جمشید دستی کے خلاف مقدمات کا  15 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

      جمشید دستی کے خلاف مقدمات کا  15 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

  

 ملتان (خصو صی رپورٹر) ہائیکورٹ ملتان بنچ کے جج چوہدری عبدالعزیز نے گزشتہ روز سابق رکن قومی اسمبلی و عوامی راج (بقیہ نمبر13صفحہ6پر)

پارٹی کے سربراہ جمشید احمد دستی کی جانب سے پولیس گردی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ماتحت عدالت کو ہدایت کی ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249 کے تحت جمشید دستی کے خلاف مقدمات کا 15 روز میں فیصلہ کریں۔ قبل ازیں فاضل عدالت میں جمشید دستی کے وکیل میاں خالد نعیم بھٹی نے درخواست کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ دسمبر 2019 کو جمشید دستی نے آزادی مارچ میں بطور فوکل پرسن حصہ لیا اور حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جس پر جمشید دستی کے خلاف آئل ٹینکر چوری کا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ وہ نامزد نہیں تھے لیکن اس کے باوجود انھیں ملتان سے گرفتار کیا گیا اور ہائیکورٹ نے انہیں حفاظتی ضمانت پر رہا کیا عوامی راج پارٹی کے وکیل نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ضلع مظفرگڑھ ماورائے عدالت قتل کے لیے بد نام ہے وہاں 40 کے لگ بھگ پولیس مقابلے ہوچکے ہیں وہاں کسی کا بھائی،کسی کا بیٹا اور کسی کا باپ مارا جا چکا ہے انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جمشید دستی کے خلاف سیاسی انتقام کے طور پر درج ہونے والے مقدمات خارج کرنے کا حکم دیا جائے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ عدالت میں ڈی ایس پی عظمت گورمانی ڈی ایس پی صدر، ڈی ایس پی لیگل، پولیس انسپکٹر محمد الیاس، فاروق اور دیگر بھی موجود تھے۔ جنہیں عدالت نے طلب نہیں کیا تھا مگر وہ کارروائی میں حصہ لینے کے لیے موجود تھے جب میاں خالد نعیم بھٹی نے فاضل عدالت کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران اپنے علاقے کے ارکان اسمبلی کے ایماء پر سیاسی مخالفین کو مارنے میں ملوث ہیں۔ جس پر فاضل عدالت نے پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا خوف کرو اپنے جرائم کے آپ خود جواب دہ ہیں۔ ماورائے عدالت قتل سے گریز کرو آپ لوگوں کو شرم آنی چاہیے اگر کسی بے گناہ کا کیس آیا تو عدالت سخت ایکشن لے گی۔ پولیس اسٹیٹ کی ملازم ہے کسی کی ذاتی ملازم نہیں جعلی پولیس مقابلوں کا بے حد افسوس ہے۔اس دوران تمام پولیس افسران خاموش رہے۔

جمشید دستی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -