں شامل ہوکرظلم کے اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے متحد ہوچکے ہیں۔

 سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -