آرپی او ڈیرہ کی کھلی کچہری‘ شکایات پر اہلکاروں کو قبلہ درست کرنیکی ہدایت

آرپی او ڈیرہ کی کھلی کچہری‘ شکایات پر اہلکاروں کو قبلہ درست کرنیکی ہدایت

  

ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ بیورورپورٹ، سٹی رپورٹر) ریجنل پولیس آفیسر محمد فیصل رانا نے اپنے آفس کے برآمدہ میں کھلی کچہری منعقد کی۔اس موقع پر سیکورٹی کے ایس (بقیہ نمبر41صفحہ7پر)

او پیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر شخص کو کھلی کچہری تک رسائی دی گئی۔۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی ستائش میں منعقد ہو نے  روائتی اور معمول کی والی کھلی کچہریوں نے اس لفظ کی حرمت اور افادیت کو متاثر کیا ہے۔میں اس طرح کی روائتی کھلی کچہریوں کا قائل نہیں ہوں میرے نزدیک پولیس کے کسی آفیسر کی وہی کھلی کچہری کامیاب ہوتی ہے جس میں پولیس والوں۔ کے خلاف شکایات ہوں اور افسران بالا انہیں موقع پر قانون کے مطابق حل کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری میں زیادہ تر وہی سائلین آتے ہیں جن کی بادی النظر میں پہلے یا دوسرے متعلقہ فورم پر شنوائی نہیں ہوتی۔ار پی او نے کہا کہ قانون کی حکمرانی ہی عوامی۔مسائل کے حل اور کرائم۔کو زیرو کی سطح پر لانے کی ضمانت ہے قتل۔ڈکیتی۔ڈکیتی معہ قتل۔اغوا برائے تاوان۔ بچے بچیوں کا اغوا ان سے زیادتی۔پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مزاحمت ایسے جرائم ہیں جن کو روکنا پولیس کی زمہ داری ہے۔پولیس افسران کان کھول کر سن لیں کہ وطن عزیز میں ریاست کے قانون کے علاؤہ کوئی سسٹم نہیں۔اگر کسی نے ریاستی قانون اور سسٹم کے متوازی کوئی سسٹم بنانے کی کوشش کی تو وہ قانون اور ریاست کاباغی ہو گا جس کے لئے قانون موجود ہے جس پر عمل در آمد پولیس کی زمہ داری ہے۔کھلی کچہری  میں پیش ہونے والے معزور شخص لعل محمد نے جب مسئلہ پیش کیا تو آر پی اونے  کہا کہ اس معاملے میں اگر معزور شخص کو دوبارہ آنے کی زحمت ہوئی تو متعلقہ زمہ داران افسران اپنی خیر منائیں۔ کھلی کچہری میں لعل محمد، غلام اکبر، ریاض حسین، بشیر احمد، محمد کلیم، شفیع محمد، عبدالمجید، شاہ بخش، غزالہ جبیں، مائی اللہ ڈیوائی نے اپنے مسائل۔پیش کئے جن پر آر پی او نے موقع پر حل کے احکامات جاری۔

کھلی کچہری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -