موٹروے زیادتی کیس، ملزم کی گرفتاری کی خبروں اور تصاویر پر پولیس کا موقف بھی آگیا، خفیہ اداروں سے بھی مدد طلب 

موٹروے زیادتی کیس، ملزم کی گرفتاری کی خبروں اور تصاویر پر پولیس کا موقف بھی ...
موٹروے زیادتی کیس، ملزم کی گرفتاری کی خبروں اور تصاویر پر پولیس کا موقف بھی آگیا، خفیہ اداروں سے بھی مدد طلب 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)موٹروے زیادتی کیس میں ملزم کی گرفتاری کی خبروں اور تصاویر پر پولیس کا موقف بھی آگیا اور آئی جی پنجاب انعام غنی نے تاحال کسی گرفتاری کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کی خبریں علم میں ہٰیں، غیر تصدیق شدہ خبریں گمرہ کن ہیں، جیسے ہی کوئی پیش رفت ہوگی تو قوم کو آگاہ کیا جائے گا، دوسری طرف پولیس نے  خفیہ اداروں سے بھی مدد طلب  کرلی ۔ 

نجی ٹی وی چینل کے مطابق آئی جی پنجاب کے آفس سے جاری اعلامیہ میں  انعام غنی نے کہاہے کہ موٹروے زیادتی کیس میں ابھی کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا،کیس کی تفتیش خودمانیٹر کررہاہوں،کسی کامیابی پر میڈیا کو خود آگاہ کریں گے  ،ہم پر اعتماد رکھیں ،جلد ملزموں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کردیں گے ۔

واضح رہے کہ نجی ٹی وی چینل سما نے ایک ملزم کی تصویر آن ایئر کی تھی جس کے مطابق اس تصویر میں دکھائے گئے ملزم کا ڈی این اے میچ کرچکا ہے جبکہ گزشتہ روز بھی ایک نجی ٹی وی چینل اے آر وائے نے مرکزی ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا تاہم وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے اس کی تردید کردی تھی ۔ 

دوسری طرف مشتبہ افراد کی ڈی این اے سیمپلنگ کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک پچاس سے زائد افراد کے سیمپل لیے جاچکے ہیں، کرول گھاٹی گائوں پر پہلا فوکس ہے اور اس کے بعد دیگر دو قریبی گائوں کے مشتبہ مکینوں کے سیمپل لیے جائیں گے ۔ 92 نیوز کے مطابق  پولیس کی تمام ٹیمیں تفتیش میں مصروف ہیں اور خفیہ اداروں سے بھی معاونت طلب کرلی گئی ۔ ادھر مدعی مقدمہ ، گواہ اور متاثرہ خاتون بھی پولیس سے تعاون نہیں کررہیں، اہلخانہ بھی گریزاں ہیں اور ان کا موقف ہے کہ وہ ابھی اس حالت میں نہیں کہ پولیس کو بیانات ریکارڈ کروائیں۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -