موٹروے زیادتی کیس شروع ہونے سے پہلے ہی حکومت ملزموں کو ۔۔۔۔رانا ثناء اللہ نے انتہائی تشویش ناک الزام عائد کردیا

موٹروے زیادتی کیس شروع ہونے سے پہلے ہی حکومت ملزموں کو ۔۔۔۔رانا ثناء اللہ نے ...
موٹروے زیادتی کیس شروع ہونے سے پہلے ہی حکومت ملزموں کو ۔۔۔۔رانا ثناء اللہ نے انتہائی تشویش ناک الزام عائد کردیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کےصدر رانا ثناءاللہ نےکہاہےکہ موٹروے پرزیادتی کاشکارہونےوالی خاتون کےواقعہ میں حکومت اور پولیس کا اپنا ریکارڈ آپس میں نہیں ملتا، حکومت کا لا اینڈ آرڈر سے تعلق ہے نا کوئی پالیسی ،کیس شروع ہونے سے پہلے ملزموں کو شک کا فائدہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے،سی سی پی او لاہورآوارہ گفتگو کرنے کے پرانے عادی ہیں،سی سی پی او کو بلدیاتی انتخابات جیتنے کیلئے لگایا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) لیگ صدر رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون کے واقعے میں حکومت اور پولیس کا اپنا ریکارڈ آپس میں نہیں ملتا، حکومت کا کوئی لا اینڈ آرڈر سے تعلق ہے نا کوئی پالیسی ہے،کیس شروع ہونے سے پہلے ملزموں کو شک کا فائدہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے،پولیس کے اپنے ریکارڈ کے مطابق خاتون نے بروقت اطلاع دے دی تھی،ایف آئی آر میں وقوعے کا 4 بجے کا بتایا جا رہا ہےحالانکہ ڈولفن اہلکار3بجےسےپہلےوہاں پہنچ چکے تھے،حکومت کا امن و امان یا عوام سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا,سی سی پی او آوارہ گفتگو کرنے کے پرانے عادی ہیں،سی سی پی او کی وہ گفتگو جس کی پوری قوم مخالفت کررہی ہے اس کی حکومت حمایت کررہی ہے، سی سی پی او کو بلدیاتی انتخابات جیتنے کیلئے لگایا گیا ہے۔

وزیراعلی پنجاب کے انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جس آدمی کو یہ نہیں معلوم کہ ہینڈ فری سے آواز آتی ہے یا کچھ اور ہے،اس آدمی کو وسیم اکرم پلس بنایا ہوا ہے، موجودہ حکمرانوں کا ٹولہ انتقام اور نفرت کی بنیاد پر حکومت کررہا ہے، وزیراعظم کو یہ سوچنا چاہئے کہ قوم کے ساتھ کیا جھوٹ اور دعوے کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ چینی، آٹا،ادویات مافیا لوگوں کو لوٹ رہا ہے جبکہ حکومت صرف نیب اور سپیشل کورٹ کے ذریعے اپوزیشن کو کنٹرول کر رہی ہے،نیب اب اپوزیشن کنٹرول کرنے کی ایجنسی بن چکی ہے،آج ایک سال دو ماہ بعد مجھے میرے کیس کی فرد جرم نہیں دی گئی،سپیشل کورٹ سے انصاف کیسے ملے گا جب واٹس ایپ پر ججوں کو تبدیل کیا جائے گا، ہمارے کیس سننے والے ججوں کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے کہ ان کے خاندان والوں کی خفیہ نگرانی کی جاتی ہے،ایسا ماحول قائم کیا جا رہا ہے کہ انصاف کرنے کا ماحول ہی ممکن نہیں،یہ صورتحال ملک کو خانہ جنگی کی جانب لے جا رہی ہے، پوری قوم کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے.

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -