راولپنڈی میں بے لباس کی جانے والی لڑکی اچانک اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئی

راولپنڈی میں بے لباس کی جانے والی لڑکی اچانک اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئی
راولپنڈی میں بے لباس کی جانے والی لڑکی اچانک اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئی
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

راولپنڈی(ویب ڈیسک) دباؤ ، دھمکی یا ذہنی تناؤ؟ راولپنڈی میں اوباش نوجوانوں کی طرف سے بے لباس کی جانی والی لڑکی اچانک اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئی، لڑکی نے مرکزی ملزم ارسلان کے حق میں عدالت میں بیان دے دیا۔

راہ چلتی لڑکی کو بے لباس کیا گیا، تشدد بھی بھی ہوا اور ویڈیو بھی بنائی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پر پولیس کو ہوش آیا اور ملزمان ارسلان، محسن اور عرفان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ملزمان عبوری ضمانت خارج ہونے کے بعد جیل چلے گئے مگر پھر کہانی میں اچانک اس وقت نیا موڑ آگیا جب لڑکی نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبد القیوم بھٹہ کی عدالت میں بیان دیا کہ وہ ملزم ارسلان کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔لڑکی نے وڈیو سے ہی ملزم ارسلان کی لاتعلق ظاہر کردی۔ متاثرہ لڑکی اس سے پہلے ملزم ارسلان کے بارے میں خدشات کا اظہار بھی کرچکی ہے۔

مدعیہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے 164 کے بیان میں اقرار کرچکی ہے کہ ملزم ارسلان اس کے بھائی محسن اور عرفان نے اس کے ساتھ زیادتی کی اور بے لباس بھی کیا مگر اچانک بیان بدل دینے کے پیچھے کوئی دھمکی ہے یا مبینہ طور پر پولیس کا دباؤ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ملزمان کے فوٹو گراماٹک اور ویڈیو فرانزک ٹیسٹ کی رپورٹ آنا بھی ابھی باقی ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -راولپنڈی -