خالی گراﺅنڈز میں کرکٹ کھیلنے کے باعث کرکٹرز کو کیا کچھ کرنا پڑ رہا ہے؟ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے پہلے ون ڈے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی

خالی گراﺅنڈز میں کرکٹ کھیلنے کے باعث کرکٹرز کو کیا کچھ کرنا پڑ رہا ہے؟ ...
خالی گراﺅنڈز میں کرکٹ کھیلنے کے باعث کرکٹرز کو کیا کچھ کرنا پڑ رہا ہے؟ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے پہلے ون ڈے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی
کیپشن:    سورس:   Twitter

  

مانچسٹر (ڈیلی پاکستان آن لائن) کورونا وائرس کے باعث خالی سٹیڈیمز میں کرکٹ میچز کرانے کے باعث کھلاڑیوں کی محنت بھی ڈبل ہو گئی ہے جنہیں باﺅنڈری پار جانے والی گیند تو خودپکڑنا پڑتی ہے مگر اب پارکنگ میں جانے والی گیند واپس لانے کی ذمہ داری بھی کرکٹرز ہی ادا کر رہے ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے سیریز کے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں انگلش کھلاڑی سیم بلنگز نے آسٹریلین باﺅلر پیٹ کومنز کی گیند پر چھکا مارا تو گیند پارکنگ میں چلی گئی جسے لینے کیلئے مچل مارش کو سٹیڈیم سے باہر پارکنگ میں جانا پڑا کیونکہ کورونا ایس او پیز کے تحت سٹینڈز اور گراؤنڈ سے باہر جانے والی گیند کو فیلڈر ہی لاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ عالمگیر موذی وباءکورونا وائرس کے بعد بحال ہونے والی کرکٹ سرگرمیوں کیلئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ایس او پیز وضع کر رکھے ہیں جن کے تحت خالی سٹیڈیم میں باؤنڈری سے باہر گیند جانے پر فیلڈر کو ہی لانی پڑتی ہے، انہیں گراؤنڈ سٹاف یا بوائز کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔

مزید :

کھیل -