"بیٹے کو گولی مار دی جائے تو مجھے اعتراض نہیں" موٹروے زیادتی کیس کے مبینہ ملزم کے والد کا بیان

"بیٹے کو گولی مار دی جائے تو مجھے اعتراض نہیں" موٹروے زیادتی کیس کے مبینہ ملزم ...

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) موٹروے زیادتی کیس کے مبینہ ملزم عابد علی کے والد کا کہنا ہے کہ اگر اس کا بیٹا اس واردات میں ملوث ہے تو اسے گولی ماردی جائے، لواحقین کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ملزم عابد علی کے والد نے بتایا کہ اس کے بیٹے نے پسند کی شادی کی تھی، وہ ایک بیٹی کا باپ ہے اور فیکٹری میں محنت مزدوری کرتا ہے۔

ملزم کے والد نے کہا کہ 2 روز قبل ملزم عابد علی شام کو 6 بجے ہمارے گھر چھانگا مانگا آیا اور اگلی سہہ پہر کو واپس گیا۔ ملزم نے صرف تیسری جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ اگر میرا بیٹا اس واردات میں ملوث ہے تو مجھے اسے گولی مارنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

خیال رہے کہ خاتون کے کپڑوں سے ملنے والے ڈی این اے سیمپل فورٹ عباس کے رہائشی ملزم عابد علی سے میچ کرگیا ہے۔ ملزم 2013 میں بھی ایک خاتون اور اس کی بیٹی سے زیادتی کے باعث جیل جاچکا ہے تاہم ملزمان نے متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈال کر صلح کرلی تھی۔ جس کے بعد اہل علاقہ نے انہیں نکال دیا اور یہ چھانگا مانگا آکر رہنے لگے تھے۔

مزید :

Breaking News -علاقائی -پنجاب -لاہور -