موٹروے زیادتی کیس میں خاتون کے لباس سے لیے گئے سیمپلز سے ایک ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا لیکن یہ اب کہاں ہے؟ پولیس نے بتا دیا، تصاویر گمراہ کن قرار

موٹروے زیادتی کیس میں خاتون کے لباس سے لیے گئے سیمپلز سے ایک ملزم کا ڈی این اے ...
موٹروے زیادتی کیس میں خاتون کے لباس سے لیے گئے سیمپلز سے ایک ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا لیکن یہ اب کہاں ہے؟ پولیس نے بتا دیا، تصاویر گمراہ کن قرار

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)نجی ٹی وی چینل سما  نے دعویٰ کیا ہے کہ موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم کی شناخت ہوگئی ہے اور مبینہ ملزم کی تصویر بھی نشر کردی تاہم پولیس نے ایسی تصاویر کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے  کسی گرفتاری کی تردید کردی،ادھر جیو نیوز نے بتایا کہ ملزم ریکارڈ یافتہ ہے اور اس کا ریکارڈ پہلے ہی موجود تھا، اس کا ڈی این اے متاثرہ خاتون سے لیے گئے سیمپلز سے  میچ کرگیا ہے ، دنیا نیوز نے بھی خاتون کے لباس سے  ڈی این اے میچ ہونے کی تصدیق کردی لیکن پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم ابھی گرفتار نہیں کیا جاسکا،  اس سے قبل اے آر وائے نیوز نے بھی ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا تاہم ڈاکٹر شہباز گل نے گرفتاری کے دعووں کی تردید کردی۔ 

نجی ٹی وی سما نیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ ملزم عابدبہاولنگر کا رہائشی ہے ،ملزم کا ڈی این اے جائے وقوع پر 3 مقامات سے ملا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی کا شیشہ بھی عابد نے توڑا،گاڑی پر بھی ملزم کے خون کے نمونے ملے ،متاثرہ خاتون کے لباس سے بھی ملزم کا ڈی این اے ملا، ملزم نے 2013 میں ماں بیٹی سے بھی بہاولنگر میں زیادتی کی تھی ،پرانے ریکارڈ سے ملزم کا ڈی این اے میچ کیاگیا۔

ان دعوئوں پر آئی جی پنجاب کے آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا کی خبریں علم میں ہٰیں، غیر تصدیق شدہ خبریں گمرہ کن ہیں، جیسے ہی کوئی پیش رفت ہوگی تو قوم کو آگاہ کیا جائے گا، دوسری طرف پولیس نے  خفیہ اداروں سے بھی مدد طلب  کرلی ۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق آئی جی پنجاب کے آفس سے جاری اعلامیہ میں  انعام غنی نے کہاہے کہ موٹروے زیادتی کیس میں ابھی کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا،کیس کی تفتیش خودمانیٹر کررہاہوں،کسی کامیابی پر میڈیا کو خود آگاہ کریں گے  ،ہم پر اعتماد رکھیں ،جلد ملزموں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کردیں گے ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز نے دعویٰ کیا تھا کہ موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اے آر وائی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعہ میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ ملزمان کو 24 سے 48 گھنٹوں میں گرفتار کرلیا جائے گا۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے یہ خبر درست نہیں ہے، پولیس اس حوالے سے بہت محنت کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس آئی جی کی قیادت میں دن رات کام کر رہی ہے-جیسے ہی کوئی اچھی خبر ملی آپ سے شیئرہو گی-آپ سب دعا کریں یہ بدکردار مجرم جلد سے جلد پکڑے جائیں۔پوری قوم ایک تکلیف اور کرب سے گزر رہی ہے۔مولا سے دعا ہے ہماری پولیس کی اور قوم کی مدد کرے اور ہم ان مجرموں کو کیفرے کردار تک پہنچائیں۔

ڈاکٹر شہباز گل کی جانب سے مرکزی ملزم کی گرفتاری کی خبر کی تردید کی گئی تو اے آروائی نیوز کے سینئر ایگزیکٹو نائب صدر عماد یوسف بھی میدان میں آگئے اور انہوں نے واضح کردیا کہ اے آر وائی اپنی خبر پر قائم ہے اور مرکزی ملزم پکڑا جاچکا ہے۔ ان کی اس بات پر ڈاکٹر شہباز گل نے کہا "اللہ کرے آپ کی خبر کل تک درست ثابت ہو جائے۔"

مزید :

اہم خبریں -علاقائی -پنجاب -لاہور -جرم و انصاف -