میجر عزیز بھٹی کا یوم شہادت، ان کے بارے میں وہ باتیں جو آپ کو معلوم شاید نہیں

میجر عزیز بھٹی کا یوم شہادت، ان کے بارے میں وہ باتیں جو آپ کو معلوم شاید نہیں
 میجر عزیز بھٹی کا یوم شہادت، ان کے بارے میں وہ باتیں جو آپ کو معلوم شاید نہیں

  

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور سیکٹر میں دشمن نے 11/12 ستمبر 1965 کی درمیانی شب برکی نہر کے ساتھ 17 پنجاب کی دفاعی پوزیشنوں پر آٹھ بڑے حملے کئے۔ 12 ستمبر کی صبح دشمن کے تین ٹینکوں نے میجر عزیز بھٹی کی پوزیشن پرگولہ باری شروع کردی۔ جبکہ میجر بھٹی نے جوابی حملے میں دشمن کے دو ٹینک تباہ کردیئے۔ اسی اثنا میں ایک خول سیدھا اس پرجا لگا اور موقع پر ہی شہید ہوگئے۔میجر راجہ عزیز بھٹی کو ان کی بہادری پر پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔

میجر راجہ عزیز بھٹی (شہید)نشانِ حیدر

۔ میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کا تعلق گجرات سے تھا۔

۔ آپ 1928ء میں پیدا ہوئے۔ 

۔ میجر عزیز بھٹی نے1948میں پہلےPMAلانگ کورس میں کمیشن حاصل کیا۔ 

۔ 1950ء میں آپ کو اعلیٰ کارکردگی کی بُنیاد پر PMAکا بہترین کیڈٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

۔ لیاقت علی خان نے عزیز بھٹی شہید کو اعزازی شمشیر سے نوازا۔ 

۔ آپ کی والدہ آپ کو پیار سے راجہ کے نام سے پُکارتی تھیں۔ 

۔ آپ نے 17پنجاب رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔

۔ 1965ء کی جنگ میں 6ستمبر کو آپ لاہور کے برکی سیکٹر میں اپنی کمپنی کے ساتھ بی آر بی نہرپر وفاع وطن کا مقدس ترین فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔

۔ 6ستمبر1965ء، جب بُزدل دُشمن نے پاکستان کو سرپرائز دینے کی ناکام کوشش کی تو خُود  سر پرائز ہو گیا۔ 

۔ میجر راجہ عزیز بھٹی شہید الفا کمپنی کے ساتھ دُشمن کے سامنے سینہ سَپر تھے۔ 

۔ بطور کمپنی کمانڈر میجر عزیز بھٹی نے خود کو فاروڈ ٹروپس کے ساتھ رکھا تاکہ خُود دُشمن پر نظر رکھ سکیں۔ 

۔ 6ستمبرسے12ستمبر تک دُشمن نے آپ کی پوزیشن پر بڑے حملے کیے لیکن عزیز بھٹی کے حوصلے اور ہمت کے سامنے ہر مرتبہ ناکام ہوا۔ 

۔ عزیز بھٹی نے اپنی کمپنی سمیت 6دِن اور راتیں لگاتار دُشمن کو نہ صرف روکے رکھا بلکہ شکست سے بھی دوچار کیا۔ 

۔ عزیز بھٹی کو اُن کے کمانڈنگ آفیسر نے پیغام بھیجا کہ وہ کافی دنوں سے وطن کا دفاع کر رہے ہیں، تھوڑا آرام کر لیں  لیکن عزیز بھٹی نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ”وطنِ عزیز کے لیے اپنے خُون کے آخری قطرے تک لڑیں گے“  اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔ 

۔ 10ستمبر عزیز بھٹی نے دُشمن کی چند گاڑیوں کا مشاہدہ کیا۔ 

۔ آپ نے بروقت جوابی کارروائی سے دُشمن کی ان گاڑیوں کو تباہ کر دیا۔ 

۔ 10ستمبر کو ہی پاکستان نے لاہور سیکٹر پر 2بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے۔ 

۔ 10ستمبر کو ہی نُور جِہاں نے مشہور گانہ ”اے پُتر ہَٹاں تے نہیں وِکدے“ گایا۔

۔ عوام کی ایک بڑی تعداد نے اسے سراہا۔ 

۔  دُشمن اپنے چھوٹے ہتھیاروں، ٹینکوں اور توپوں سے مسلسل آگ برساتا رہا اور آپ اس کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیتے رہے۔

۔ 12ستمبر کو اسی دوران دُشمن کے ایک ٹینک کا گولہ آپ کے بائیں شانے پر لگا اور آپ نے جامِ شہادت نوش کیا۔

۔  میجر راجہ عزیز بھٹی کی بے مثال جرات اور قیادت کے سبب آپ کو ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز    ”نشانِ حیدر“ دیا گیا۔

مزید :

دفاع وطن -