سانحہ زیارت، مشکل کی اس گھڑ ی میں متاثرین کو تنہا ء نہیں چھوڑیں گے: محمود خان 

سانحہ زیارت، مشکل کی اس گھڑ ی میں متاثرین کو تنہا ء نہیں چھوڑیں گے: محمود خان 

  

مہمند (نمائندہ پاکستان)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضلع مہمند کے زیارت ماربل مائن میں حادثہ کے شہداء اور زخمیوں کے لواحقین میں امدادی چیک تقسیم کر دیئے۔ شہداء کے لواحقین کو فی کس 9 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کیلئے فی کس ایک لاکھ روپے کے امدادی چیک دیئے گئے۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے سات بہنوں کے اکلوتے بھائی سمیع اللہ کے لواحقین کیلئے 50 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزیراعلیٰ محمود خان جمعہ کے روز ضلع مہمند کے مختصر دورہ پر گئے جہاں اُنہوں نے تحصیل صافی کے زیارت ماربل مائن میں حادثہ کے شہداء اور زخمیوں کے لواحقین سے ملاقات کی اور امدادی چیک تقسیم کئے۔ صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی عارف احمد زئی، رکن قومی اسمبلی ساجد مہمند، کمشنر پشاور، ضلع انتظامیہ، ریسکیو1122 اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متاثرین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماربل کان میں حادثہ بلا شبہ ایک غیر معمولی واقعہ اور قدرت کی طرف سے آزمائش ہے۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ ہم غمزدہ خاندانوں کے دُکھ میں برابر کے شریک ہیں اور دُعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ناقابل تلافی نقصان پر لواحقین کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔ محمود خان نے کہاکہ اگر چہ انسانی جان کا کوئی نعم البد ل نہیں تاہم حکومت متاثرین کی دلجوئی اور داد رسی کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں۔ ہم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ حادثہ کے رونما ہونے سے لیکراب تک سائٹ پر امدادی سرگرمیوں کی مجموعی صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ لے رہے ہیں۔ لاپتہ افراد کی تلاش تک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔ امدادی کاروائیوں میں مصروف ریسکیو اہلکاروں، آرمی کے جوانوں اور دیگر متعلقہ اداروں کا کردار قابل ستائش ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ حالیہ سیلاب اورمذکورہ مائن حادثہ کے دوران متعلقہ اداروں نے جس مستعدی کا مظاہرہ کیا اور تیز رفتاری سے رسپانس دیا وہ واقعی قابل تعریف ہے۔ قبل ازیں حادثہ میں شہید ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلدصحت یابی کیلئے دُعا بھی کی گئی۔

مزید :

صفحہ اول -