غزوہ بنی قریظہ، جب فرشتوں نے بھی ہتھیار باندھے ہوئے تھے، یہودیوں کی تینوں تجاویز کو کیوں رد کیا گیا؟

غزوہ بنی قریظہ، جب فرشتوں نے بھی ہتھیار باندھے ہوئے تھے، یہودیوں کی تینوں ...
غزوہ بنی قریظہ، جب فرشتوں نے بھی ہتھیار باندھے ہوئے تھے، یہودیوں کی تینوں تجاویز کو کیوں رد کیا گیا؟

  

غزوہ خندق کے دوران مسلمانوں کے ساتھی یہودی قبیلے بنوقریظہ نے عین جنگ کی حالت میں بد عہدی کی اور مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا معاہدہ توڑ دیا، رسول اللہ ﷺ کو اس بات سے سخت صدمہ ہوا اور آپ نے تحقیق کیلئے  حضرت سعد بن معاذ ،سعد بن عبادہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کو تحقیق کے لیے روانہ فرمایا اور یہ حکم دیا کہ اگر یہ خبر صحیح نکلے تو وہاں سے واپس آکر اس خبر کو ایسے مبہم الفاظ میں بیان کرنا کہ لوگ سمجھ نہ سکیں اور اگر غلط ہو تو پھر علی الاعلان بیان کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ یہ حضرات بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گئے اور اس کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا گیا معاہدہ یاد دلایا تو کعب نے کہا کیسا معاہدہ اور کون محمد ؟میرا ان سے کوئی معاہدہ نہیں۔ غزوہ خندق کے اختتام پر یہودیوں کی اس بد عہدی پر  ان کے ساتھ جنگ کی گئی جس کو غزوہ بنو قریظہ کہا جاتا ہے، یہ غزوہ خندق کے فوری بعد ہوا جس میں یہودیوں کو ان کے کیے کی سزا ملی اور اللہ نے مسلمانوں کو فتح و کامیابی عطا کی۔

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ خندق سے فارغ ہو کر اپنے مکان میں تشریف لائے اور ہتھیار اتار کر غسل فرمایا، ابھی اطمینان کے ساتھ بیٹھے بھی نہ تھے کہ حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا کہ یا رسول اﷲ ! آپ نے ہتھیار اتار دیا لیکن ہم فرشتوں کی جماعت نے ابھی تک ہتھیار نہیں اتارا ہے، اﷲ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ آپ بنی قریظہ کی طرف چلیں کیونکہ ان لوگوں نے معاہدہ توڑ کر اعلانیہ جنگ خندق میں کفار کے ساتھ مل کر مدینہ پر حملہ کیا ہے۔

چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا کہ لوگ ابھی ہتھیار نہ اتاریں اور بنی قریظہ کی طرف روانہ ہو جائیں، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود بھی ہتھیار زیب تن فرمایا، اپنے گھوڑے پر جس کا نام ” لحیف ” تھا سوار ہو کر لشکر کے ساتھ چل پڑے اور بنی قریظہ کے ایک کنویں کے پاس پہنچ کر نزول فرمایا۔

جس وقت جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے وہ ظہر کا وقت تھا، آپ ایک خچر پر سوار تھے اور عمامہ باندھ رکھا تھا،  حضرت انس(رض) فرماتے ہیں کہ اللہ نے جب احزاب کو شکست دی تو بنی قریظہ قلعوں میں گھس گئے۔ جب جبرئیل امین فرشتوں کی جماعت کے ساتھ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوئے تو کوچہ بنی غنم تمام گردوغبار سے بھر گیا۔ حضرت انس(رض) فرماتے ہیں کہ وہ غبار کہ جو حضرت جبرائیل کی سواری سے کوچہ بنی غنم میں اُٹھا تھا وہ اب تک میری نظروں میں ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں اعلان کرنے کے لئے ایک منادی بھیج دیا جس نے آپ ﷺ کا یہ حکم لوگوں کو سنایا ’’کہ کوئی آدمی عصر کی نماز نہ پڑھے جب تک کہ بنو قریظہ میں نہ پہنچ جائے‘‘۔راستہ میں جب نماز عصر کا وقت آیا تو اختلاف ہوا بعض، نے کہا کہ ہم تو بنی قریظہ ہی پہنچ کر نماز پڑھیں گے، بعض نے کہا ہم نماز پڑھ لیتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کا یہ مقصد نہ تھا کہ نماز ہی قضا کر دی جائے بلکہ مقصد جلدی پہنچنا تھا۔ رسول کریم ﷺ کو جب صحابہ کرام  کے اس اختلافِ عمل کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے دونوں فریقوں میں سے کسی کے لئے اظہارِ ناراضی نہیں فرمایا بلکہ دونوں کی تصویب فرمائی۔

بنو قریظہ سے جہاد کے لئے نکلتے وقت رسول اللہ ﷺ نے جھنڈا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمایا، مسلمانوں کے لشکر میں تین ہزار صحابہ موجود تھے ۔ یہودیوں نے جب مسلمانوں کے آنے کی خبر سنی تو قلعہ بند ہوگئے،  جب مسلمانوں کا لشکر قلعے کے باہر پہنچا تو ۔۔۔۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

ویڈیو گیلری -روشن کرنیں -