کھلے عام گھومتے درندے

کھلے عام گھومتے درندے
کھلے عام گھومتے درندے
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

تحریر: حمنہ افضل

روز مرہ خبروں کے انبار میں دل چیر دینے والی خبر نے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ لاہور موٹروے پر خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔معصوم بچوں کے سامنے یہ غلاظت۔یا اللہ رحم۔۔

 یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ یہ دنیا یہ بستی کیا واقعی ہی انسانوں کی بستی ہے یا یہاں انسانوں کے روپ میں درندے چھپے ہیں۔ جو ہر وقت کاٹنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ 

ہماری معصوم بچیاں، نوجوان لڑکیاں یہاں تک کہ بزرگانِ خواتین بھی اس انسان نوع بستی میں محفوظ نہیں۔ہر گلی، کوچہ، محلہ علاقہ نہ جانے اپنے احاطے میں کتنے وحشیوں اور درندوں کو پناہ دیے ہوئے ہیں جن کو پکڑنے کا سدباب تو اب تک ہم نہیں کر پائے البتہ باتوں کے ذریعے بس امید کا دلاسہ دیا جاتا رہتا ہے۔ 

زینب قتل کا دل دہلا دینے والا سانحہ جس نے قوم کو متحرک کرکے آواز اٹھانے پر مجبور کیا کہ ان بھیڑیوں کو فورا سے پہلے گرفتار کیا جائے ورنہ اس بستی کو جنگل بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ ہر گھر سے نکلی آ واز نے اتنا زور تو ضرور پیدا کیا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے کر تحقیقات تیز ہوئی، مجرم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، سپیڈی ٹرائل اور مجرم کو پھانسی کے تختے پر لٹکا کر سزا کو یقینی بنایا گیا۔ 

عوام کے بجا شور مچانے پر انصاف کی آواز گونجی اور ننھی زینب کے والدین (جن کے پھول کو بری طرح سے مسل دیا گیا) کو انصاف ملا۔ 

لیکن یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ہر بار ان قابل مذمت ہولناک واقعات کے لیے آواز اٹھانے کی ہی ضرورت پڑتی ہے۔ شور مچانے، چیخنے، انصاف کی دہائی بھیک مانگنے پر ہی انصاف کیوں ملتا ہے۔ 

ہمارے ادارے، ہمارا قانون، ہماری ریاست کیوں اس قابل نہیں کہ آواز اٹھانے سے پہلے ہی ان گنونی حرکات کے پیروکاروں کو عبرتناک سزا کا نشانہ بنایا جائے۔ 

ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے سال چار ہزار ریپ کیسز درج ہوئے اور اس پر سزا کا عمل صرف تین فیصد رہا۔ 

زینب ، سنبل ، پشاور کی کمسن فائزہ ،کراچی کی مروہ کی تکلیف جو ہمارے سامنے آئی جیسے پوری قوم نے محسوس کیا۔اس پر دل سوچ کر اور دکھتا ہے کہ یہ تو وہ نام ہیں جو میڈیا کی بدولت ہمارے سامنے آئے اور جن پر عوامی پریشر پر کیس چلا۔ 

لیکن کتنی ہی ہولناک کہانیاں کسی گاؤں، قصبے اور شہر میں اور بھی ہوں گی جن پر خاموشی کی چادر اوڑھی گئی ہو گی۔ کتنی اور زینب کسی بھیڑیے کے ہتھے چڑھ کر روند دی گئی ۔ جن کا نہ تو کیس درج ہوا نہ کوئی کاروائی۔کسی کو ابھی تک انصاف نہ ملا، تو کوئی طاقت وروں کے سامنے ڈٹ نہ سکا، کوئی غیرت کے ہاتھ دب گیا اور کسی کو اپنوں نے ہی قصور وار ٹھہرا دیا۔ 

 آخر یہ تماشا کب تک چلے گا اور بحیثیت قوم یہ ظلم وبربریت ہمیں کہاں لے کر جا رہا ہے۔ کب تک ہماری مائیں بہنیں، بیٹیاں اپنی ہی وادی میں غیر محفوظ رہیں گی۔ 

قصور سکینڈل کیس کے بعد اک امید تو ضرور جاگی تھی کہ حکومت کوئی بھی ہو اس معاملے پر سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر سنجیدگی سے کام کیا جائے گا۔ لیکن صرف اور صرف افسوس کا منظر ہی آنکھوں کے اردگرد چھایا ہوا ہے جہاں باتیں تو بڑی بڑی ہیں لیکن عملی پیش رفت زیرو ہے۔ زینب کیس کے بعد حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تاحال یہ وعدے وفا نہیں ہو سکے ہیں اور بچوں، خواتین سے جنسی زیادتی کے خلاف ٹھوس اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔ 

عمران خان کی حکومت جس کا نعرہ ہی انصاف ہے جو اس ملک کے اندر مدینہ کی ریاست بنانے کا دعویٰ تو کر چکے ہیں۔پر کیا یہ دعوے صرف دعوے ہی رہے گے؟؟ مدینہ کی ریاست جس میں دریا کے کنارے ایک کتا بھی مر جائے تو اس کی ذمے داری ریاست قبول کرتی تھی۔ اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو کھلے عام جانوں کو کچلا مروڑا مسخ کیا جاتا ہے لیکن ستم ظریفی تو یہ ہے کہ کوئی اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ ایسا لگتا ہے اس آبرو ریزی کو قابو میں کرنے کے لیے نہ کوئی منصوبہ بندی ہے اور نہ انصاف کو عام کرنے میں کوئی دلچسپی۔

 یہاں پر ایک بات کی وضاحت کرنا بہت ضروری ہے کہ خدارا اس واقعہ کو صرف ایک ہی نکتہ نظر سے دیکھا جائے کہ انسان کے روپ میں شیطان آئے اور ایک ماں کی عزت کو پامال کیا۔ اس سانحہ میں کسی بھی طرح کی وکٹم بلیمنگ کی گنجائش نہیں۔اشرف المخلوقات ہر عقل رکھنے والا شخص خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا نہیں اس چیز کو سمجھے کہ ریپ کیس میں اگر کوئی قصور وار ہے تو وہ صرف اور صرف زیادتی کرنے والا ہے۔ جیسے عبرت ناک سزا سر عام پھانسی دینے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -