ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کا معاملہ، فاسٹ باﺅلر عمر گل نے بھی آواز بلند کر دی

ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کا معاملہ، فاسٹ باﺅلر عمر گل نے بھی آواز بلند کر دی
ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کا معاملہ، فاسٹ باﺅلر عمر گل نے بھی آواز بلند کر دی
کیپشن:    سورس:   Twitter

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باﺅلر عمر گل نے بھی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کے حق میں آواز بلند کر دی ہے جن کا کہنا ہے کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی وجہ سے کھلاڑی معاشی فکروں سے آزاد ہوتے اور ان کا کچن چلتا رہتا تھا لیکن اب کھلاڑیوں کی نوکریاں چھن گئی ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق عمر گل نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بند ہونے کی وجہ سے میری بھی تنخواہ بند ہو گئی لیکن میں نے انٹر نیشنل کرکٹ سے بھی رقم کمائی ہے، اب اپنی جمع پونجی سے خرچ کر رہا ہوں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے ملنے والی میچ کی فیس اور ماہانہ تنخواہ سے گھر کا گزارہ نہیں ہوتا، پہلے کرکٹرز معاشی طور پر محفوظ تھے جو 4ماہ کھیلتے لیکن تنخواہ سال بھر ملتی تھی جبکہ پی سی بی سے میچ فیس کی مد میں اضافی رقم بھی ہاتھ لگ جاتی تھی۔ 

انہوں نے کہا کہ کرکٹ کمیٹی ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے معیار میں فرق کم کرنے کیلئے بنائی گئی، کھیل اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہے مگر اس کے سربراہ اقبال قاسم مستعفی ہو گئے، ہم نے پہلے بھی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کیلئے زور لگایا تھا، اب اگلی میٹنگ میں بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے، گریڈ ٹو ٹورنامنٹ ہی کرا دیا جائے تو 10 سے 12 ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے کھیلنے والے کرکٹرز کی ملازمتیں محفوظ رہیں گی۔

کرکٹ کمیٹی کی رکنیت کے ساتھ بلوچستان کی فرسٹ الیون میں بھی شامل ہونے کے سوال پر عمر گل نے کہا کہ میں نے انٹرنیشنل کرکٹ سے اپنے لئے کمائی کر لی، مجھے پیسے کی ضرورت نہیں، گزشتہ سیزن میں بھی عمران فرحت اور میں نے ایک رول ماڈل کے طور پر بلوچستان ٹیم کے کرکٹرز کی رہنمائی کرنا چاہی، اس بار بھی میں اپنا تجربہ نوجوان باﺅلرز تک منتقل کرنے کی کوشش کروں گا، بطور کوچ بھی دباﺅ میں باﺅلنگ کے گر سکھاﺅں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے 5 ماہ بعد میدان میں اترتے ہوئے ردھم میں آنے کیلئے وقت درکار ہو گا، کسی کا کرکٹ چھوڑنے کو دل نہیں کرتا،اگلے سیزن سے قبل اپنی پرفارمنس کا جائزہ لوں گا۔ بطور کوچ کیریئر اپنانے کے سوال پر عمر گل نے کہا کہ میں نے ساری عمر کرکٹ کھیلی، یہی میرا پروفیشن اور اسی کے ساتھ وابستہ رہنا بہتر ہے،میں جدید کرکٹ کے تقاضوں سے واقف ہوں، مصباح الحق، محمد یوسف اور دیگر کرکٹرز کے ساتھ لیول ٹو کورس مکمل کیا تھا، تھری بھی کروں گا،کورسز کی مدد سے کوچنگ کی باریکیاں سمجھنے کا موقع ملا،کھلاڑیوں کی بہتر انداز میں رہنمائی کر سکتا ہوں۔

مزید :

کھیل -